سندھ کے ہر ڈویژن میں بینظیر یونیورسٹی کا کیمپس بنانے کا حکم

اپ ڈیٹ 14 ستمبر 2020

ای میل

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے صوبائی حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ سندھ کے ہر ڈویژن میں بیظیر بھٹو شہید یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ اسکل ڈیولپمنٹ کا کیمپس قائم کرے۔

جسٹس صلاح الدین پنهور کی سربراہی میں سنگل بینچ نے سندھ کے چیف سیکریٹری اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو ہدایت کی کہ وہ یہ یقینی بنائے کہ کم از کم سندھ کے تمام ڈویژنز کے ساتھ ساتھ ضلع تھرپارکر کے مٹھی میں بھی کیمپس قائم کیے جائیں۔

مزیدپڑھیں: حکومت سندھ کا یکم جون سے تعلیمی ادارے نہ کھولنے کا اعلان

بینچ نے کہا کہ کیمپس کے قیام کے سلسلے میں مالی اعانت اور بجٹ میں رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔

سماعت کے آغاز پر بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ اسکل ڈیولپمنٹ خیرپور کے ڈپٹی رجسٹرار غلام عباس نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی طرف سے پیش کردہ نصاب کو ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تسلیم کیا ہے اور اس کی منظوری دے دی ہے۔

انہوں نے بینچ کو مزید بتایا کہ یونیورسٹی کا کیمپس نہیں ہے۔

صوبے میں لائبریریوں کے قیام کے بارے میں بینچ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ دونوں کتب خانوں کے لیے ایس این ای (نئے اخراجات کا شیڈول) کی منظوری کے عمل میں تیزی لے کر آئیں۔

حکام نے عدالت کو بتایا کہ کمپیوٹر لیب اور لائبریریوں کی 900 اسکول عمارتیں زیر تعمیر ہیں اور سن 2022 میں اسے مکمل کیا جاسکتا ہے۔

سیکریٹری زراعت طلب

ایس ایچ سی کے ایک اور بینچ نے محکمہ زراعت فراہمی و قیمتوں کے سیکریٹری کو بیورو آف سپلائی اینڈ پرائسس کے باقاعدہ ڈائریکٹر جنرل کا تقرر نہ کرنے پر 13 اکتوبر کو طلب کرلیا۔

جب یہ معاملہ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو سماعت کے لیے سامنے آیا تو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ مارچ 2010 میں جاری ایک نوٹی فکیشن میں محکمہ فراہمی کے بیورو کے سیکریٹری کو اس عہدے کا چارج سنبھالنے کی اجازت دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بے نظیر بھٹو مزدور کارڈ کا اجرا یکم جنوری سے ہوگا، سعید غنی

درخواست گزار اور مداخلت کنندہ دونوں کا مؤقف تھا کہ گزشتہ 10 برس سے ڈی جی کا باقاعدہ تقرر نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جب منظور شدہ عہدہ دستیاب ہو تو اسے ایک مناسب وقت میں پُر کرنا ضروری ہے بلکہ کسی فرد کو برسوں کے لیے بطور سابقہ عہدہ سنبھالنے کی اجازت ہوگی۔

بینچ نے فیصلہ دیا کہ یہ سرکاری ملازمین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہے۔


یہ خبر 14 ستمبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی