کراچی: 8 سالہ بچے کا ریپ کے بعد قتل

اپ ڈیٹ 25 ستمبر 2020

ای میل

رشتہ داروں نے متاثرہ بچے کا جنازہ کے ساتھ احتجاج کیا اور ملزم کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا — فائل فوٹو / رائٹرز
رشتہ داروں نے متاثرہ بچے کا جنازہ کے ساتھ احتجاج کیا اور ملزم کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا — فائل فوٹو / رائٹرز

کراچی کے علاقے ایف بی انڈسٹریل ایریا میں 8 سالہ بچے کو اغوا کرکے ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا۔

علاقے کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) فرخ شہریار نے کہا کہ ایف بی ایریا کی شفیق کالونی کے بلاک 22 سے جمعرات کی شام کو تقریباً سات سے آٹھ سال کی عمر کا بچہ لاپتہ ہوگیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ والدین کے بچے کے لاپتہ ہونے کی ایف آئی آر درج نہیں کروائی اور اس کی بجائے رات ساڑھے 10 بجے علاقے کی مساجد اعلانات کروائے۔

ان کا کہنا تھا کہ رات کو تقریباً ساڑھے 12 بجے علاقہ مکینوں نے ایک شخص کو چادر میں کچھ لے جاتے دیکھا، انہوں نے اس شخص کو روک لیا جس کی چادر سے بچے کی لاش برآمد ہوئی۔

پولیس افسر نے کہا کہ اسی دوران بچے کے تقریباً 25 پڑوسی اور رشتہ دار وہاں پہنچ گئے اور اس کے بعد بھی انہوں نے پولیس کو کوئی اطلاع نہیں دی اور نہ ہی مشتبہ شخص کو حوالے کیا۔

انہوں نے کہا کہ دعویٰ کیا کہ بچے کے والدین اور علاقہ مکینوں نے معاملے کے تصفیے کے لیے جرگہ بلایا۔

یہ بھی پڑھیں: 3 سالہ بچے کا ’بدفعلی کے بعد قتل‘، 15 سالہ ملزم گرفتار

تاہم اسی علاقے میں مقیم اسسٹنٹ سب انسپکٹر ذاکر نعیم کو معاملے کا پتہ چلا اور انہوں نے مددگار 15 پر اس کی اطلاع دی۔

پولیس نے موقع پر پہنچ کر مشتبہ ملزم کو حراست میں لیا اور بچے کی لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے رات تقریباً ڈیڑھ بجے عباسی شہید ہسپتال بھجوادیا گیا۔

— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

ڈاکٹروں کا حوالہ دیتے ہوئے ایس ایچ او نے کہا کہ بچے کے جسم پر بظاہر زخم کا کوئی نشان نہیں ہے، تاہم اس کے گلے پر رگڑ کے نشانات ہیں تاہم کیمیکل رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ سامنے آئے گی۔

ڈاکٹروں نے تفتیش کاروں کو یہ بھی بتایا کہ بچے کو جنسی تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔

پولیس نے بچے کے والد کی مدعیت میں زیر حراست مشتبہ ملزم کے خلاف ریپ اور قتل کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔

ابتدائی تفتیش کے دوران مشتبہ ملزم نے کبھی بچے کو ریپ کے بعد قتل کرنے کا اعتراف کیا تو کبھی اپنے بیان سے انحراف کیا۔

پولیس افسر فرخ شہریار کا کہنا تھا کہ پولیس نے علاقے سے معلومات حاصل کی جس میں انکشاف ہوا کہ زیر حراست ملزم ماضی میں بھی بچوں سے بدفعلی کے واقعات میں ملوث رہا ہے اور متاثرہ بچے کا پڑوسی ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی: پی آئی بی کالونی میں کمسن بچی کا ریپ کے بعد قتل

دوسری جانب رشتہ داروں نے متاثرہ بچے کا جنازہ کے ساتھ شفیق موڑ کے قریب مرکزی شاہراہ پر احتجاج کیا اور ملزم کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ 6 ستمبر کو کراچی کے علاقے پی آئی بی کالونی میں کچرا کنڈی سے 5 سالہ بچی کی جلی ہوئی بوری بند لاش ملی تھی جس کے بعد مقامی افراد نے یونیورسٹی روڈ کو کئی گھنٹوں تک احتجاجاً بند کردیا تھا جبکہ حکام کو ملزمان کی گرفتاری کے لیے تین دن کا الٹی میٹم دیا تھا۔

بچی پرانی سبزی منڈی کے علاقے سے 4 ستمبر کو لاپتا ہوئی تھی جبکہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب 6 ستمبر کو اسی علاقے سے بچی کی لاش ملی تھی۔

بعدازاں 16 ستمبر کو پولیس نے تھانہ پی آئی بی کالونی کی حدود پیر بخاری کالونی سے 6 سالہ بچی مروہ کے ساتھ ریپ اور قتل کے الزام میں تینوں ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا تھا اور انسداد دہشت گردی کی عدالت کے انتظامی جج نے ملزمان کو ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا تھا۔

قبل ازیں اگست میں ٹیکسلا میں پولیس نے نر توپہ گاؤں میں 3 سالہ بچے کو مبینہ طور پر بدفعلی کے بعد قتل کرنے کے الزام میں ایک 15 سالہ لڑکے کو گرفتار کرلیا تھا۔

خیال رہے کہ غیر سرکاری تنظیم 'ساحل' کی مارچ میں ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ 2019 میں ملک بھر سے بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے 2 ہزار 877 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ سال پاکستان میں ہر روز 8 سے زیادہ بچوں کو کسی نہ کسی طرح کی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق صنفی تقسیم سے معلوم ہوتا ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے مجموعی 2 ہزار 846 کیسز میں سے 54 فیصد متاثرین لڑکیاں اور 46 فیصد لڑکے تھے۔