اسکرونٹی کے بعد سی اے اے نے 193 پائلٹس کو نوٹسز جاری کردیے

اپ ڈیٹ 10 اگست 2020

ای میل

بورڈ نے 262 پائلٹس کو گراؤنڈ کر کے ان میں 28 کے لائسنس کی منسوخی کے لیے کابینہ سے منظوری لی تھی—فائل فوٹو: رائٹرز
بورڈ نے 262 پائلٹس کو گراؤنڈ کر کے ان میں 28 کے لائسنس کی منسوخی کے لیے کابینہ سے منظوری لی تھی—فائل فوٹو: رائٹرز

راولپنڈی: پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے 262 پائلٹس کی اسکروٹنی کا عمل مکمل کرلیا اور ’مشکوک‘ فضائی لائسنس کے حامل 193 مشتبہ پائلٹس کو نوٹسز جاری کردیے گئے۔

ذرائع کے مطابق سی اے اے انکوائری بورڈ کو 850 پائلٹس کی اسناد مشتبہ لگی تھیں جس میں 262 لائسنسز ’مشکوک‘ پائے گئے تھے چناچنہ بورڈ نے 262 پائلٹس کو گراؤنڈ کر کے ان میں 28 لائسنس کی منسوخی کے لیے کابینہ سے منظوری لی تھی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جن 193 پائلٹس کو اظہار وجوہ کے نوٹسز بھیجے گئے ہیں اس میں 140 نے اپنے جوابات جمع کروادیے ہیں جنہیں انکوائری کمیٹی مرحلہ وار طلب کررہی ہے تا کہ وہ اپنی پوزیشن واضح کرسکیں۔

یہ بھی پڑھیں: پائلٹس کو جاری کردہ تمام لائسنس درست ہیں، سی اے اے

ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ بقیہ پائلٹس کو نوٹس اس لیے نہیں بھیجے جاسکے کیوں کہ کچھ پائلٹس کے ناموں اور ان کے رجسٹریشن یا ریفرنس نمبر میں ’تکنیکی خامیاں‘ تھیں جنہیں دور کیا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ ایوی ایشن ڈویژن نے پائلٹس کے کیسز کی تحقیقات کے لیے ایک 5 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی جو پائلٹس کی اسناد کی جانچ پڑتال کر رہی ہے۔

دوسری جانب ایوی ایشن ڈویژن نے 5 سی اے اے عہدیداروں کے خلاف کیسز وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بھجوادیے یہں جنہیں مشکوک لائسنس جاری کرنے میں ملوث ہونے پر معطل کیا گیا تھا۔

ڈویژن نے اس امتحانی اسکینڈل میں ملوث سی اے اے کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کے خلاف بھی ایف آئی اے کی مدد طلب کرلی ہے۔

مزید پڑھیں: پائلٹس کے لائسنس جعلی یا مشکوک؟ اصل معاملہ آخر ہے کیا؟

ذرائع کا کہنا تھا کہ ایوی ایشن ڈویژن نے ایف آئی اے سے درخواست کی ہے کہ پائلٹس کو پروکیسز کے ذریعے امتحانات میں شرکت کے لیے مدد فراہم کرنے والے سی اے اے کے لائسنسنگ برانچ کے اہلکاروں، آئی ٹی ماہرین اور اس نیٹ ورک سے منسلک دیگر افراد کی شناخت کی جائے۔

ایوی ایشن ڈویژن کی ٹیم ممکنہ طور پر آئندہ ہفتے ایف آئی اے کے ماہرین کے ساتھ ایک اجلاس کرے گی جس میں سی اے اے کے معطل ہوجانے والے افسران کے کیسز پر نظر ثانی کی جائے گی۔

سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت سی اے اے نے امتحانی اسکینڈل میں ملوث پائلٹس کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:مشکوک لائسنس والے مزید 68 پائلٹس معطل

خیال رہے کہ 21 جولائی کو سپریم کورٹ نے پاکستان انٹرنیشل ایئر لائنز کے مشکوک لائسنس کے حامل پائلٹس کے خلاف انکوائری فوری مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔

