نیب دفتر کے باہر ہنگامہ آرائی، مسلم لیگ (ن) کے کارکنان 14 روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقل

اپ ڈیٹ 12 اگست 2020

ای میل

پولیس نے نیب کی درخواست پر مسلم لیگ (ن) کے 300 رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا —تصویر: اے ایف پی
پولیس نے نیب کی درخواست پر مسلم لیگ (ن) کے 300 رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا —تصویر: اے ایف پی

مریم نواز کی قومی احتساب بیورو (نیب) کے دفتر میں پیشی کے موقع پر ہنگامہ آرائی کے سلسلے میں گرفتار کیے گیے مسلم لیگ (ن) 58 کارکنان کو 14 روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز مریم نواز انکوائری کے سلسلے میں پیش ہونے کے لیے پہنچیں تو نیب دفتر کے باہر پولیس اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنان میں تصادم ہوا تھا۔

اس جھڑپ کے نتیجے میں سرکاری اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے اور پولیس نے بھی آنسو گیس کے شیل فائر کرنے کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے کارکنان پر پتھراؤ کیا، دونوں فریقین ایک دوسرے پر تصادم شروع کرنے کا الزام لگاتے رہے جبکہ پولیس نے درجنوں افراد کو گرفتار بھی کیا تھا۔

آج پولیس نے ضلع کچہری کی عدالت میں 58 گرفتار کارکنان کو پیش کر کے ان کے 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم و دیگر کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر پولیس سے جواب طلب

جوڈیشل مجسٹریٹ حافظ نفیس یوسف نے کیس کی سماعت کی جس میں تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزمان سے تفتیش اور برآمدگی کے لیے 8 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے۔

مسلم لیگ (ن) کے کارکنان کی پیروی ان کے وکیل فرہاد علی شاہ نے کی، جنہوں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ کارکنان بھی اس ملک کے شہری ہیں اور ملک کا آئین ہر شخص کو اجازت دیتا ہے کہ جہاں مرضی جائیں۔

وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کی جانب سے کارکنوں پر بیہمانہ تشدد کیا گیا، یہاں نیب کی مرضی نہیں چلے گی۔

وکیل فرہاد علی شاہ کے مطابق مقدمے میں شامل 6 دفعات قابل ضمانت ہیں، اس کیس میں دفعہ 440 کا اطلاق نہیں ہوتا کیوں کہ کسی کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 440 کہتی ہے کہ ’جو کوئی کسی شخص کو ہلاک کرنے یا نقصان پہنچانے یا مزحمتِ بے جا میں رکھنے یا ہلاکت، ضرر، مزاحمت نے جا کا خوف پیدا کرنے کی تیاری کے بعد نقصان رسانی کا ارتکاب کرے تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لیے دی جائے جو 5 سال تک ہوسکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستحق ہوگا‘۔

مزید پڑھیں: مریم نواز سمیت مسلم لیگ (ن) کے 300 رہنماؤں، کارکنان کے خلاف مقدمہ درج

وکیل نے مزید کہا کہ پولیس نے جس کو چاہا مارا ہے، قانون کے مطابق تمام ملزمان کو اس مقدمے سے ڈسچارج کیا جائے تاہم عدالت نے پولیس کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے تمام ملزمان کو 14 روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

علاوہ ازیں تمام ملزمان کی جانب سے ضلع کچہری کی عدالت میں ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست بھی جمع کروائی گئی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ جھوٹے اور بے بنیاد مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے، وقوعہ سے ملزمان کا کوئی تعلق نہیں ہے، کارکنان کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا، گرفتار کارکنوں کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔

خیال رہے کہ رات گئے چونگ پولیس نے نیب کی شکایت پر مریم نواز سمیت مسلم لیگ (ن) کے 300 کارکنان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا جس میں 187 افراد کو قانون نافذ کرنے والوں اور نیب عہدیداروں پر حملہ کرنے اور نیب کی عمارت کو نقصان پہنچانے پر مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کی نیب میں پیشی کے موقع پر کارکنان اور پولیس میں تصادم

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ملزمان میں نیب کے روز مرہ کے دفتری امور کو تباہ کیا اور کارِ سرکار میں مداخلت کی، یہ شرپسدانہ حرکت مریم صفدر ان کے شوہر صفدر اعوان کی جانب سے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی گئی۔

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ جاتی عمرہ سے گاڑیوں میں پتھر بھر کے لائے گئے، مریم نواز کے اشتعال دلانے پر کارکنان کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جمع ہوئے جسے پولیس نے منتشر ہونے کا حکم دیا لیکن کارکنان نے اپنے رہنماؤں کی قیادت میں وردی میں ملبوس پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جس سے 13 اہلکار زخمی ہوئے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ چونگ پولیس ان کی شکایت پر کارروائی نہیں کررہی لہٰذا آج کیپٹن (ر) صفدر نے فرہاد علی شاہ ایڈووکیٹ کے توسط سے عدالت میں درخواست دائر کی جس میں مریم نواز کی نیب میں پیشی پر 'حملہ' کرنے کے الزام میں وزیراعظم عمران خان، مشیر داخلہ شہزاد اکبر سمیت دیگر کے خلاف مقدمے کے اندراج کی استدعا کی گئی۔

سیشن عدالت ک نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما کی دائر درخواست پر پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