اسلام آباد ہائی کورٹ کا ساجد گوندل کو پیر تک 'بازیاب' کروانے کا حکم

اپ ڈیٹ 05 ستمبر 2020

ای میل

سماعت کے موقع پر ساجد گوندل کی والدہ، اہلیہ بھی عدالت میں پیش ہوئیں—فائل فوٹو: ٹوئٹر
سماعت کے موقع پر ساجد گوندل کی والدہ، اہلیہ بھی عدالت میں پیش ہوئیں—فائل فوٹو: ٹوئٹر

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی) کے سینئر عہدیدار کو پیر تک بازیاب کروانے کا حکم دے دیا۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ساجد گوندل کی والدہ عصمت بی بی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔

سماعت کے موقع پر ساجد گوندل کی والدہ، اہلیہ بھی عدالت میں پیش ہوئیں۔

عدالت میں ساجد گوندل کی والدہ نے بیان دیا کہ میرے بیٹے کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی، پارک روڈ سے بیٹے کو اغوا کیا گیا اور اغوا کار گاڑی وہیں چھوڑ گئے۔

یہ بھی پڑھیں: ایس ای سی پی کے 'لاپتا' عہدیدار کی والدہ کا اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع

جس پر چیف جسٹس ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد سے شہری کو اس طرح اغوا کیا جانا انتہائی تشویشناک ہے۔

بعدازاں عدالت نے ایس ای سی پی کے لاپتا افسر ساجد گوندل کو پیر تک بازیاب کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ پیر کے دن 2 بجے تک ساجد گوندل بازیاب نہ ہوئے تو سیکرٹری داخلہ خود پیش ہوں۔

چیف جسٹس ہائی کورٹ نے ہدایت کی کہ شہری کی عدم بازیابی کی صورت میں چیف کمشنر بھی عدالت پیش ہوں۔

علاوہ ازیں عدالت نے ساجد گوندل کا معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر ساجد گوندل بازیاب نہ ہوں تو کابینہ کے آئندہ اجلاس میں یہ معاملہ رکھا جائے۔

ساتھ ہی جسٹس اطہر من اللہ نے آج کے عدالتی حکم نامے کی نقل سیکریٹری کابینہ ڈویژن کو بھیجنے کا حکم بھی دیا۔

مزید پڑھیں: ایس ای سی پی کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل اسلام آباد سے لاپتا

خیال رہے کہ ساجد گوندل کی والدہ نے گزشتہ روز ان کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ شام ساڑھے 7 بجے وہ اسلام آباد کے علاقے شہزاد ٹاؤن میں واقع اپنے گھر سے اپنی سرکاری گاڑی میں روانہ ہوئے جس کا رجسٹریشن نمبر جی اے ای-496 ہے لیکن واپس نہیں آئے۔

درخواست میں بتایا گیا تھا کہ ان کی کار اسلام آباد کے قومی زرعی تحقیقاتی مرکز کے نزدیک سڑک پر پارک ہوئی ملی۔

درخواست گزار نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ شاید ان کے بیٹے کو ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہو کیوں کہ ابھی تک ان کا کوئی اتا پتا نہیں اور ان کی زندگی خطرے میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صحافی مطیع اللہ جان اسلام آباد سے 'اغوا'

پٹیشن کے مطابق لاپتا فرد (ساجد گوندل) ایک سرکاری ملازم ہیں اور امکان ہے کہ انہیں ان کے فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں اٹھایا گیا۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ فریقین کو طلب کیا جائے جس میں وزارت دفاع اور داخلہ کے سیکریٹریز، انسپکٹر جنرل پولیس اور شہزاد ٹاؤن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر شامل ہیں، اور انہیں ساجد گوندل کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی جائے۔

علاوہ ازیں ساجد گوندل کی والدہ نے سیکریٹری داخلہ سے استدعا کی کہ وہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیں جو شہریوں کی زندگی اور عزت کا تحفظ کرنے میں ناکام رہے۔