مغربی کنارے کا الحاق اب بھی زیر غور ہے، اسرائیلی وزیر اعظم

اپ ڈیٹ 14 اگست 2020

ای میل

یروشلم: اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدے کے حصے کے طور پر مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق میں تاخیر پر راضی ہو گئے ہیں لیکن منصوبہ اب بھی 'زیر غور' ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ معاہدے میں انہوں نے مغربی کنارے کے ساتھ الحاق کے منصوبوں کو 'موخر' کیا تھا لیکن وہ 'اپنی سرزمین پر حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے'۔

نیتن یاہو، یہودی ریاست میں کئی لوگوں کی طرح مقبوضہ مغربی کنارے کو یہودیہ اور سامریہ بتاتے ہیں اور اس علاقے کو یہودیوں کے تاریخی آبائی حصے کے طور پر دعوی کرتے ہیں۔

معاہدے سے الحاق کا ٹائم بم ہٹادیا گیا، یو اے ای

متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے خارجی امور انور گرگاش کا کہنا تھا کہ 'جب تک اسرائیل اور فلسطین کے درمیان معاہدہ نہیں ہوجاتا ہم یقینی طور پر یروشلم میں کچھ بھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے مغرب ہو یا مشرق'۔

انہوں نے اسرائیل اور فلسطین کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی اپیل کی مگر کہا کہ یہ معاملہ متحدہ عرب امارات کے ہاتھ میں نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان 'تاریخی امن معاہدہ'

متحدہ عرب امارات کے سینئر عہدیدار انور گرگش نے کہا کہ اس معاہدے سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے منصوبہ بند آباد کاریوں کا ٹاائم بم ناکارہ بنانے میں مدد ملی ہے جس سے اسرائیل اور فلسطینی تنازع کے دو ریاستی حل کو خطرات لاحق تھے۔

انور گرگاش نے کہا کہ معاہدہ جرات مندانہ مگر خطے کے لیے ایک ضروری قدم تھا۔

انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ بہت بٹا ہوا ہے، آپ معمول کا شور سنیں گے لیکن مجھے لگتا ہے کہ آگے بڑھنا ضروری ہے'۔

بیان میں کہا گیا کہ ایک خطے کے کاروباری اور سرمایہ کاری کے مرکز، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے وفود آئندہ ہفتوں میں سرمایہ کاری، سیاحت، براہ راست پروازوں، سلامتی، ٹیلی کمیونکیشن اور دیگر امور سے متعلق دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کریں گے۔

معاہدہ 'شرمناک' ہے، ایران

ایران کی خبررساں ایجنسی تسنیم نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمین تعلقات معمول پر لانے کے معاملے کو 'شرمناک' قرار دیا۔

ایران کے علما کرام نے ابھی تک اس معاہدے پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے مشرق وسطی کے دو ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے کے کے لیے ایک معاہدے پر اتفاق کیا ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔

معاہدے سے فلسطین کاز کو نقصان پہنچے گا، حماس

غزہ پٹی کے اسلام پسند رہنماؤں کی جماعت حماس نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تاریخی معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے فلسطین کاز کو نقصان پہنچے گا۔

یہ بھی پڑھیں: او آئی سی نے ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ کا امن منصوبہ مسترد کردیا

حماس کے ترجمان حازم قاسم کا کہنا تھا کہ 'متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدہ اسرائیلی قبضے اور جرائم کا صلہ ہے'۔ مصر کی معاہدے کی تعریف

مصر معاہدے کا معترف

مصری صدر عبد الفتاح السیسی نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدے کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی الحاق رک جائے گا۔

انہوں نے ٹوئٹ کی کہ 'میں نے فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کے الحاق کو روکنے کے بارے میں امریکا، برادرانہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان مشترکہ بیان دلچسپی اور تحسین کے ساتھ پڑھا'۔

انہوں نے کہا کہ اس سے مشرق وسطی میں 'امن' قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

1979 میں مصر اور اسرائیل نے یہودی ریاست اور ایک عرب قوم کے درمیان پہلی بار امن معاہدے پر دستخط کیے تھے جس سے مشرق وسطی کے سفارتی اور فوجی تعلقات میں تیزی آئی تھی۔

مصر نے غزہ پٹی کو کنٹرول کرنے والے حماس اور اسرائیل کے درمیان طویل عرصے سے ثالثی کا کردار بھی ادا کیا ہے۔