پائلٹس کے 'مشکوک' لائسنسز کا معاملہ

خیال رہے کہ پائلٹس کے مشکوک یا جعلی لائسنسز کے معاملے کا آغاز 24 جون کو اس وقت ہوا جب قومی اسمبلی میں کراچی مسافر طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ 860 پائلٹس میں سے 262 ایسے پائے گئے جن کی جگہ کسی اور نے امتحان دیا تھا۔

جس کے بعد پاکستان نے 26 جون کو امتحان میں مبینہ طور پر جعل سازی پر پائلٹس کے لائسنسز کو 'مشکوک' قرار دیتے ہوئے انہیں گراؤنڈ کردیا تھا۔

غلام سرورخان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 'جن پائلٹس پر سوالات اٹھائے گئے ہیں وہ 262 ہیں، پی آئی اے میں 141، ایئربلیو کے 9، 10 سرین، سابق شاہین کے 17 اور دیگر 85 ہیں'۔

جس کے بعد پی آئی اے کی انتظامیہ نے اپنے 150 پائلٹس کو گراؤنڈ کرنے (کام کرنے سے روکنے) کا فیصلہ کیا تھا۔

29 جون کو ویتنام کی ایوی ایشن اتھارٹی نے عالمی ریگولیٹرز کی جانب سے پائلٹس کے ’مشکوک لائسنس‘ رکھنے کی تشویش پر مقامی ایئرلائنز کے لیے تمام پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کردیا تھا۔

اگلے روزیورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے یورپی ممالک کے فضائی آپریشن کا اجازت نامہ 6 ماہ کے لیے عارضی طور پر معطل کردیا تھا جس پر 3 جولائی سے اطلاق ہوا۔

اسی روز اقوام متحدہ کے ڈپارٹمنٹ آف سیفٹی اینڈ سیکیورٹی (یو این ڈی ایس ایس) نے پاکستانی ایئرلائن کو اپنی 'تجویز کردہ فہرست' سے ہٹا دیا تھا۔

جس کے بعد یکم جولائی کو برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنے 3 ایئرپورٹس سے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا جبکہ متحدہ عرب امارت نے بھی سول ایوی ایشن اتھارٹی سے مختلف فضائی کمپنیوں میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس اور انجینئرز کے کوائف کی تصدیق کی درخواست کی تھی۔

اس کے بعد 3 جولائی کو ملائشیا کے ایوی ایشن ریگولیٹر نے پاکستانی لائسنس رکھنے والے اور مقامی ایئر لائنز میں ملازمت کرنے والے پائلٹس کو عارضی طور پر معطل کردیا تھا۔

جس کے بعد 4 جولائی کو وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد مزید 30 ’مشتبہ لائسنس' کے حامل پائلٹس کو اظہار وجوہ کے نوٹسز بھیجے جاچکے ہیں۔

7 جولائی کو یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے 32 رکن ممالک کو 'پاکستان میں جاری کردہ پائلٹ لائسنسز سے متعلق مبینہ فراڈ' کے حوالے سے خط لکھا اور ان پائلٹس کو فلائٹ آپریشن سے روکنے کی سفارش کی تھی۔

اسی روز سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 'مشکوک' لائسنسز سے متعلق انکوائریاں مکمل ہونے کے بعد پی آئی اے کے 34 پائلٹس کے کمرشل فلائنگ لائسنسز معطل کردیے تھے۔

بعدازاں 9 جولائی کو امریکا نے بھی پاکستانیوں کی واپسی کے لیے قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کی خصوصی پروازوں کے اجازت نامے کو منسوخ کردیا تھا۔

10 جولائی کو ایوی ایشن ڈویژن نے مختلف ممالک کی ایئرلائنز میں کام کرنے والے 95 فیصد پائلٹس کے لائسنز کلیئر کردیے تھے جبکہ باقی کی تصدیق کا عمل آئندہ ہفتے مکمل کرنے سے متعلق آگاہ کیا تھا۔

بعدازاں 28 جولائی کو ایوی ایشن ڈویژن نے 194 معطل پائلٹس کے کیسز کی تحقیقات کے لیے ایک 5 رکنی کمیٹی قائم کردی تھی۔