فوجی قیادت واضح کرے جو باتیں کر رہے ہیں کیا وہ ان کے ترجمان ہیں، فضل الرحمٰن

اپ ڈیٹ 25 ستمبر 2020

ای میل

مولانا فضل الرحمٰن سکھر میں اپنی جماعت کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے—فائل/فوٹو:ڈان
مولانا فضل الرحمٰن سکھر میں اپنی جماعت کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے—فائل/فوٹو:ڈان

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت کا ایک حلقہ سیاست دانوں اور فوج کو آپس میں لڑانا چاہتا ہے لیکن فوجی قیادت واضح کرے جو لوگ یہ باتیں کر رہے ہیں وہ ان کے ترجمان ہیں تو پھر میں بھی جواب دینے کا حق رکھتا ہوں۔

سکھر میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کی مجلس عاملہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے فوری بعد میرے خلاف بیان آنے سے ثابت ہوگیا ہے کہ تیر نشانے پر ٹھیک جالگا ہے۔

مزید پڑھیں:16 ستمبر کو اپوزیشن استعفے دے دیتی تو عام انتخابات ہو سکتے تھے، شیخ رشید

ان کا کہنا تھا کہ 'حکومت کے کچھ گماشتے آئے روز ایک بیان دیتے ہیں کہ فلاں سیاست دان کی خفیہ ملاقات آرمی چیف سے ہوئی، اس میں کبھی میرا تذکرہ ہے اور کبھی کچھ اور لوگوں کا تذکرہ ہے، ملاقات کرنا اور اس کو خفیہ رکھنا ان کی ضرورت ہے ہماری نہیں ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'اس قسم کی چیزیں عوام کے سامنے لانے سے ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ سیاست دانوں کا رویہ نرم ہے، اگر انہوں نے کہا کہ آئیں ہم آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے انکار نہیں کیا لیکن جب ایجنڈا سامنے آئے تو ہمارا کام ہے کہ اس کو قبول کریں یا مسترد کریں'۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 'سیاست دان اسٹیبلشمنٹ اور اپنی فوج کے ساتھ بات کرنے سے انکار نہیں کرتے، اب لوگ درمیان میں خبریں نکال رہے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ حکومت کا ایک حلقہ ہے جو سیاست دانوں اور فوج کو آپس میں لڑانا چاہتا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ایک بات میں فوج کی قیادت سے کہنا چاہتا ہوں کہ جو کچھ کہا گیا ہے، چونکہ میں ایک ذمہ دار آدمی ہوں، میں اس قسم کے لوگوں کے بیان پر تبصرہ نہیں کرتا، فوج کی قیادت اتنی وضاحت کرے کہ یہ اپنی طرف سے بول رہے ہیں یا ان کے ترجمان بن کر بول رہے ہیں، اگر وہ ان کے ترجمان بن کر بول رہے ہیں تو پھر مجھے حق ہوگا کہ میں سارے حقائق میدان میں لاؤں'۔

قبل ازیں وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج میں چارج شیٹ کرتا ہوں کہ مولانا فضل الرحمٰن نے جنرل قمر جاوید باجوہ سے ون ٹو ون ملاقات کی، اگر وہ غلط سمجھیں تو کسی چینل پر آجائیں، میں وہاں جانے اور یہ بتانے کے لیے تیار ہوں۔

وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ 16 ستمبر کی رات تمام رہنما آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے ملے تھے اور اس دن اگر یہ اپنے استعفے دے دیتے تو تبدیلی آسکتی تھی اور عام انتخابات ہو سکتے تھے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 'ایسا نہیں ہے کہ ہم ملک کی ضرورتوں اور حساسیت کو نہیں سمجھتے، میں آج بھی اسی لیے جواب نہیں دے رہا ہوں، جو بات کر رہے ہیں وہ غیر ذمہ دار ہیں، ذرا وضاحت تو کریں یہ ان کے نمائندے بن کر بات کر رہے ہیں یا پھر ان کو کنٹرول کریں'۔

