نیب دفتر کے باہر ہنگامہ آرائی، مسلم لیگ (ن) کے گرفتار کارکنان کی ضمانت منظور

اپ ڈیٹ 13 اگست 2020

ای میل

عدالت نے گزشتہ روز ملزمان کو 14 روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی
عدالت نے گزشتہ روز ملزمان کو 14 روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی

ضلع کچہری کی عدالت نے مریم نواز کی پیشی کے وقت نیب آفس پر پتھراؤ اور لڑائی جھگڑے کے مقدمے میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کے تمام گرفتار کارکنان کی ضمانتیں منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ حافظ نفیس نے مسلم لیگ (ن) کے گرفتار کارکنان کی جانب سے ضمانت کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔

درخواست ضمانت گزشتہ روز دائر کی گئی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ملزمان کو جھوٹے اور بے بنیاد مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے، وقوعہ سے ملزمان کا کوئی تعلق نہیں ہے، کارکنان کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا، گرفتار کارکنوں کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔

عدالت نے 50، 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض مسلم لیگ (ن) کے گرفتار 58 ملزمان کی درخواست ضمانت منظور کی۔

یہ بھی پڑھیں: نیب دفتر کے باہر ہنگامہ آرائی، مسلم لیگ (ن) کے کارکنان 14 روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقل

ملزمان کی جانب سے وکیل فرہاد علی شاہ پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کو سیاسی کیس میں نامزد کیا گیا ہے، ملزمان پر درج کردہ ایف آئی آر جھوٹی اور بے بنیاد ہے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ ملزمان سے کسی قسم کی کوئی ریکوری نہیں ہونی ہے لہذا ملزمان کو جیل میں قید رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کی ضمانتیں منظور کر کے رہائی کا حکم دیا جائے، ملزمان ضمانتی مچلکے جمع کروانے کے لیے تیار ہیں۔

دوسری جانب سے سرکاری وکیل نے ملزمان کے کیس کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا۔

سرکاری وکیل نے مسلم لیگ (ن) کے کارکنان کی ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کو جائے وقوع سے گرفتار کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: مریم نواز سمیت مسلم لیگ (ن) کے 300 رہنماؤں، کارکنان کے خلاف مقدمہ درج

سرکاری وکیل نے کہا تھا کہ ملزمان نے کار سرکار میں مداخلت کی اور نیب آفس کے باہر توڑ پھوڑ کی لہٰذا عدالت تمام ملزمان کی ضمانت مسترد کرے۔

تاہم عدالت نے پروسیکیوشن کے دلائل سننے کے بعد 50، 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ملزمان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا فیصلہ سنادیا۔

خیال رہے کہ 11 اگست کو جب مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز انکوائری کے سلسلے میں پیش ہونے کے لیے پہنچیں تو نیب دفتر کے باہر پولیس اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنان میں تصادم ہوا تھا۔

اس جھڑپ کے نتیجے میں سرکاری اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے اور پولیس نے بھی آنسو گیس کے شیل فائر کرنے کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے کارکنان پر پتھراؤ کیا، دونوں فریقین ایک دوسرے پر تصادم شروع کرنے کا الزام لگاتے رہے جبکہ پولیس نے درجنوں افراد کو گرفتار بھی کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں؛ وزیراعظم و دیگر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر پولیس سے جواب طلب

جس کے بعد پولیس نے ضلع کچہری کی عدالت میں 58 گرفتار کارکنان کو پیش کر کے ان کے 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے انہیں 14 روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

11 اگست کی رات کو چونگ پولیس نے نیب کی شکایت پر مریم نواز سمیت مسلم لیگ (ن) کے 300 کارکنان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا جس میں 187 افراد کو قانون نافذ کرنے والوں اور نیب عہدیداروں پر حملہ کرنے اور نیب کی عمارت کو نقصان پہنچانے پر مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ملزمان میں نیب کے روز مرہ کے دفتری امور کو تباہ کیا اور کارِ سرکار میں مداخلت کی، یہ شرپسدانہ حرکت مریم صفدر ان کے شوہر صفدر اعوان کی جانب سے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی گئی۔

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ جاتی عمرہ سے گاڑیوں میں پتھر بھر کے لائے گئے، مریم نواز کے اشتعال دلانے پر کارکنان کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جمع ہوئے جسے پولیس نے منتشر ہونے کا حکم دیا لیکن کارکنان نے اپنے رہنماؤں کی قیادت میں وردی میں ملبوس پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جس سے 13 اہلکار زخمی ہوئے۔