افغانستان کے آئندہ سیاسی نظام کا فیصلہ افغانوں کو کرنا ہے، مائیک پومپیو

اپ ڈیٹ 13 ستمبر 2020

ای میل

ملا برادر نے اپنے بیان میں امریکا کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے وابستگی کا عزم دہرایا—تصویر: اے ایف پی
ملا برادر نے اپنے بیان میں امریکا کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے وابستگی کا عزم دہرایا—تصویر: اے ایف پی

اسلام آباد: افغانستان میں 19 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے افغان متحارب گروہوں کے مابین دوحہ میں مذاکرات جاری ہیں۔

افتتاحی تقریب میں امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو، افغان ہائی کونسل برائے قومی مفاہمت عبداللہ عبداللہ، قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی، متعدد ممالک کے سینئر سفارتکاروں کے علاوہ افغان حکومت اور طالبان وفد نے شرکت کی۔

17 ممالک کے وزرائے خارجہ اور حکومتی اداروں کے سربراہان نے اجلاس میں ورچوئلی شرکت کی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق قطری وزیر خارجہ نے 'فوری اور مستقل جنگ بندی' کے مطالبے کے ساتھ مذاکرات کا اعلان کیا تا کہ ایک جامع سیاسی حل حاصل کیا جائے، انہوں نے کہا کہ حتمی سمجھوتہ جامع اور اس میں کوئی فاتح یا مغلوب نہیں ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:دوحہ: افغان حکومت اور طالبان میں امن مذاکرات کا آغاز

افغان امن کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ افغان حکومت 'اچھے ارادوں' کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کررہی ہے اور 'مخلصانہ بات' کی جانب دیکھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کامیاب بنانے کے لیے سمجھوتہ کرنے کی ضرورت ہوگی لیکن ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ ملک ماضی میں نہیں جاسکتا۔

افغان امن کونسل کے سربراہ نے یہ بات خصوصاً آئین، انتخابات، آزادی اظہار رائے، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق، قانون کی عملداری اور سیاسی حقوق کے تناظر میں کہی جس میں ہونے والی پیشرفت کو محفوظ کیا جائے گا۔

دوسری جانب طالبان کے سیاسی دفتر کے ڈائریکٹر ملا برادر نے اپنے بیان میں امریکا کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے وابستگی کا عزم دہرایا۔

مزید پڑھیں: افغان طالبان کے وفد کی بین الافغان مذاکرات کے حوالے سے بات چیت کیلئے اسلام آباد آمد

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کرنے والے افغان 'شہریوں کی پر امن اور خوشحال زندگی کی راہ ہموار کرنے کی کوشش' کریں گے۔

انہوں نے اپنے گروہ کے افغانستان میں اسلامی نظام کو ترجیح دینے پر بھی زور دیا اور بیرونی دنیا سے روابط کے حوالے سے کہا کہ طالبان چاہیں گے افغانستان کے مستقبل میں اپنے پڑوسیوں اور باقی دنیا سے مثبت تعلقات ہوں۔

دونوں مذاکراتی فریقین کے ابتدائی بیان کے بعد افغانستان میں امن کے لیے کوشاں ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے بیانات دیے گئے۔

امریکی سیکریٹری اسٹیٹ نے مذاکرات سے امریکا کی وابستہ توقعات بتاتے ہوئے دونوں فریقین سے کہا کہ ان چیزوں کا انتخاب کریں جو ان کے ملک کو 'تشدد اور بدعنوانی سے امن اور خوشحالی' کی جانب لے جائے۔

یہ بھی پڑھیں: بین الافغان مذاکرات کے لیے باضابطہ ایجنڈا طے نہیں کیا گیا

انہوں نے کہا کہ مستقبل کے سیاسی نظام کا فیصلہ افغانوں کو کرنا ہے لیکن ان کے لیے تجویز ہے کہ جمہوریت کا انتخاب کریں کیوں کہ 'سیاسی طاقت کی پر امن گردش بہترین کام کرتی ہے اور یہ 'اقلیتوں کے حقوق محفوظ بناتے ہوئے اکثریتی رائے کی عکاس ہے'۔

امریکی سیکریٹری اسٹیٹ نے افغانستان میں اب تک حاصل کیے گئے سیاسی، سماجی اور معاشی فوائد کو محفوظ بنانے اور انہیں آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اپنی جانب سے امریکا ایک خود مختار، متحد اور جمہوری افغانستان کا حامی ہے جس کے اندر اور پڑوسیوں کے ساتھ امن ہو'۔

بین الافغان مذاکرات کا خیر مقدم کرنے کے لیے امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے طالبان کے سیاسی ڈپٹی ملا برادر سے ملاقات کی۔

انہوں نے زور دیا کہ طالبان 40 سالہ جنگ کی مستقل اور جامع جنگ بندی تک پہنچنے اور ایک سیاسی تصفیہ تشکیل دینے کے موقع سے فائدہ اٹھائیں۔