کورونا کے متعدد مریضوں کو صحتیابی کے بعد مختلف مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے، تحقیق

20 ستمبر 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

بار بار بخار ہونا، قبض یا ہیضے کا تسلسل، شدید تھکاوٹ، دماغ میں دھند چھائے ہونے کا احساس اور واہمے، یہ وہ چند علامات ہیں جن کا سامنا نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے شکار افراد کو ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے کئی ماہ بعد بھی ہورہا ہے۔

اب 6 ماہ بعد (عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کووڈ 19 کو مارچ میں عالمی وبا قرار دیا گیا تھا)، ایسے طویل المعیاد بنیادوں پر علامات کا سامنا کرنے والے افراد پر تحقیقی کام شروع ہوا ہے۔

درحقیقت ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کووڈ 19 سے صحتیاب ہونے والے لاتعداد افراد کو تاحال شدید تھکاوٹ کا سامنا ہے چاہے ابتدا میں بیماری کی شدت جو بھی رہی ہو۔

آن لائن medRxiv میں شائع ہونے والی تحقیق میں زور دیا گیا کہ صحتیاب مریضوں کی مناسب نگہداشت کی جانی چاہیے اور سنگین حد تک بیمار افراد پر مزید تحقیق کرکے دیکھنا چاہیے کہ انہیں کس طرح کے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اگرچہ کووڈ کے حوالے سے کافی کچھ سامنے آچکا ہے مگر طویل المعیاد اثرات کے بارے میں ابھی بہت کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔

اس تحقیق کے دوران آئرلینڈ کے سینٹ جیمز ہاسپٹل میں زیرعلاج رہنے والے 128 مریضوں کی نگرانی کی گئی تھی جن کو صحتیابی کے بعد ڈسچارج کردیا گیا تھا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ 52 مریضوں نے صحتیابی کے 10 ہفتوں بعد بھی مسلسل تھکاوٹ کو رپورٹ کیا۔

تحقیق میں یہ نہیں دیکھا گیا تھا کہ ان مریضوں میں کووڈ 19 کی شدت کتنی کم یا زیادہ تھی اور محققین نے دریافت کیا کہ ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والوں کو ہی طویل المعیاد اثرات کا خطرہ نہیں ہوتا بلکہ یہ ہر عمر کے مریضوں کے لیے ہوتا ہے۔

یہ پہلی تحقیق نہیں جس میں کورونا وائرس کو شکست دینے والے افراد میں طویل المعیاد بنیادوں پر علامات کا جائزہ لیا گیا۔

رواں ماہ اٹلی میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ یہ وائرس کتنے بڑے پیمانے پر دیرپا اثرات مرتب کررہا ہے۔

تحقیق کے مطابق کورونا وائرس سے اٹلی کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر بیرگامو کے 50 فیصد کے قریب افراد تاحال کووڈ سے مکمل طور پر صحتیاب نہیں ہوسکے اور اب بھی متعدد مسائل سامنا کررہے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ سے بات کرتے ہوئے کووڈ 19 کے طویل المعیاد اثرات کے حوالے سے ایک تحقیق کا حصہ بننے والی پوپ جان 13 کی وبائی امراض کی ماہر ڈاکٹر سیرینا وینٹوریلی نے بتایا 'لگ بھگ 50 فیصد مریضوں سے جب پوچھا گیا کہ وہ صحتیاب ہوچکے ہیں تو ان کا جواب انکار میں تھا'۔

تحقیق میں ایسے مریضوں کو شامل کیا گیا تھا جو مارچ اور اپریل کے دوران کورونا وائرس سے متاثر ہوئے اور بیماری کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئے، یعنی وائرس ان کے جسمانی نظام سے نکل چکا تھا۔

تحقیق کے دوران ابتدائی 750 افراد کا معائنہ کیا گیا اور 30 فیصد میں سانس کی مشکلات اور پھیپھڑوں پر خراشوں کو دریافت کیا گیا جبکہ دیگر 30 فیصد کو خون کے گاڑھا ہونے یا بلڈ کلاٹس اور ورم کے مسائل درپیش تھے۔

