کورونا سے نمٹنے کیلئے درکار فنڈز کی شرح انتہائی کم ہے، عالمی ادارہ صحت

اپ ڈیٹ 11 اگست 2020

ای میل

عالمی ادارہ صحت کے سربرہ جنیوا میں پریس کانفرنس کررہے تھے—فائل/فوٹو:رائٹرز
عالمی ادارہ صحت کے سربرہ جنیوا میں پریس کانفرنس کررہے تھے—فائل/فوٹو:رائٹرز

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ تیدروس ایدہانوم نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے درکار فنڈز اور موجودہ فنڈز میں 'عالمی سطح پر وسیع خلا' موجود ہے۔

خبر ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق تیدروس ایدہانوم نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے پاس اس حوالے سے صرف '10 فیصد استعداد ہے'۔

مزید پڑھیں: عالمی ادارہ صحت کا وائرس کی روک تھام کے لیے جارحانہ حکمت عملی اپنانے پر زور

دنیا بھر میں اب تک کورونا وائرس سے 7 لاکھ29 ہزار 883 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ایک کروڑ 99 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ کورونا وائرس کا پہلا کیس دسمبر 2019 میں چین میں رپورٹ ہوا تھا جس کے بعد اس وبا نے دنیا کے 210 سے زائد ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیا۔

جینیوا میں بریفنگ کے دوران تیدروس نے کووڈ-19 سے متعلق اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے تین مہینے دنیا بھر میں کورونا وائرس کے اثر کو بڑھانے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس پیش قدمی کو روکنے کے لیے ہمیں فنڈنگ میں اضافے کی ضرورت ہے اور نئے اقدامات کو ترجیح دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر ترجیحات اور موجودہ فنڈنگ میں وسیع خلا موجود ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت درکار اربوں ڈالر کے مقابلے میں سے صرف 10 فیصد کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی ادارہ صحت، 37 ممالک کا وائرس کے خلاف جنگ میں اتحاد کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ صرف ویکسین کے لیے 100 ارب ڈالر کی ضرورت ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ بڑے ہیمانے پر پیسے کی ضرورت ہے۔

تیدروس کا کہنا تھا کہ کورونا سے نمٹنے کے لیے اب تک جی20 ممالک کی جانب سے خرچ کیے گئے10 کھرب ڈالر کے مقابلے میں یہ رقم چھوٹی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری امیدیں بحال ہیں اور پوری ہوتی نظر آرہی ہیں۔

بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ وبا کو ختم کرنے کے لیے دیر نہیں ہوئی اور پیغام واضح ہے کہ اس کو ختم کریں۔

عالمی ادارہ صحت کے ایمرجنسیز پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر مائیک ریان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سادہ، بےرحم اور ظالم ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'عام طور پر یہ ظالم ہے، اس کی ظلمت بے رحم ہے لیکن اس کے پاس دماغ نہیں ہے اور ہمارے پاس دماغ ہے، اس لیے ہم ایک ایسی چیز کو روک سکتے ہیں جو دماغ سے خالی ہو'۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'ہم اس وقت شان دار کام نہیں کر رہے ہیں'۔

مزید پڑھیں: ڈبلیو ایچ او کی کورونا سے نمٹنے، پھیلاؤ روکنے کیلئے پاکستان کے اقدامات کی تعریف

ڈاکٹر مائیک ریان نے کہا کہ برازیل میں روزانہ 50 ہزار سے 60 ہزار کیسز سامنے آرہے ہیں، وہاں وبا کی خطرناک صورت حال ہے۔

برازیل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہاں گراف کم نہیں ہو رہا ہے تاہم برابر چل رہا ہے اور اسی لیے نظام شدید دباؤ کے زیر اثر ہے۔

برازیلین صدر جیئر بولسونارو کی جانب سے کووڈ-19 کے خلاف ملیریا کی دوا استعمال کرنے کی حوصلہ افرائی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'اس طرح کے حالات میں ہائیڈروکلوروکوئین کوئی حل نہیں ہے اور نہ ہی سونے کی گولی ہے'۔