ریکارڈ بارش سے کراچی سمیت سندھ بھر میں سیلابی صورتحال، 7 افراد جاں بحق

ای میل

آرمی چیف کی ہدایت پر پاک فوج امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہے —تصویر: اے ایف پی
آرمی چیف کی ہدایت پر پاک فوج امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہے —تصویر: اے ایف پی
سیلابی ریلا آبادی میں داخل ہونے سے مکین نقل مکانی پر مجبور ہوگئے — تصویر: اے ایف پی
سیلابی ریلا آبادی میں داخل ہونے سے مکین نقل مکانی پر مجبور ہوگئے — تصویر: اے ایف پی
کئی علاقوں میں 6 فٹ تک پانی کھڑا ہے—تصویر: اے ایف پی
کئی علاقوں میں 6 فٹ تک پانی کھڑا ہے—تصویر: اے ایف پی
پاک فوج متاثرہ علاقوں سے مکینوں کا انخلا کروارہی ہے—تصویر: ڈان نیوز
پاک فوج متاثرہ علاقوں سے مکینوں کا انخلا کروارہی ہے—تصویر: ڈان نیوز

کراچی سمیت سندھ بھر کے مختلف علاقوں میں مون سون کے چھٹے اسپیل کے دوران ریکارڈ بارش سے سیلابی حالات پیدا ہوگئے ہیں اور بچوں سمیت مزید 7 افراد جاں بحق ہوگئے۔

کراچی میں بارش کے بعد جمع ہونے والے پانی میں ڈوب کر 6 اور ایک شہری کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا جبکہ مزید کئی افراد کے ڈوبنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

انتظامیہ، امدادی کارکنوں اور عینی شاہدین کے مطابق ملیر ندی میں ڈوبے ہوئے افراد کی تلاش کے دوران ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کی کشتی بھی الٹ گئی، تاہم ماہی گیروں نے انہیں معجزاتی طور پر بچا لیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی سمیت سندھ بھر میں بارشوں سے تباہی، صوبے میں رین ایمرجنسی نافذ

میمن گوٹھ پولیس کا کہنا تھا کہ ملیر ندی سے 18 سالہ نوجوان کی لاش نکالی گئی جو گزشتہ روز ڈوب گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ نوجوان کی شناخت نعمان کے نام سے ہوئی اور ان کی لاش ندی کے پانی میں تیر رہی تھی۔

ایس ایچ او رانا عبداللطیف کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز ملیر ندی پانی سے بھرگئی اور پانی ندی سے باہر آگیا تھا جس کے نتیجے میں تقریباً 30 سے 35 افراد ڈوب گئے تھے، تاہم تمام افراد کو بچالیا گیا تھا۔

شاہ لطیف ٹاؤن کے ایس ایچ او عبیداللہ خان نے کہا کہ امجد مسیح نامی شہری بارش کے پانی سے بھر جانے والی ملیر ندی میں نہاتے ہوئے ڈوب کر جاں بحق ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ جاں بحق شہری بارش کے دوران وہاں پکنک منانے کے لیے گئے تھے۔

ایس ایچ او نے کہا کہ ایک اور 20 سالہ نوجوان عبدالرحمٰن سکھن ندی میں تیرتے ہوئے جاں بحق ہوا۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ 35 سالہ نعمان عالم گزشتہ روز شاہ فیصل کالونی نمبر میں بارش کے پانی میں ڈوب گئے تھے، جبکہ ایدھی کے تیراکوں نے ان کی لاش آج ندی سے نکال لی۔

ریسکیو سروسز کے مطابق گزشتہ روز ہی سموں گوٹھ ملیر میں تین بچے ڈوب گئے تھے، جن میں سے 5 سالہ سمیرا دم توڑ گئی تھی اور ان کی لاش آج نکال لی گئی ہے۔

انتظامیہ کے مطابق سائٹ بی ایریا میں نالے میں گر کر 11 سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا۔

کراچی کے علاقے ایوب گوٹھ میں کرنٹ لگنے سے 48 سالہ شہری دم توڑ گیا۔

کراچی سمیت سندھ بھر میں سیلابی صورتحال

بارش کے باعث شہر کے چھوٹے نالے ابل پڑے جبکہ ندیاں بھی اوور فلو ہوگئیں اور ان کا پانی اطراف کے علاقوں میں داخل ہوگیا جس کے باعث وہاں کے مکین چھتوں پر پناہ لینے یا نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

