سپریم کورٹ: گیس کمپنیوں کی اپیلیں خارج، 417 ارب روپے ادا کرنے کا حکم

اپ ڈیٹ 13 اگست 2020

ای میل

جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلے میں اختلافی نوٹ لکھا—فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ
جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلے میں اختلافی نوٹ لکھا—فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ

سپریم کورٹ نے گیس انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) کے خلاف گیس کمپنیوں کی تمام اپیلیں خارج کر تے ہوئے انہیں حکومت کو 417 ارب روپے ادا کرنے حکم دے دیا۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے جی آئی ڈی سی سے متعلق کیس کا فیصلہ 20 فروری کو منظور کیا تھا۔

فیصلہ ایک جج کے مقابلے میں 2 کی اکثریت سے سنایا گیا جبکہ جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلے میں اختلافی نوٹ لکھا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق کمپنیوں کو گیس انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس کی مد میں حکومت کو 417 ارب روپے ادا کرنے ہوں گے۔

سپریم کورٹ نے جی آئی ڈی سی سیس ٹیکس کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کو ٹیکس لینے کی اجازت دے دی۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: گیس انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ

سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ پارلیمان نے 2015 میں گیس انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس ایکٹ (جی آئی ڈی سی، 2015) منظور کیا تھا جس کے تحت گھریلو صارفین کے سوا قدرتی گیس استعمال کرنے والے تمام صارفین پر سیس عائد کیا گیا تھا۔

جس پر صنعتی اور کمرشل صارفین نے سندھ ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کی تھیں جس میں جی آئی ڈی سی ایکٹ کو آئین کے خلاف قرار دیا گیا تھا جس پر سندھ ہائی کورٹ نے اس لیوی کو غیر آئینی قرار دیا تھا تاہم پشاور ہائی کورٹ نے اس ایکٹ کو آئین کے مطابق قرار دیا تھا۔

بعدازاں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔

جس کا حکم سناتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے کہا کہ تمام صنعتی اور کمرشل ادارے جو کاروباری مقاصد کے لیے گیس استعمال کرتے ہیں وہ اس کا بوجھ اپنے صارفین پر منتقل کرتے ہیں لہٰذا 31 جولائی 2020 تک ’سیس‘ کے تمام زیر التوا واجبات جو ابھی تک اکٹھے نہیں کیے گئے وہ کمپنیوں سے حاصل کیے جائیں گے۔

تاہم رعایت کے طور پر یہ وصولی تاخیری ادائیگی کے سرچارج کے بغیر یکم اگست 2020 سے 24 مہینوں کی مساوی اقساط کی صورت میں کی جاسکتی ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مالی سال 21-2020 کے بقیہ عرصے میں سی این جی کی فروخت کی قیمت مقرر کرتے ہوئے اوگرا سے مشاورت نہیں کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: جی آئی ڈی سی کی جانچ پڑتال، فنڈز کے استعمال پر سوالات

فیصلے میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت 6 ماہ میں نادرن-ساؤتھ پائپ لائن کے کام کا آغاز کرنے کے لیے تمام اقدامات اٹھائے گی جبکہ افغانستان میں تاپی پائپ لائن بچھانے کا کام جب اس نکتے تک پہنچ جائے کہ جہاں سے پاکستان کی سرزمین پر کام کا آغاز ہوسکے، حکومت جلد از جلد اس پر کام کرے گی۔

دوسری جانب ایران پاکستان (آئی پی) پائپ لائن کا کام ایران پر عائد پابندیوں کے ہٹنے اور رکاوٹیں دور ہونے کے فوری بعد کیا جائے گا۔

عدالت نے قرار دیا کہ اگر مقررہ مدت میں نادرن-ساؤتھ پائپ لائن پر کام نہیں کیا گیا اور دونوں بڑی پائپ لائنوں (آئی اور تاپی) بچھانے کا کام بھی سیاسی حالات کی بنا پر نہ ہوسکا تو سیس لگانے کا مقصد ختم ہوجائے گا اور جی آئی ڈی سی ایکٹ 2015 مستقل طور پر غیر فال ہوجائے گا اور اسے مردہ سمجھا جائے گا۔

یاد رہے کہ جی آئی ڈی سی کے معاملے پر سپریم کورٹ میں کئی درخواستیں دائر ہیں، جن میں سے ایک درخواست پشاور ہائی کورٹ کے 31 مئی 2017 کے احکامات کے خلاف خیبر پختونخوا کے 499 سی این جی اسٹیشنز کی جانب سے مشترکہ طور پر سینئر وکیل مخدوم علی خان نے دائر کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: 'حکومت گیس سیس کو انفرا اسٹرکچر پر خرچ نہیں کر رہی'

درخواست میں سی این جی اسٹیشنز کو ملنے والی گیس پر جی آئی ڈی سی لاگو کرنے اور اسے اکٹھا کرنے کو روکنے کے احکامات کا مطالبہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ جی آئی ڈی سی کا معاملہ اس وقت متنازع ہوا جب حکومت نے گزشتہ برس متنازع آرڈیننس جاری کیا تھا، جس کے تحت فرٹلائزر، جنرل انڈسٹری، آئی پی پیز، پاور جنریشن، کے الیکٹرک اور سی این جی سیکٹر وغیرہ جیسے بڑے کاروبار کو 210 ارب روپے کی مالیاتی ایمنسٹی فراہم کی جانی تھی۔

تاہم اپوزیشن کی جانب سے سخت تنقید پر حکومت کی جانب سے آرڈیننس واپس لے لیا گیا تھا۔

پی ٹی آئی حکومت نے 27 اگست کو صدارتی آرڈیننس جاری کیا تھا جس کے تحت صنعتوں سے 420 ارب روپے کے جی آئی ڈی سی تنازع کے حوالے سے تصفیے کی پیشکش کی گئی تھی۔

آرڈیننس میں کہا گیا تھا کہ صنعت، فرٹلائزر اور سی این جی کے شعبے 50 فیصد بقایاجات کو 90 روز میں جمع کرواکر مستقبل کے بلوں میں 50 فیصد تک رعایت حاصل کرسکتے ہیں جبکہ انہیں اس حوالے سے عدالتوں میں موجود کیسز بھی ختم کرنے ہوں گے ‏