نیپرا نے بجلی کے نرخوں میں ایک روپے 62 پیسے اضافے کی منظوری دے دی

25 ستمبر 2020

ای میل

ریگولیٹر کے نئے نرخ وفاقی حکومت کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد مؤثر ہوجائیں گے—فائل فوٹو: اے ایف پی
ریگولیٹر کے نئے نرخ وفاقی حکومت کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد مؤثر ہوجائیں گے—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کے الیکٹر کے سوا بجلی کی دیگر تقسیم کار کمپنیوں کو 2 سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس کے تحت ایک کھرب 65 ارب روپے اکٹھا کرنے کو باضابطہ بنانے کے لیے نرخوں میں ایک روپے 62 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیپرا کے ایک ترجمان نے کہا کہ ریگولیٹر کے نئے نرخ وفاقی حکومت کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد مؤثر ہوجائیں گے۔

انہوں نے وضاحت کی اس وقت حکومت نئے پلانٹس کی شمولیت کے باعث گنجائش اور اضافی گنجائش کی ادائیگی، نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے سسٹم چارجز کے استعمال اور سسٹم نقصانات کی وجہ سے گزشتہ 5 سہ ماہیوں، جولائی 2018 تا ستمبر 2019کے لیے صارفین سے اوسطاً ایک روپے 56 پیسے فی یونٹ سرچارج وصول کررہی ہے جو 30 ستمبر کو ختم ہوجائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:نیپرا نے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں بجلی کے نرخ بڑھا دیے

چنانچہ اسے ستمبر 2019 تا مارچ 2020 دو سہ ماہیوں کے لیے ایک روپے 62 پیسے کی اوسط ٹیرف ایڈجسٹمنٹس سے تبدیل کردیا جائے گا۔

دوسرے الفاظ میں صارفین ٹیرف میں کمی سے محروم ہوجائیں گے جو ستمبر میں سرچارج ختم ہونے پر انہیں ملنی تھی۔

اپنے حکم میں نیپرا نے کہا کہ اس نے 73 ارب 6 کروڑ روپے کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس، دوسری سہ ماہی سے متعلق اور مالی سال 2019-20 کی تیسری سہ ماہی کے لیے 97 ارب 80 کروڑ روپے (مجموعی طور پر ایک کھرب 64 ارب 87 کرو روپے) کی اجازت دینے کے لیے ایک روپے 62 پیسے کے یکساں نرخ کا تعین کیا ہے۔

حکم میں کہا گیا کہ سابق واپڈا کی تقسیم کار کمپنیوں نے 20-2019 کی دوسری اور تیسری سہ ماہی میں پی پی پی میں تبدیلیوں، بشمول سسٹم نقصانات، کی وجہ سے ایڈجسٹمنٹس کی درخواستیں دائر کی تھیں اور ایک کھرب 62 ارب 36 کروڑ روپے صارفین پر منتقل کرنے کی استدعا کی تھی۔

مزید پڑھیں: ای سی سی نے کراچی کیلئے بجلی کے نرخوں میں اضافے کی منظوری دے دی

دریں اثنا وزارت توانائی نے تمام تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے دونوں سہ ماہیوں کے لیے ایڈجسٹمنٹس کی ان کی انفرادی درخواستوں کو منسلک کر کے ایک مشترکہ سہ ماہی درخواست دائر کی تھی۔

وزارت نے درخواست کی تھی کہ مالی سال 20-2019 کی دوسری اور تیسری سہ ماہی کے اثرات فائنل ریکوری تک سابق واپڈا کی تقسیم کار کمپنیوں کے تمام صارفین کے ماہانہ بل میں نظر آسکتے ہیں، کوئی بھی کمی یا اضافہ تقسیم کار کمپنیوں اور سی پی پی اے-جی کے مابین طے ہوگا۔