بلدیہ فیکٹری کیس کے حتمی دلائل کیلئے 17 ستمبر کو سماعت مقرر

اپ ڈیٹ 03 ستمبر 2020

ای میل

11 ستمبر 2012 کو کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں قائم کپڑے کی فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 250 سے زائد افراد لقمہ اجل بنے تھے — فائل فوٹو: اے ایف پی
11 ستمبر 2012 کو کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں قائم کپڑے کی فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 250 سے زائد افراد لقمہ اجل بنے تھے — فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بلدیہ فیکٹری کیس میں پراسیکیوٹر اور ملزمان کے دفاعی وکلا کے حتمی دلائل کے لیے 17 ستمبر کی تاریخ مقرر کردی جس کے بعد اس ہائی پروفائل کیس کا ٹرائل مکمل ہونے کا امکان ہے۔

بلدیہ فیکٹری کیس میں اس وقت کے صوبائی وزیر کامرس و انڈسٹریز اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما رؤف صدیقی، اس وقت کے ایم کیو ایم سیکٹر انچارج عبدالرحمٰن عرف بھولا اور محمد زبیر عرف چریا پر 4 گیٹ کیپرز شاہ رخ، فضل احمد، ارشد محمود اور علی محمد کی مدد سے انڈسٹریل یونٹ کو آگ لگانے کے الزامات ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز یہ معاملہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 7 کے جج کے سامنے اٹھایا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: سانحہ بلدیہ فیکٹری: 6 سال گزر گئے، کیس تاحال التوا کا شکار

2 گرفتار شدہ ملزمان عبدالرحمٰن اور زبیر کو جیل سے عدالت میں پیش کیا گیا تھا جبکہ رؤف صدیقی، فضل احمد، ارشد محمود، علی محمد، شاہ رخ لطیف، ڈاکٹر عبدالستار اور عمر حسن سمیت دیگر ضمانت پر عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

عدالت نے دفاعی وکیل حسن صابر کی درخواست پر ایک بیمار ملزمہ اقبال ادیب خانم کو ذاتی طور پر پیش ہونے سے استثنیٰ دے دی۔

سماعت کے دوران رینجرز کے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر ساجد محبوب شیخ، ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر رانا خالد حسین کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے اپنے پچھلے دلائل کو حتمی قرار دیا۔

اسی طرح ملزمان کے دفاعی وکلا نے بھی اپنے پچھلے دلائل کو حتمی دلائل قرار دیا تاہم ملزم شاہ رخ لطیف کے دفاعی وکیل، ایڈووکیٹ سید شاہد اقبال غیرحاضر تھے۔

مقدمے کے تفتیشی افسر، انسپکٹر راجا جہانگیر اور سابق انویسٹی گیشن افسر جہانزیب بھی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے اسپیشل پراسیکیوٹرز اور ملزمان کے دفاعی وکلا کے حتمی دلائل سننے کے لیے 17 ستمبر تک سماعت ملتوی کردی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حماد صدیقی نے 20 کروڑ روپے بھتہ نہ ملنے پر بلدیہ فیکٹری کو آگ لگوائی، جے آئی ٹی رپورٹ

فی الحال مذکورہ معاملہ دفاعی وکیل کے حتمی دلائل اور اسپیشل پراسیکیوٹرز کے جوابی دلائل کے مرحلے پر ہے۔

آئندہ سماعت پر پروسیکیوشن اور دفاعی وکلا کے حتمی دلائل مکمل ہونے کی صورت میں ٹرائل مکمل ہونے کا امکان ہے۔

امکان ہے کہ اگلی تاریخ میں استغاثہ اور دفاع اپنے حتمی دلائل مکمل کریں گے۔   خیال رہے کہ قانون کے تحت ایک بار جب فریقین اپنے حتمی دلائل مکمل کرلیں تو عدالت مقدمے میں اپنا فیصلہ محفوظ کرتی ہے جسے بعد میں سنایا جاتا ہے۔

قبل ازیں شواہد جمع کروانے کے بعد پروسیکیوشن کی جانب سے مزید کچھ نہیں کہا گیا تھا، جمع کروائے گئے شواہد میں فرانزک، بیلسٹک اور کیمیائی تجزیاتی رپورٹس اور ملزمان کے خلاف استغاثہ کے 400 گواہان کے بیانات شامل تھے۔

مزید پڑھیں: سانحہ بلدیہ فیکٹری: ایم کیو ایم کو کروڑوں روپے بھتہ دینے کا کہا گیا، مالک

 پروسیکیوشن نے 369 گواہان کو 'غیر ضروری' ہونے کی وجہ سے ترک کردیا ہے۔

پراسیکیوٹر ساجد محبوب شیخ ستمبر 2012 میں ریڈی میڈ گارمنٹس کے مینوفیکچرنگ یونٹ کی کثیرالمنزلہ عمارت میں آتشزدگی کے نتیجے میں 264 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

جاں بحق افراد میں ان 17 افراد کی لاشیں بھی شامل تھیں جن کی شناخت نہیں ہوئی تھی۔

گزشتہ سماعت میں پراسیکیوٹر نے زبیر عرف چریا اور عبدالرحمٰن عرف بھولا کے وکلا ایم ٹی خان اور منصور اختر کے دلائل کو مسترد کردیا تھا۔

دونوں ملزمان اور ایم کیو ایم رہنما رؤف صدیقی سمیت دیگر کے وکلا نے اپنے حتمی دلائل میں پروسیکیوشن کی جانب سے اپنے مؤکل پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کیا تھا اور انہیں بے گناہ قرار دیتے ہوئے رہا کرنے کی استدعا کی تھی۔

سانحہ بلدیہ فیکٹری

خیال رہے کہ 11 ستمبر 2012 کو کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں قائم کپڑے کی فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 250 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

سانحے کی تحقیقات کے لیے رینجرز اور پولیس سمیت دیگر اداروں کے افسران پر مشتمل 9 رکنی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی تھی، جس نے اپنی رپورٹ سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرائی تھی۔

سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس میں فروری 2015 میں ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب رینجرز کی جانب سے سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں ایم کیو ایم کو اس واقعے میں ملوث قرار دیا گیا۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما رؤف صدیقی، عبدالرحمٰن عرف بھولا اور زبیر عرف چریا سمیت 11 ملزمان کو فیکٹری میں آگ لگانے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: بلدیہ فیکٹری مقدمے میں 2 گواہوں کا ملزم کے خلاف حلفیہ بیان

پروسیکیوشن کے مطابق مشتبہ ملزمان نے اس وقت کے ایم کیو ایم کراچی کی تنظیمی کمیٹی کے سربراہ حماد صدیقی کی ہدایات پر عمل کیا کیونکہ فیکٹری کے مالکان نے بھتے کی رقم کی ادائیگی سے انکار کردیا تھا۔

ابتدائی طور پر ثبوتوں کی عدم موجودگی پر پولیس نے زبیر چریا کو رہا کردیا تھا البتہ عبدالرحمٰن عرف بھولا کی جانب سے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے قلمبند کرائے گئے بیان میں انہوں نے زبیر کو بھی شریک جرم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے زبیر اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ فیکٹری کو آگ لگانے کا کام انجام دیا جس کے بعد پولیس نے زبیر کو دوبارہ گرفتار کر لیا تھا۔

علاوہ ازیں رواں سال اپریل میں کیس کی سماعت کے دوران ایک اہم ترین گواہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوا اور واقعے میں ملوث ایک ملزم زبیر عرف چریا کو شناخت کیا گیا تھا۔