اسکول کھلنے کے بعد ملک بھر میں کیسز میں اضافہ نہیں ہوا، ڈاکٹر فیصل سلطان

اپ ڈیٹ 22 ستمبر 2020

ای میل

معاون خصوصی برائے صحت فیصل سلطان اور وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں— فوٹو: اسکرین شاٹ
معاون خصوصی برائے صحت فیصل سلطان اور وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں— فوٹو: اسکرین شاٹ

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ اسکول کھلنے کے بعد ملک بھر میں کیسز میں اضافہ نہیں ہوا اس لیے اسکول کھولنے کے دوسرے مرحلے کے التوا کا کوئی جواز نہیں۔

اسلام آباد میں معاون خصوصی برائے صحت کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے بتایا کہ ایک ہفتے کے دوران صحت کی صورتحال کا انتہائی بغور جائزہ لیا، مجھ سمیت ہمارے صوبائی وزرا نے اسکولوں کا دورہ کر کے وہاں معائنہ کیا اور کئی اسکول اس لیے بند نہیں کیے کہ وہان بیماری پھیلی تھی بلکہ اس لیے بند کیے کہ انہوں نے اسکول کھولنے کے لیے چے شدہ ایس او پیز پر عمل نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیں: اسکول جانے والے بچوں کو اپنی حفاظت کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

ان کا کہنا تھا کہ اسکول بند کرنے سے کچھ لوگوں نے غلط تاثر لیا کہ شاید بیماری میں اضافہ ہو رہا ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور انہیں قواعد کی خلاف ورزی پر بند کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج ہم نے جائزہ اجلاس منعقد کیا جس میں چاروں صوبوں کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے وزرا، سیکریٹریز اور باقی متعلقہ افراد شامل ہوئے، اس اجلاس وزیر اعظم کے معاون خصوصی فیصل سلطان کے ساتھ ساتھ محکمہ صحت کے افراد بھی موجود تھے جس میں ہم نے انفیکشن، ٹیسٹنگ کا بغور جائزہ لیا۔

شفقت محمود نے کہا کہ ساری چیزوں کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ صوبہ پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں کل سے چھٹی، ساتویں اور آٹھویں جماعت کی کلاسز اسکول میں شروع ہو جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے صرف ایک ضلع راولاکوٹ میں کلاسز شروع نہیں ہوں گی کیونکہ وہاں کچھ مسائل تھے لیکن باقی ساری جگہوں پر طالبعلم اصل ٹائم ٹیبل کے مطابق اسکول میں شرکت کریں گے۔

وزیر تعلیم نے بتایا کہ سندھ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ابھی یہ نہیں کریں گے، پتہ نہیں کیوں نہیں کیا کیونکہ انفیکشن کی شرح تو وہی ہے، ہماری خواہش تھی کہ مشترکہ فیصلہ سارے ملک کے لیے ہوتا لیکن انہوں نے کہا کہ ہم ایک ہفتہ اور جائزہ لیں گے۔

اس موقع پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ ہم نے اسکول کھولنے کا فیصلہ کیا تھا تو یہ طے ہوا تھا کہ اسکول مرحلہ وار کھولے جائیں گے اور اس میں ہر ہفتے جائزہ لیا جائے گا کہ ملک بھر میں کیسز کی کیا تعداد تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ممکن ہے اسکول 6 سے 8 ماہ تک نہ کھلیں، وزیر تعلیم سندھ

انہوں کہا کہ اسکول کھلنے کے بعد پچھلے ایک ہفتے کے اندر ملک بھر میں کیسز میں کوئی تبدیلی محسوس نہیں ہوئی اور کیسز میں اضافہ نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ مثبت کیسز کی شرح جون کے مہینے میں ایک موقع پر 22فیصد تک بھی پہنچ گئی تھی لیکن اس میں کمی آتی رہی اور اسکول کھلنے سے پہلے اس کی شرح 1.89فیصد تھی اور یہ شرح مستقل 2 فیصد سے نیچے چل رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ ایک ہفتے میں نہ ہی ہمیں مجموعی کیسز کی تعداد میں کوئی خاص کمی دکھ رہی ہے کہ جس کی بنیاد پر ہم اگلے مرحلے کو التوا میں ڈالتے اور نہ ہی مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں کیے گئے ٹیسٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سرکاری اداروں میں 74ہزار سے زائد ٹیسٹ ہوئے جبکہ نجی تعلیمی اداروں میں تقریباً 20ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے گئے۔

انہوں نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ صوبہ پنجاب کے سرکاری تعلیمی اداروں میں 32ہزار ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے صرف 35مثبت آئے اور یہ شرح 0.12 فیصد بنتی ہے جبکہ اسی طرح نجی اداروں میں کیے گئے 3ہزار 700 ٹیسٹ میں سے 0.55 مثبت آئے۔

معاون خصوصی نے بتایا کہ سندھ میں 21ہزار 500 ٹیسٹ سرکاری اداروں میں کیے گئے جس میں 96 مثبت آئے اور یہ شرح 0.76 بنتی ہے جبکہ نجی تعلیمی اداروں میں ساڑھے9ہزار ٹیسٹ کیے تھے جس میں 54 مثبت تھے جو شرح 0.88 فیصد بنتی ہے۔

مزید پڑھیں: سندھ کے نجی اسکولوں کو اپریل، مئی کی فیس میں 20 فیصد کمی کی ہدایت

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں سرکاری تعلیمی اداروں میں کیے گئے 6ہزار ٹیسٹ میں سے 27 مثبت ائے اور یہ شرح 1.7 بنتی ہے جبکہ وہاں نجی اداروں میں مثبت کیسز کی شرح 0.86 فیصد تھی۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں سرکاری اداروں میں مثبت کیسز کی شرح 11.8 تھی اور نجی اداروں میں وہاں کم ٹیسٹ کیے گئے کیونکہ وہاں ایسے نجی ادارے کم ہیں لیکن مجموعی صورتحال کو دیکھتے ہوئے انہوں نے کل سے چھٹی سے آٹھویں جماعت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ آزاد جموں و کشمیر میں سرکاری اداروں میں 2ہزار 689 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 28 مثبت آئے اور یہ شرح 1.04 فیصد بنتی ہے جبکہ گلگت بلتستان میں 3ہزار 208 ٹیسٹ کیے گئے تھے جن میں سے 45 مثبت آئے اور اس لحاظ سے یہ شرح 2.74 فیصد بنتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے علاقے میں سرکاری اداروں میں بالترتیب 5ہزار 971 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 9 مثبت آئے اور یہ شرح 0.14 فیصد بنتی ہے جبکہ نجی اداروں میں کیے گئے 5ہزار 549 ٹیسٹ میں سے صرف 4 مثبت آئے اور یہ شرح 0.40فیصد بنتی ہے۔