محققین نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ کئی ماہ بعد بھی متعدد اثرات دیکھنے میں آئے جن میں بالوں سے محرومی، بہت شدید تھکاوٹ، سنسناہٹ کا احساس، ڈپریشن، یادداشت سے محرومی اور ٹانگوں میں تکلیف شامل تھے۔

کچھ مریض جو وائرس سے متاثر ہونے سے پہلے کسی پر انحصار نہیں کرتے تھے، وہ اب بہت کمزور ہوچکے ہیں اور انہیں اپنے کاموں کے لیے رشتے داروں کی ضرورت پڑتی ہے یا وہیل چیئر کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ یہ اس وائرس کے چند اسرار میں سے ایک ہے کہ کچھ افراد کی صحتیابی کا عمل تو ہموار ہوتا ہے مگر کچھ کے لیے بہت مشکل ثابت ہوتا ہے۔

گزشتہ دنوں برطانیہ میں طبی ماہرین نے بھی انتباہ دیا تھا کہ کورونا وائرس کے نتیجے میں لاکھوں کو ممکنہ طور پر گردوں کے ڈائیلاسز یا پیوندکاری کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

یہ انتباہ طبی ماہرین کی جانب سے جاری کیا گیا جو کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے طویل المعیاد اثرات پر کام کررہے ہیں۔

طبی ماہرین نے برطانوی پارلیمان کی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کمیٹی کو بتایا کہ کورونا وائرس کے نتیجے میں ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے 90 فیصد مریضوں کو 2 سے 3 ماہ بعد بھی مختلف علامات جیسے سانس لینے میں مشکلات، جوڑوں میں تکلیف، تھکاوٹ سینے میں درد کا سامنا ہوسکتا ہے۔

سالفورڈ رائل این ایچ ایس ٹرسٹ کے ماہرین ڈونل او ڈونوگوف نے بتایا کہ گردوں کو پہنچنے والا نقصان زیادہ بڑا خدشہ ہے۔

ان کا ماننا ہے کہ یہ وائرس براہ راست گردوں پر حملہ کرتا ہے جبکہ گردوں کو وائرس کے نتیجے میں پھیلنے والے ورم سے بھی نقصان پہنچتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'عام حالات میں آئی سی یو میں زیرعلاج رہنے والے 20 فیصد افراد میں ڈائیلاسز کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، کووڈ کے دوران یہ شرح 40 فیصد تک چلی گئی اور 85 فیصد افراد کو کسی قسم کے گردوں کے نقصان کا سامنا ہوا'۔

انہوں نے بتایا کہ یہ معلوم نہیں کہ کتنے افراد کو زیادہ سنگین گردوں کے امراض کا سامنا ہوسکتا ہے، مگر یہ اعدادوشمار ممکنہ طور پر بہت زیادہ ہوسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'لاکھوں افراد کو ڈائیلاسز یا پیوندکاری کی ضرورت ہوسکتی ہے'۔

انہوں نے مزید بتایا کہ عام حالات میں ہر سال ساڑھے 6 ہزار افراد کو ڈائیلاسز اور پیوندکاری کے پروگرامز کا حصہ بنایا جاتا ہے۔

لیورپول یونیورسٹی کے نیورولوجی کے پروفیسر ٹام سولومن نے کمیٹی کو بتایا کہ کووڈ 19 کو شکست دینے والوں کو زیادہ تعاون فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'ڈاکٹروں نے متعدد مریضوں میں کووڈ 19 کے نتیجے میں مسائل کو دیکھا ہے اور یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان افراد کو کس قسم کی ضرورت ہوسکتی ہے'۔

سالفورڈ رائل این ایچ ایس ٹرسٹ کے ماہرین ڈونل او ڈونوگوف نے بتایا کہ گردوں کو پہنچنے والا نقصان زیادہ بڑا خدشہ ہے۔

