کراچی: 6 سالہ مروہ کے ریپ و قتل میں ملوث ملزمان کے فنگر پرنٹس میچ کر گئے

اپ ڈیٹ 17 ستمبر 2020

ای میل

6سالہ کمسن مروہ کو مبینہ طور پر گینگ ریپ کے بعد قتل کردیا گیا تھا— تصویر بشکریہ کری ایٹو کامنز
6سالہ کمسن مروہ کو مبینہ طور پر گینگ ریپ کے بعد قتل کردیا گیا تھا— تصویر بشکریہ کری ایٹو کامنز

کراچی میں کمسن بچی مروہ کے ریپ اور قتل میں ملوث ملزمان کے فنگر پرنٹس متاثرہ بچی کے کپڑوں پر موجود انگلیوں کے نشانات سے مل گئے ہیں۔

جمعرات کو پولیس نے کراچی کے علاقے پی آئی بی کالونی میں ریپ کے بعد قتل کی گئی کمسن بچی کے مقدمے میں اہم پیشرفت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ دو گرفتار ملزمان کے فنگر پرنٹس متاثرہ بچی کے کپڑوں پر موجود انگلیوں کے نشانات سے مل گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: کراچی: 6سالہ بچی کا ریپ کے بعد قتل، متعدد مشتبہ افراد گرفتار

تفتیش کاروں نے ایک ملزم کے انگلیوں کے نشانات بچی کے کپڑوں اور ایک ملزم فیض عرف فیضو کے گھر میں موجود بستر سے لیے اور دونوں کے نشانات میچ کر گئے ہیں۔

ایس ایس پی شرقی ساجد عامر سدوزئی نے ڈان کو تصدیق کی کہ مبینہ مجرموں کے انگلیوں کے نشانات بچی کے کپڑوں پر موجود انگلیوں کے نشانات سے مل گئے ہیں۔

دونوں ملزمان اپنے اس بھیانک جرم کا اعتراف کر چکے ہیں اور اب پولیس ان کے ڈی این اے کی منتظر ہے۔

گرفتار کیے گئے ملزمان میں سے ایک فیض مقتول لڑکی کا پڑوسی اور پیشے سے درزی ہے جبکہ دوسرا ملزم عبداللہ کچرہ چننے والا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق فیضو نے مبینہ طور پر کمسن مروہ کو اغوا کیا اور پھر اپنے گھر کی چھت پر لے جا کر اسے مبینہ طور پر گینگ ریپ کا نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: 6 سالہ مروہ کے ریپ و قتل میں ملوث ملزمان ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

بعدازاں انہوں نے اس بچی کو کسی بھاری چیز کے وار کر کے قتل کردیا اور 6 ستمبر کو اس کی لاش کپڑے کے ٹکڑوں میں لپیٹ کر کچرے کے ڈھیر میں پھینک دی۔

یاد رہے کہ کمسن بچی مروہ 4 ستمبر کی صبح ایک دکان پر گئی تھی جہاں سے وہ لاپتا ہو گئی، دو دن بعد اس کی لاش محلے کی کچرا کنڈی سے ملی تھی۔

بچی کے اغوا، زیادتی اور قتل سے اہل علاقہ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے اگلی صبح اس کی تدفین کے بعد یونیورسٹی روڈ پر احتجاج کیا تھا۔

چند دن قبل عدالت میں سماعت کے موقع پر تفتیشی افسر انسپکٹر قربان حسین عباسی نے بتایا تھا کہ ایک مقامی درزی محمد جاوید نے کپڑے کے ٹکڑوں کی نشاندہی کی اور انکشاف کیا کہ اس نے اپنے ایک درزی کو مذکورہ کپڑے کے ٹکڑے دیے تھے۔

مزید پڑھیں: کراچی کے نواحی علاقے میں بچی کا ریپ کے بعد قتل

تفتیشی افسر نے کہا تھا کہ مزید تفتیش سے پتا چلا کہ درزی ماضی میں بھی جرم کر چکا ہے اور وہ متاثرہ بچی کا پڑوسی بھی ہے، انہوں نے بتایا کہ ملزم کی اہلیہ اسے 6 سے 7 سال قبل چھوڑ کر چلی گئی تھی، تفتیش کے دوران ملزم نے انکشاف کیا تھا کہ اس نے دو دیگر افراد کے ساتھ مل کر بچی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہو گئی تھی۔

ملزمان کے خلاف پی آئی بی پولیس اسٹیشن میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 (عمداً قتل)، 376 (عصمت دری کی سزا)، 201(ثبوت مٹانے کا جرم یا مجرموں کے حوالے سے غلط معلومات دینے) اور دفعہ 34 (یکساں ارادے) کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 کے تحت درج کیا گیا ہے۔