کراچی سرکلر ریلوے بحالی کی مجوزہ مدت سے تجاوز نہ کرنے کی ہدایت

اپ ڈیٹ 25 ستمبر 2020

ای میل

سپریم کورٹ نے فروری میں کے سی آر کو 6 ماہ میں بحال کرنے کی ہدایت کی تھی—فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ
سپریم کورٹ نے فروری میں کے سی آر کو 6 ماہ میں بحال کرنے کی ہدایت کی تھی—فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے حکومت سندھ کے ساتھ ساتھ پاکستان ریلویز کو خبردار کیا ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) کی بحالی کے لیے مجوزہ مدت سے تجاوز نہ کیا جائے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے پاکستان ریلوے کو درپیش خسارے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) نے کے سی آر روٹ کو آسانی سے چلانے کے لیے زیر زمین اور بالائی گزرگاہیں تعمیر کرنے کی تجویز دی ہے۔

سماعت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل چوہدری عامر رحمٰن، سیکریٹری ریلویز حبیب الرحمٰن گیلانی کے ساتھ ساتھ حکومت سندھ کے کچھ عہدیداران بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: 600 ارب کے بجائے صرف 15 ارب میں کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی ممکن؟

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے فروری میں کے سی آر کو 6 ماہ میں بحال کرنے کی ہدایت کی تھی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ایف ڈبلیو نے 11 زیر زمین گزرگاہوں کی تعمیر کا سروے مکمل کرلیا ہے جبکہ بقیہ 13 کا بھی جلد مکمل کرلیا جائے گا۔

عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ کے سی آر کی منصوبہ بندی کرلی گئی اور ڈیزائننگ کا کام جاری ہے، ایف ڈبلیو او ڈیزائن تیار اور تعمیری لاگت کا تخمینہ کرلے تو ان زیر زمین گزرگاہوں کی تعمیر کا ٹھیکا جلد دے دیا جائے گا۔

عدالت سے کراچی سرکلر ریلوے کو فعال کرنے کی حتمی مدت میں 6 ہفتوں کے اضافے کی بھی درخواست کی گئی۔

سماعت کے دوران سیکریٹری ریلوے نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ سندھ حکومت کی جانب سے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی اور دی گئی ٹائم لائنز کے اندر ٹرینیں چلانے کے لیے شب و روز کام ہورہا ہے۔

مزید پڑھیں: سرکلر ریلوے کے متاثرین کو محکمے کی زمین پر گھر بنا کر دیں گے، شیخ رشید

تجاوزات کے حوالے سے عدالت کو بتایا گیا کہ سندھ حکومت نے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں جبکہ سیکریٹری ریلوے نے کہا کہ زیادہ تر تجاوزات ختم کی جاچکی ہیں اور بقیہ بھی جلد ختم کردی جائیں گی۔

عدالت نے حکومت سندھ کو بقیہ تجاوزات ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آئندہ ٹریکس پر تجاوزات نہ ہوں۔

سپریم کورٹ نے مزید حکم دیا کہ حکومت سندھ تجاوزات کے خاتمے کے نتیجے میں متاثر ہونے والے افراد کی بحالی کے انتظامات کرے۔

قبل ازیں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ایک رپورٹ کو مسترد کردیا تھا جس میں ٹریک کے دونوں اطراف عمارتوں کی صورت میں تجاوزات دکھائی گئی تھیں۔

چیف جسٹس نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ کیا پاکستان ریلوے کے افسران کو ریاستی زمین کی کوئی فکر نہیں جس پر تجاوزات قائم کی گئیں اور سیکریٹری ریلوے سے کہا کہ جگہ کا معائنہ کر کے بذات خود زمینی صورتحال کا جائزہ لیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی سرکلر ریلوے کی ملکیت پر وفاق اور سندھ کے درمیان تنازع

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ محکمہ ریلوے کو تجاوزات کے خاتمے کے بعد عدالت سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔

خیال رہے کہ کے سی آر بحالی منصوبے میں کراچی سرکلر ریلوے کو ایک ماس ٹرانزٹ سسٹم میں تبدیل کرنا شام ہے، منصوبے کی مجموعی لمبائی 50 کلومیٹر تک محیط ہونے کی توقع ہے۔

1964 میں شروع ہونے والی پرانی کے سی آر کا راستہ ڈرگ روڈ سے شروع ہوتا تھا اور صدر تک جاتا تھا، سالوں تک بے انتہا نقصان اٹھانے کے بعد اسے 1999 میں بند کردیا گیا تھا۔


یہ خبر 25 ستمبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