ان کا ماننا ہے کہ یہ وائرس براہ راست گردوں پر حملہ کرتا ہے جبکہ گردوں کو وائرس کے نتیجے میں پھیلنے والے ورم سے بھی نقصان پہنچتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'عام حالات میں آئی سی یو میں زیرعلاج رہنے والے 20 فیصد افراد میں ڈائیلاسز کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، کووڈ کے دوران یہ شرح 40 فیصد تک چلی گئی اور 85 فیصد افراد کو کسی قسم کے گردوں کے نقصان کا سامنا ہوا'۔

انہوں نے بتایا کہ یہ معلوم نہیں کہ کتنے افراد کو زیادہ سنگین گردوں کے امراض کا سامنا ہوسکتا ہے، مگر یہ اعدادوشمار ممکنہ طور پر بہت زیادہ ہوسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'لاکھوں افراد کو ڈائیلاسز یا پیوندکاری کی ضرورت ہوسکتی ہے'۔

انہوں نے مزید بتایا کہ عام حالات میں ہر سال ساڑھے 6 ہزار افراد کو ڈائیلاسز اور پیوندکاری کے پروگرامز کا حصہ بنایا جاتا ہے۔

لیورپول یونیورسٹی کے نیورولوجی کے پروفیسر ٹام سولومن نے کمیٹی کو بتایا کہ کووڈ 19 کو شکست دینے والوں کو زیادہ تعاون فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'ڈاکٹروں نے متعدد مریضوں میں کووڈ 19 کے نتیجے میں مسائل کو دیکھا ہے اور یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان افراد کو کس قسم کی ضرورت ہوسکتی ہے'۔

کووڈ 19 کے طویل المعیاد اثرات پر کام کرنے والی تحقیقی ٹیم میں شامل لیسٹر یونیورسٹی کے پروفیسر کرس برائٹلنگ نے اس حوالے سے بتایا کہ 'اس سے عندیہ ملتا ہے کہ ہسپتال میں زیرعلاج رہنے کے بعد ڈسچارج ہونے والے مریضوں کا جائزہ 2 سے 3 ماہ بعد لیا جائے تو صرف 10 سے 15 فیصد افراد ہی مکمل طور پر علامات سے محفوظ ہوتے ہیں'۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی تحقیق میں شامل 50 مریضوں کے مکمل جسمانی اسکینز سے کووڈ 19 کے جسم پر مرتب اثرات کا انکشاف ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے گردوں، جگر، پھیپھڑوں اور دل کو پہنچنے والے نقصان کو دیکھا اور کسی حد تک دماغ بھی متاثر ہوا۔ جن مریضوں کا 2 ماہ بعد جائزہ لیا گیا ان میں سے ایک تہائی سے زائد میں یہ اثرات دیکھنے میں آئے، ہمیں متعدد شواہد ملے ہیں کہ متعدد اعضا اس ایک بیماری کے نتیجے میں کس طرح متاثر ہوئے، جسے آغاز میں نظام تنفس کی ایک بیماری سمجھا گیا تھا'۔

اگرچہ ابھی زیادہ تر تحقیق ان افراد پر ہورہی ہے جو کووڈ 19 کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہے مگر پروفیسر کرس برائٹلنگ نے خبردار کیا کہ طویل المعیاد اثرات خاص طور پر تھکاوٹ اور دائمی تکلیف اس بیماری سے معتدل حد تک بیمار رہنے والے افراد کے لیے بھی مسئلہ بن سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 'کچھ افراد کو شاید نمونیا ہوا ہو اور انہیں ہسپتال جانے کی ضرورت نہ پڑی ہو، مگر متعدد کو زیادہ اثرات کا سامنا ہوا ہوگا جس سے جسم کے متعدد اعضا متاثر ہوئے ہوں گے'۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ کچھ مسائل شاید وقت کے ساتھ مزید بدتر ہو، جیسے گردوں کو پہنچنے والا ابتدائی نقصان یا ذیابیطس کا آغاز۔

ماہرین کی جانب سے کمیٹی کو ایسے شواہد بھی فراہم کیے گئے جن سے کووڈ 19 سے جسم کو اعصابی مسائل جیسے فالج اور دماغی ورم پر روشنی ڈالی جاسکتی ہے۔