وزیر تعلیم سندھ کا اسکولز دوبارہ بند اور دوسرے مرحلے کو مؤخر کرنے کا عندیہ

اپ ڈیٹ 18 ستمبر 2020

ای میل

صوبائی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ روز سندھ میں 7 تعلیمی اداروں کو بند کیا گیا—فائل فوٹو: ڈان نیوز
صوبائی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ روز سندھ میں 7 تعلیمی اداروں کو بند کیا گیا—فائل فوٹو: ڈان نیوز

وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے بنائے گئے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) کی مسلسل خلاف ورزی پر کھولے گئے اسکولز کو بند کرنے اور مزید جماعتوں کے اسکولز کھولنے کے فیصلے کو مؤخر کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے متعدد اسکولوں کا دورہ کیا ہے اور تاکید کے باوجود کئی اسکولز میں ہدایات کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور سب سے افسوس کی بات یہ ہے چھوٹے بچے جن کے لیے ابھی تعلیمی سرگرمیاں بحال بھی نہیں ہوئیں انہیں بھی اسکولز بلایا جارہا ہے۔

سعید غنی نے بتایا کہ والدین اگر اس بات کو محسوس نہیں کریں گے اس سے بچوں کی صحت کو خطرہ ہوسکتا ہے تو ہمارے لیے ایس او پیز پر عملدرآمد کروانا نہایت مشکل ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں ایس او پیز کی عدم تعمیل پر 2 روز میں 22 تعلیمی ادارے بند کردیے گئے

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں 4 اسکول سیل کیے گئے اور شاید ہمیں دوبارہ اسکول بند کرنے اور اگلے مراحل میں اسکول کھولنے کے فیصلے کو مؤخر کرنا پڑے گا۔

صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ ہم نے تمام نجی اور سرکاری اسکولز اور کالجز میں 13 ہزار سے زائد کورونا وائرس کے ٹیسٹ کیے ہیں جن میں سے ڈھائی 3 ہزار رپورٹس موصول ہوئی ہیں جن میں 88 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ شرح ڈھائی سے 3 فیصد ہے اور اگر 13 ہزار ٹیسٹ میں سے بھی مثبت آنے کی شرح 3 فیصد رہی تو یہ بہت بڑی تعداد ہوگی اور یہ صورتحال زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہے۔

اگلی جماعتوں کے لیے اسکول کھولنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ میں 88 کیسز مثبت آنے پر کافی پریشان ہوں اور اس سلسلے میں وزیراعلیٰ سے مشاورت اور این سی او سی میں بات کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں میں 445 کا اضافہ، مزید 514 صحتیاب

انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر سندھ حکومت کو محسوس ہوا کہ معاملات درست سمت نہیں جارہے تو ہم این سی او سی کے فیصلے یا کسی اور چیز کا انتظار نہیں کریں گے بلکہ ہم خود فیصلہ کر کے اسکول بند کردیں گے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ بچوں کی صحت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا جو حالت اسکولز کی دیکھی گئی ہے وہ ناقابل برداشت ہے کیوں کہ آج بھی ایک اسکول کا میں نے دورہ کیا جہاں نہ صرف چھوٹے بچوں کو بلایا گیا تھا اور ماسک بھی نہیں پہنے ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولز میں ایس او پیز پر عملدرآمد کی صورتحال نسبتاً بہتر ضرور ہے لیکن خلاف ورزیاں وہاں بھی ہورہی ہیں اور کالجز کی صورتحال بہتر نہیں ہے۔

ملک میں ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 17 تعلیمی ادارے بند

ملک بھر میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے بنائے گئے حکومت کے تشکیل دیے گئے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) کی خلاف ورزی پر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 13 تعلیمی اداروں کو بند کردیا گیا۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 10 او سندھ میں 3 تعلیمی اداروں کو صحت ہدایات پر عمل نہ کرنے پر بند کیا گیا

تاہم صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی نے تصحیح کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ میں گزشتہ روز 3 کالجز جبکہ 4 اسکولوں کو بند کیا گیا، یوں مجموعی طور پر 7 تعلیمی ادارے بند ہوئے اور اب دیکھا جائے گا کہ ان کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس سے متاثر بچوں میں عام ترین علامات جانتے ہیں؟

این سی او سی کے گزشتہ روز جاری کردہ بیان میں بتایا گیا تھا کہ دو روز کے دوران حکومت نے ملک میں 22 اسکولز بند کردیے تھے جس میں 16 تعلیمی ادارے خیبرپختونخوا، ایک اسلام آباد اور 5 آزاد کشمیر میں بند کیے گئے۔

دوسری جانب کراچی کے انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹیشن (آئی بی اے) نے بھی اپنے دونوں کیمپسز میں 2 روز کے لیے تعلمی سرگرمیاں معطل کردیں۔

تاہم آئی بی اے کے ہیڈ آف مارکیٹنگ اینڈ کمیونیکیشن حارث توحید نے ان میڈیا رپورٹس کی تردید کی کہ یونیورسٹی کے کیمپسز کو 2 طلبہ کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر بند کیا گیا اور کہا کہ کیمپز کا بند نہیں کیا گیا صرف تعلیمی سرگرمیاں معطل کی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ حکومت نے 15 ستمبر سے اسکولوں (صرف نویں اور دسویں جماعت)، کالجز اور جامعات کو مرحلہ وار دوبارہ کھول دیا تھا جس کے ساتھ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) پر عمل در آمد کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی تھی۔

شفقت محمود کا کہنا تھا کہ 'اساتذہ، اسکولوں کے منتظمین اور والدین سمیت بالغ طلبہ کی بھی یہ ایک بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ ایس او پیز پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنائیں'۔

وزارت تعلیم کے عہدیداروں کے مطابق ایس او پیز کے اہم نکات طلبہ کی تعداد میں کمی کرنا اور اسے 20 سے زائد نہ ہونے دینا (تاہم یہ کلاس روم کے سائز پر منحصر ہیں)، کلاس رومز میں سماجی دوری کو یقینی بنانا، طلبہ اور اسکول کے عملے کا ماسک پہننا، اداروں میں ماسک کے بغیر داخلہ نہیں ہونا وغیرہ شامل ہیں۔