ریکارڈ بارشوں کے باعث شہر کی صورتحال خاصی خراب ہے جس کا اعتراف وزیراعلیٰ سندھ نے بھی کیا تھا اور آج انہوں نے سندھ کے مختلف اضلاع میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے دورہ بھی کیا۔

صوبائی حکومت کی جانب سے سندھ میں گزشتہ روز رین ایمرجنسی نافذ کی جاچکی ہے جبکہ انتظامیہ کے علاوہ پاک فوج اور دیگر فلاحی تنظیمیں بھرپور انداز میں شہریوں کی امداد کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی خصوصی ہدایت پر پاک فوج نے رات گئے ندی پر بند کی مرمت کرنے اور متاثرہ علاقوں سے عوام کو نکالنے کے علاوہ انہیں کھانا، پانی وغیرہ فراہم کرنے کا آغاز کردیا تھا۔

کراچی کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے

سیلابی ریلے کے باعث قائد آباد کے نزدیک سکھن ندی کے بند میں شگاف پڑ گیا جس سے اطراف کی کچی آبادیوں، گوٹھوں اور دیگر علاقوں میں کئی فٹ پانی جمع ہو گیا۔

برساتی پانی نے جن آبادیوں میں تباہی مچائی ان میں رزاق ٹاؤن، مدینہ ٹاؤن، خلد آباد، رضا سٹی، قائد آباد مرغی خانہ شامل ہے۔

گھروں میں پانی بھر جانے سے مکین نقل مکانی پر مجبور ہوگئے—تصویر: اے ایف پی
گھروں میں پانی بھر جانے سے مکین نقل مکانی پر مجبور ہوگئے—تصویر: اے ایف پی

سیلابی ریلے سے سب سے زیادہ تباہی رزاق ٹاؤن اور مدینہ کالونی میں ہوئی جہاں 6 سے 8 فٹ تک پانی بھر جانے کے علاوہ درجنوں مکانات زمین بوس ہوگئے جس کے بعد علاقہ مکینوں نے رات پکے گھروں کی چھتوں پر بیٹھ کر گزاری۔

علاقہ مکینوں کے مطابق صبح سویرے پاک فوج نے آکر امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

دوسری جانب محمود آباد اور پی ای ایس ایچ کے سنگم پر موجود ملیر ندی کے دادا بھائی بند کا ایک گیٹ کھل جانے سے آس پاس کی آبادی زیر آب آگئی۔

کہاں کتنی بارش ہوئی؟

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پورے سندھ میں سب سے بارش زیادہ کراچی کے علاقے پی ایف بیس فیصل میں 134 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔

مزید پڑھیں: کراچی: ماہ اگست میں بارشوں کا نیا ریکارڈ قائم

شہر کے دیگر علاقوں میں گلش حدید میں 122 ملی میٹر، ناظم آباد میں 91، صدر میں 88، لانڈھی میں 85، یونیورسٹی روڈ پر 79، سعدی ٹاؤن میں 72، مسرور بیس پر 68، جناح ٹرمینل پر 67، نارتھ کراچی میں 50، سرجانی ٹاؤن میں 46 اور کیماڑی میں 24 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

سندھ کے دیگر شہروں کے حوالے سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ٹھٹہ میں 89 ملی میٹر، لاڑکانہ میں 66، میر پور خاص میں 54، نواب شاہ میں 49، جیکب آباد میں 23، مٹھی میں 13، سکھر اور حیدرآباد میں 6 جبکہ بدین میں ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں اضافہ

ملک میں جاری بارشوں کے باعث دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ جاری ہے اور دریائے سندھ میں گڈو بیراج کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جبکہ سکھر بیراج پر بھی 24 گھنٹوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔

پانی کی سطح بڑھنے کے ساتھ ہی سکھر اور گڈو بیراجوں کے درمیان واقع کچے کے دیہات زیر آب آنا شروع ہوگئے ہیں۔

