ہنگو میں غیرمعروف تنظیم کے خواتین کی شاپنگ پر پابندی کے پوسٹرز

اپ ڈیٹ 17 اگست 2020

ای میل

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ دکاندار بھی محرم کے بغیر آنے والی خواتین کو روکیں—فائل/فوٹو:ڈان
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ دکاندار بھی محرم کے بغیر آنے والی خواتین کو روکیں—فائل/فوٹو:ڈان

خیبرپختونخوا کے علاقے ہنگو میں پاسبان دوآبہ نامی تنظیم نے خواتین پر شاپنگ کرنے کی پابندی عائدکرنے کے پوسٹر لگا دیے اور دکانداروں کو عمل نہ کرنے پر جرمانے کی تنبیہ کردی۔

غیرمعروف تنظیم کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا کہ 'تاجروں کو آگاہ کیاجارہا ہے کہ محرم یا قریبی رشتہ دار کے بغیر خواتین کی شاپنگ کا رواج معمول بنتا جارہا ہے'۔

نوٹس میں کہا گیا کہ 'یہ پختون اقدار اور اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی سے جس سے گناہ اور فحاشی جنم لے سکتی ہے'۔

یہ بھی پڑھیں:خواتین بنا محرم کے باہر نہ نکلیں، کرک علما کا فیصلہ

تاجروں کو بتایا گیا ہے کہ 'پاسبان دوآبہ اور بڑوں نے فیصلہ کیا ہے کہ خواتین پر بغیرقریبی رشتہ دار کے بازار میں داخلے کی پابندی ہوگی'۔

پوسٹر میں عمل نہ کرنے پر کارروائی کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 'اگر کسی دکاندار نے کسی خاتون کو قریبی رشتہ کے ساتھ کے بغیر آنے کی اجازت دی تو اس پر 50 ہزار روپے کا جرمانہ ہوگا'۔

تنظیم نے کہا ہے کہ 'خلاف ورزی کی صورت میں دکان کو 7 روز کے لیے سیل کردیا جائے گا اور اگر خلاف ورزی دہرانے پر تاجر سے ان کا دکان خالی کروادیا جائے گا'۔

بعد ازاں اسی تنظیم نے ایک اور نوٹس جاری کردیا اور مزید وضاحت کردی۔

پاسبان دوآبہ کے لیٹر پر جاری نوٹس میں کہا گیا کہ 'پاسبان دوآبہ اور بڑوں کی جانب سے ایک نوٹس جاری کیا گیا تھا اور اگر وہ ملک کے کسی قانون کی خلاف ورزی ہے تو وہ معذرت خواہ ہیں'۔

یاد رہے 2013 میں ضلع کرک میں مقامی علما نے خواتین کومحرم کے بغیر بازاروں میں جانے پر پابندی عائد کردی تھی۔

مقامی تنظیم کے تحت تحصیل مصید میں مقامی علما کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جہاں کہا گیا تھا کہ شہر کے بازاروں میں محرم کے بغیر گھومنے والی خواتین بے حیائی پھیلا رہی ہیں اس لیے ان کو روکا جائے۔

فیصلے کے بعد علما نے عمل درآمد کے لیے مقامی انتظامیہ اور پولیس سے بھی ملاقات کی تھی لیکن پولیس نے فیصلہ ماننے سے انکار کردیا تھا۔

کرک کی مقامی تنظیم نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ بہت سی خواتین خصوصاً ماہ رمضان میں ' بے حیائی ' اور 'فحاشی ' کے فروغ کی وجہ بن رہی ہیں اور ان خواتین کا گروہ چوری چکاری میں بھی ملوث ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ روز مرہ ضرورت کی اشیا خریدنے والی خواتین مردوں کے ساتھ ہوں گی انہیں نہیں روکا جائے گا۔