حنا دلپذیر نے طلاق کے بعد دوسری شادی کیوں نہیں کی؟

اپ ڈیٹ 11 اگست 2020

ای میل

اداکارہ نے حال ہی میں پہلی بار اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے کھل کر بات کی—اسکرین شاٹ یوٹیوب
اداکارہ نے حال ہی میں پہلی بار اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے کھل کر بات کی—اسکرین شاٹ یوٹیوب

'بلبلے' اور 'قدوسی صاحب کی بیوہ' جیسے ڈراموں میں شاندار اداکاری سے لوگوں کے دل میں گھر کرنے والی اداکارہ حنا دلپذیر نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں شوہر نے جوانی میں ہی بلاوجہ مذاق میں طلاق دے دی تھی۔

اداکارہ و ماڈل عفت عمر کے یوٹیوب شو میں بات کرتے ہوئے حنا دلپذیر نے پہلی بار اپنی ذاتی زندگی، کیریئر اور ڈراما انڈسٹری سمیت دیگر مسائل پر کھل کر بات کی۔

انٹرویو کے دوران اپنی ابتدائی زندگی سے متعلق بات کرتے ہوئے حنا دلپذیر نے کہا کہ انہیں ٹھیک طرح سے یاد نہیں کہ ان کی شادی کب ہوئی، تاہم ان کا اندازہ ہے کہ 1992 میں ان کی شادی ہوئی ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ان کی شادی ایک طرح سے پسند کی شادی ہی تھی، کیوں کہ انہیں دیکھتے ہی شوہر پسند آگئے تھے۔

اداکارہ نے اعتراف کیا کہ شاید دیکھتے ہی اس لیے انہیں شوہر پسند آئے، کیوں کہ وہ عمر ہی ایسی ہوتی ہے کہ ہر کوئی دیکھتے ہی پسند آجاتا ہے۔

حنا الپذیر کے مطابق حقیقی زندگی میں بلبلے کے کردار کی طرح نہیں ہوں — اسکرین شاٹ
حنا الپذیر کے مطابق حقیقی زندگی میں بلبلے کے کردار کی طرح نہیں ہوں — اسکرین شاٹ

انہوں نے سابق شوہر کی تعریف کرتے ہوئے انہیں نیک دل اور اچھا انسان قرار دیا اور اُمید ظاہر کی کہ اب تک وہ ماضی کی طرح بہترین انسان ہی ہوں گے۔

حنا دلپذیر نے بتایا کہ انہیں شوہر نے ایک دن غصے میں آکر طلاق دے دی تھی تاہم انہوں نے غصے کی وجہ بیان نہیں کی اور بتایا کہ اس وقت تک ان کے ہاں ایک بیٹا بھی پیدا ہوچکا تھا، جس کی عمر اس وقت 3 سے 4 سال کے درمیان تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ’سات دن محبت ان‘ میں حنا دلپذیر بھی کاسٹ

اداکارہ نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ ان کی طلاق کس سال ہوئی، تاہم ان کی باتوں سے عندیہ ہوتا ہے کہ شادی کے چند سال بعد ہی ان کی طلاق ہوگئی تھی اور اس وقت ان کی عمر 30 سال سے کم تھی۔

حنا دلپذیر کے مطابق ان کے اور ان کے سابق شوہر کے درمیان کوئی اختلافات نہیں تھے۔

طلاق کے بعد تاحال دوسری شادی کرنے پر بات کرتے ہوئے حنا دلپذیر نے ذو معنی اور مبہم باتیں کیں اور بتایا کہ طلاق کے بعد انہیں اتنی فرصت ہی نہیں ملی کہ وہ خود سے متعلق کچھ سوچیں اور انہوں نے خود کو کبھی فرصت دی ہی نہیں۔

انہوں نے عفت عمر کے اسرار پر وضاحت کی کہ انہیں کسی کی بھی تلاش نہیں ہے اور وہ کسی کے انتظار میں نہیں ہے لیکن زندگی جو ان سے کروانا چاہے گی وہ کریں گی۔

حنا دلپذیر فیشن شوز کا حصہ بھی بنتی رہی ہیں—فوٹو: فیس بک
حنا دلپذیر فیشن شوز کا حصہ بھی بنتی رہی ہیں—فوٹو: فیس بک

کیریئر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حنا دلپذیر نے بتایا کہ طلاق کے کئی سال بعد انہوں نے ریڈیو سے کیریئر کا آغاز کیا، جس کے بعد انہیں اداکارہ ثانیہ سعید اور ان کے شوہر کے ایک ڈرامے میں مختصر کردار کرنے کا موقع ملا اور پھر وہیں سے اداکاری کی شروعات ہوئی۔

حنا دلپذیر کے مطابق معروف ڈرامے 'بلبلے' کے کردار 'مومو' کا ان کی ذاتی زندگی سے کوئی تعلق نہیں، وہ حقیقی زندگی میں اس کردار سے بہت مختلف ہیں۔

مزید پڑھیں: حنا دلپذیر پاکستانی ٹی وی چینلز کی حکمران حسیناؤں میں سے ایک

حنا دلپذیر نے پاکستانی شوبز انڈسٹری پر بھی بات کی اور کہا کہ کہانی لکھنے والے افراد جس طرح کی کہانیاں لکھیں گے معاشرے میں ایسے ہی اثرات ہوں گے۔

ایک سیگمنٹ میں انہوں نے ماہرہ خان کے مقابلے میں مایا علی کو بہترین اداکارہ قرار دیا جب کہ نواز شریف کے مقابلے عمران خان کو بہتر سیاستدان بھی قرار دیا۔

اسی سیگمنٹ میں انہوں نے صبا قمر کو مہوش حیات سے بہتر، ہمایوں سعید کے مقابلے فواد خان کو اچھا جب کہ شان کو معمر رانا سے بہتر قرار دیا۔

اسی سیگمنٹ میں انہوں نے سونیا حسین سے اقرا عزیز کو اچھا، اشنیٰ شاہ کے بر عکس سجل علی، بشریٰ انصاری کے مقابلے صبا حمید اور ڈراما نگار خلیل الرحمٰن قمر سے فصیح الدین بخاری کو اچھا قرار دیا۔

خیال رہے کہ حنا دلپذیر نے 2005 کے بعد اداکاری کا آغاز کیا تھا، انہوں نے 4 درجن کے قریب ڈراموں سمیت ٹیلی فلموں اور فیچر فلموں میں بھی کام کیا ہے۔

حنا دلپذیر ریئلٹی شوز کی میزبانی بھی کرتی رہی ہیں، انہیں مزاحیہ کرداروں کی وجہ سے کافی شہرت حاصل ہوئی، تاہم وہ منفی سمیت ہر طرح کے کردار ادا کر چکی ہیں۔