آبپاشی ذرائع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران گڈو کے مقام پر 35 اور سکھر بیراج کے مقام پر پانی کی سطح میں 50 ہزار کیوسک کا اضافہ ہوا۔

سکھر بیراج کے کنٹرول روم انچارج عبدالعزیز کے مطابق بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث گڈو بیراج کی دو نہروں اور سکھر بیراج کی چار نہروں میں پانی کی فراہمی بند کردی گئی ہے جبکہ سکھر بیراج کی تین نہروں میں پانی کی فراہمی کم کردی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: سندھ بھر میں موسلادھار بارش، کراچی میں مختلف حادثات میں 7 افراد جاں بحق

آبپاشی ذرائع کا کہنا کہ اگر بارشوں کا یہ سلسلہ پہاڑی علاقوں میں جاری رہا تو آئندہ دو سے تین روز میں دریائے سندھ میں درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال کا امکان پیدا ہوجائے گا۔

اس وقت گڈو بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 37 ہزار 479 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 30 ہزار 477 کیوسک جبکہ سکھر بیراج پر پانی کی آمد ایک لاکھ 81 ہزار 565 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 73 ہزار 865 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ دونوں بیراجوں پر پانی کی سطح تیزی سے بلندی کی طرف گامزن ہے۔

بلوچستان میں بھی سیلابی صورتحال

دوسری جانب بلوچستان کے مختلف اضلاع میں طوفانی بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آگئی۔

ڈان نیوز ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکام نے شہریوں کو بلوچستان کے کسی بھی علاقے کی طرف بلا ضرورت سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

قلات میں بارشوں کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، کئی گاڑیاں سیلابی ریلے میں پھنس گئیں، ہرنائی کا زمینی رابطہ بھی دیگر علاقوں سے منقطع ہوگیا اور سیکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں۔

اس کے علاوہ واشک میں بارشوں نے پیاز اور کھجور کی تیار فصلوں کو نقصان پہنچایا جبکہ حب میں شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت 20 افراد کو ریسکیو کیا، حب میں بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال سے 400 سے زائد افراد گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں دوسرے روز بھی بارش، 8 افراد جاں بحق

کوئٹہ میں 3 روز قبل مرمت ہونے والا مچھ پل ایک مرتبہ پھر ٹوٹ گیا جس کے باعث مچھ کا کوئٹہ اور دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا جبکہ موسلادھار بارشوں کے باعث اوتھل میں ندی بھپر گئی۔

ریکارڈ توڑ بارشیں

خیال رہے کہ گزشتہ روز ہونے والی بارش کے بعد کراچی میں کسی ایک مقام پر اگست کے مہینے میں سب سے زیادہ بارش ہونے کا 36 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا تھا۔

حکومت سندھ کے اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں 6 جولائی کو مون سون سیزن کے آغاز سے 25 اگست بارش کے باعث مختلف حادثات میں 30 افراد لقمہ اجل بنے۔

کراچی میں اگست کے مہینے میں بارشوں کا 36 سال پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا—تصویر: اے ایف پی
کراچی میں اگست کے مہینے میں بارشوں کا 36 سال پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا—تصویر: اے ایف پی

گزشتہ روز بارش کے باعث مختلف حادثات میں 4 افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ گلستان جوہر میں پہاڑی تودہ گرنے سے متعدد گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں دب گئی تھیں۔

اس سے قبل 24 اگست کو سب سے زیادہ بارش سرجانی ٹاؤن میں ریکارڈ کی گئی تھی جہاں کئی علاقے تاحال زیر آب اور مکین سخت اذیت کا شکار ہیں، اسی دن شہر میں بارش کے باعث حادثات میں 2 افراد بھی لقمہ اجل بنے تھے۔

21 اگست کو صوبے بھر میں موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں کئی علاقے زیر آب جبکہ شہر قائد میں مختلف حادثات میں 2 نو عمر لڑکوں سمیت 7 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

اس سے قبل 6 سے 9 اگست کو شہر میں وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی تھی جس میں 9 افراد لقمہ اجل بنے تھے جبکہ گزشتہ ماہ جولائی کے دوران تک شہر قائد میں مون سون کے 3 اسپیل دیکھے تھے۔