امن مذاکرات کے باوجود افغانستان میں جھڑپیں جاری

اپ ڈیٹ 14 ستمبر 2020

ای میل

ملا برادر اور عبداللہ عبداللہ نے اتوار کے روز قطری شیخ تمیم بن حماد الثانی سے بھی ملاقات کی—تصویر: اے ایف پی
ملا برادر اور عبداللہ عبداللہ نے اتوار کے روز قطری شیخ تمیم بن حماد الثانی سے بھی ملاقات کی—تصویر: اے ایف پی

دوحہ: طالبان کے ساتھ قطر کے دارالحکومت میں ہونے والے امن مذاکرات اہم موڑ میں داخل ہونے والے ہیں ایسے میں افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیم نے اہم امور مثلاً جنگ بندی پر پیش رفت کے حوالے سے محتاط امید کا اظہار کیا ہے۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق بین الافغان مذاکرات کی افتتاحی تقریب میں افغان حکومت اور امریکا سمیت دیگر اتحادیوں کی جانب سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تاہم طالبان نے مذاکرات کی میز پر آنے سے قبل عارضی جنگ بندی کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

افغان حکومت کی جانب سے امن عمل کی سربراہی کرنے والے عبداللہ عبداللہ نے تجویز دی کہ طالبان اپنی جنگجو قیدیوں کی رہائی کے بدلے جنگ بندی کی پیشکش کرسکتے تھے، 'یہ ان کے خیالات میں سے ایک خیال یا ایک مطالبہ ہوسکتا تھا'۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان کے آئندہ سیاسی نظام کا فیصلہ افغانوں کو کرنا ہے، مائیک پومپیو

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'امن کی جانب بڑھنے کے جذبے کے ساتھ' مذاکرات جاری رہنے چاہیے، سب سے پہلے پرتشدد کارروائیوں میں نمایاں کمی پھر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی اور اس کے بعد ملک بھر میں مستقل جنگ بندی ہونی چاہیے'۔

دوسری جانب امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے کہا کہ 'آنے والے دنوں، ہفتوں اور مہینوں میں ہم مذاکرات میں بلا شبہ بہت سے چیلنجز کا سامنا کریں گے، ساتھ ہی انہوں نے متحارب فریقین سے امن کے موقع سے فائدہ اٹھانے مطالبہ کیا'۔

جھڑپیں جاری

اب جبکہ مذاکرات کا ایجنڈا تشکیل دینے کے لیے دونوں اطراف سے تکنیکی کمیٹیوں کی ملاقات ہونے جارہی ہے ایسے میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

حکام نے کہا کہ رات گئے طالبان کی جانب سے قندوز میں ایک حملے میں 6 پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ صوبہ کاپیسا میں 5 افسران کو ہلاک کیا گیا۔

افغان دارالحکومت کابل میں سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے 2 شہری زخمی ہوئے جبکہ ایک دھماکے کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: دوحہ: افغان حکومت اور طالبان میں امن مذاکرات کا آغاز

اس ضمن میں عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ '(مذاکرات کے دوران) مزید خونریزی کا سبب بننا غلط اندازہ ہے، ایک فریق کے لیے جنگ جیتنا نا ممکن ہے۔

افغان وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا کہ 'بین الافغان مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہم طالبان سے حملوں میں کمی کی توقع رکھتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ان کے حملے بڑی تعداد میں اب بھی جاری ہیں'۔

انہوں نے بتایا کہ جمعے کے روز جب شام میں مذاکرات کا افتتاح ہوا تھا طالبان نے ملک بھر میں حکومتی فورسز اور تنصیبات پر 18 حملے کیے جو بھاری جانی نقصان کا سبب بنے۔

دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا کہ طالبان نے قندوز میں اہم شاہراہ کے ساتھ ایک آپریشن کے لیے آنے والے افغان فورسز کے قافلے پر حملہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: بین الافغان مذاکرات کے لیے باضابطہ ایجنڈا طے نہیں کیا گیا

انہوں نے مزید کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے ہفتے کی رات صوبہ بلغان اور قندوز میں ہوائی اور توپ خانے سے حملے کیے۔

مذاکرات میں افتتاحی تقریر کرتے ہوئے طالبان کے شریک بانی ملا عبدالغنی برادر نے عسکریت پسند گروہ کا پیغام دہراتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان کو اسلامی قوانین کے مطابق چلانا چاہیے۔

امن عمل پر بات چیت کے لیے ملا برادر اور عبداللہ عبداللہ نے اتوار کے روز قطری شیخ تمیم بن حماد الثانی سے بھی ملاقات کی۔

خیال رہے کہ صدر اشرف غنی کی افغان حکومت آئینی جمہوریت کا مغربی اسٹیٹس کو برقرار رکھنا چاہتی ہے جس میں متعدد حقوق اور خواتین کے لیے آزادی شامل ہے۔