کراچی: اتحاد ٹاؤن میں ذہنی، جسمانی معذور خاتون کا ریپ، ایک ملزم گرفتار

16 ستمبر 2020

ای میل

پولیس کے مطابق دوسرا ملزم حمید فرار ہوگیا—فائل/فوٹو:اے ایف پی
پولیس کے مطابق دوسرا ملزم حمید فرار ہوگیا—فائل/فوٹو:اے ایف پی

کراچی کے علاقے اتحاد ٹاؤن میں 20 سالہ ذہنی اور جسمانی طور پر معذور خاتون کے ساتھ گینگ ریپ کا واقعہ پیش آیا جبکہ پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا۔

ایس ایچ او اتحاد ٹاؤن کا کہنا تھا کہ اتحاد ٹاؤن کی کچی آبادی قائم خانی کالونی میں 20 سالہ خاتون کا گینگ ریپ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ایک ملزم فیصل کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ دوسرا ملزم حمید فرار ہوگیا۔

مزید پڑھیں:کراچی: پی آئی بی کالونی میں کمسن بچی کا ریپ کے بعد قتل

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ واقعے کی تفتیش جاری ہے اور دوسرے ملزم کو گرفتار کرنے کی کوششیں بھی کی جارہی ہیں۔

خیال رہے کہ 6 ستمبر کو کراچی کے علاقے پی آئی بی کالونی کے قریب 6 سالہ بچی مروہ کو ریپ کے بعد قتل کرکے لاش کچرا کنڈی میں پھینک دی گئی تھی جس کے بعد شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے یونیورسٹی روڑ کو بلاک کردیا تھا۔

مظاہرین نے حکام کو ملزمان کی گرفتاری کے لیے تین دن کا الٹی میٹم دیا تھا۔

ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن نے کہا کہ متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور 'تمام ملزمان کا ڈی این اے کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے'۔

بچی کے رشتہ داروں کا کہنا تھا کہ پانچ سالہ بچی پرانی سبزی منڈی کے قریب واقع اپنے گھر سے جمعے کی صبح تقریباً سات بجے قریبی دکان سے بسکٹ لینے باہر نکلی تھیں اور اسی دوران انہیں اغوا کیا گیا تھا۔

لواحقین نے بچی کی گمشدگی کی رپورٹ اسی دن تھانے میں درج کرادی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی: 6سالہ مروہ کے ریپ و قتل میں ملوث ملزمان ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

پولیس سرجن ڈاکٹر قرار احمد عباسی کا کہنا تھا کہ بچی کو قتل سے قبل زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ بچی کے سر میں سخت آلے سے چوٹیں آئی تھیں اور بچی کو بظاہر جس دن اغوا کیا گیا تھا، جس دن قتل کیا گیا لیکن لاش کو جلایا نہیں گیا۔

بعدازاں پولیس نے کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے انتظامی جج کے سامنے بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل سے متعلق کیس میں تین ملزمان کو پیش کیا اور ان کا ریمانڈ حاصل کیا۔

پولیس نے تھانہ پی آئی بی کالونی کی حدود پیر بخاری کالونی سے 6سالہ بچی مروہ کے ساتھ زیادتی اور قتل کے الزام میں ان تینوں ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

مزید پڑھیں:موٹروے ریپ کیس: ملزم شفقت 14 روزہ ریمانڈ پر جیل منتقل

واضح رہے 9 ستمبر کو لاہور میں موٹروے پر خاتون کے ساتھ ریپ کے واقعے کے بعد ملک بھر میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور شدید احتجاج کیا گیا جبکہ ایک ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور دوسرا ملزم تاحال گرفتار نہ ہوسکا۔

پولیس نے ملزم شفقت علی کو 14 ستمبر کو گرفتار کیا جس کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے تصدیق کی کہ ملزم کا ڈی این اے جائے وقوع سے اکٹھے کیے گئے نمونوں سے میچ کرگیا ہے۔

ملزم شفقت کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد انسپکٹر ذوالفقار نے ملزم کا ریکارڈ پیش کیا جس کے بعد ملزم کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