اپنی جماعت کی مجلس عاملہ سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ 'ہم اس وطن عزیز میں حقیقی معنوں میں اس قوم کو ایک آزاد قوم دیکھنا چاہتے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'ابھی ایک ہفتہ پہلے ہمارے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ صاحب نے پارلیمانی لیڈرز کو بلایا اور کہا کہ میں نے اس لیے بلایا ہے کہ ہمیں گلگت بلتستان کے بارے میں کچھ فیصلے کرنے ہیں اور میں آپ کو اعتماد میں لینا چاہتا ہوں'۔

یہ بھی پڑھیں:جماعت کا کوئی رکن آئندہ عسکری قیادت سے غیر اعلانیہ ملاقات نہیں کرے گا، نواز شریف

سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ 'اب بلایا کس لیے تھا اور خبریں کیا چلائی جارہی ہیں، جب کچھ ساتھی آپس میں بیٹھتے ہیں تو ادھر ادھر کی باتیں ہو جاتی ہیں اور اس کو اپنے چیلوں کے ذریعے سے چینلوں پر اس کا تذکرہ کیا جاتا اور جس موضوع پر بلایا تھا اس کو چھپایا جارہا ہے، ایسا تاثر دیا جیسے سیاست دان اس کے پاس گئے ہیں اور سیاست دانوں نے خواہش ظاہر کی ہو'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'سیاست دانوں نے زبردست مظاہرہ کیا اور بالاتفاق آپ کی تجویز کو مسترد کردیا، وہ بات کیوں نہیں کرتے اور اس کا تذکرہ عوام میں کیوں نہیں کیا جارہا ہے، تو پھر ہم کیا سمجھیں ان تبدیلیوں اور اس سیاست کے پیچھے کون کارفرما ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ایوب خان کے دور میں ہم اور ہمارے اکابر گرفتار تھے اور آج اس کے لیے نیا ادارہ تشکیل دیا گیا ہے اس کا نام ہے نیب، آج کل سیاست دانوں کو نیب گرفتار کر رہا ہے، دیکھا جائے گا، یہ ہمیں ڈرانے والی چیز نہیں بلکہ ہم سے ڈریں لیکن جو کچھ میرے نام پر لکھا ہے وہ سب آپ سے پورا کرکے لوں گا'۔

انہوں نے کہا کہ '1994 میں بھی میرے بارے میں لکھا تھا، ہوٹل اور پلازے لکھے تھے، آج بھی آدھا پاکستان میرے حوالے کردو کہ وہ میری ملکیت ہے لیکن یہ گیدڑ بھبکیاں اپنے پاس رکھیں'۔

نیب کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'آج مجھ پر پہلا حملہ کیا گیا ہے، میرے منیجر طارق خان کے والد کو گرفتار کیا گیا ہے۔'

مزید پڑھیں:فضل الرحمٰن کے قریبی ساتھی موسیٰ خان گرفتار، 6 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آئین کے آرٹیکل 247 کے تحت فاٹا کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی تو پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ وہاں کے عوام سے پوچھیں ورنہ بھارت کشمیریوں سے نہیں پوچھے گا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ برس 5 اگست کو اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی، ہم نے تو فاٹا کی حیثیت ختم کرنے کی بھی مخالفت کی تھی کہ اگر آپ ایسا کر رہے ہو تو کل ہندوستان بھی ایسا کرے گا اور وہی ہوا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ فاٹا میں پاکستان کے صدر اور وزیراعظم کے اور اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کے صدر اور وزیراعظم کے اختیارات نہیں چلتے تھے، فاٹا کو پاکستان میں شامل تو کردیا گیا ہے لیکن وہاں جانے پر پابندی آج بھی برقرار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں دو سال کے دوران کوئی قانون سازی نہیں ہوئی، اگر ہوئی ہے تو آرمی ایکٹ میں آرمی چیف کی مدت بڑھانے اور دوسری بار ایف اے ٹی ایف کے لیے قانون سازی کی گئی۔