مسلم لیگ (ن) کو کوئی توڑ سکتا ہے نہ کمزور کرسکتا ہے، احسن اقبال

اپ ڈیٹ 26 ستمبر 2020

ای میل

مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے پریس کانفرنس کی—فوٹو:ڈان نیوز
مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے پریس کانفرنس کی—فوٹو:ڈان نیوز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ حکومت کا اپوزیشن کو ڈرا دھمکا کر اسے دبانے کا ایجنڈا ناکام ہوگا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) جنرل (ر)مشرف کے مارشل لا کا بھی سامنا کرچکی ہے اور اس جماعت کو نہ کوئی توڑ سکتا ہے اور نہ کوئی کمزور کرسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے 11 ہزار میگا واٹ بجلی بنا کر عالمی ریکارڈ بنایا، اسی طرح جس ملک میں ایک ڈالر سرمایہ کاری کے لیے کوئی تیار نہیں تھا وہاں سی پیک کے تحت 29 ارب ڈالر کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا کر ریکارڈ بنایا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مردہ معیشت جو 3 فیصد پر لاک ہوچکی تھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت اسے 5.8 فیصد تک لے گئی تھی اور جنوری 2018 میں عالمی بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 2019 اور 2020 میں پاکستان 6 فیصد سے ترقی کرے گا تاہم تحریک انصاف کی حکومت اپنی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے اسے منفی پر لے آئی ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت نواز شریف کی وطن واپسی کیلئے عدالت جائے گی، شیخ رشید

انہوں نے کہا کہ جس طرح معیشت، توانائی پر کام ہوا، دہشت گردی کی جنگ پہلے بھی لڑی جارہی تھی تاہم اس میں خاطر خواہ کامیابی نہیں تھی، لیگی حکومت نے سیکیورٹی اداروں کو وسائل فراہم کیے جس سے ہم کامیاب ہوئے، یہ کارکردگی افریقہ کے کسی کمزور ملک نے بھی دکھائی ہوتی تو وہ 2 تہائی اکثریت سے کامیاب ہوجاتی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2018 کے انتخابات میں جادوگری اور آر ٹی ایس سسٹم کے ذریعے پی ٹی آئی کو فتح یاب کرایا گیا اور ملک کو ترقی دینے والی جماعت کو نکال باہر کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'کوئی یقین کرسکتا ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت واپس آجائے مگر پنجاب میں کارکردگی دکھانے والی جماعت کو شکست دے دی جائے'۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں اقلیتی جماعت کو مسلط کرکے صوبے کی درگت بنادی گئی ہے اور یہ جماعت اب پاکستان کو ون پارٹی ریاست بنانے کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے اور اس کی نشانی یہ ہے کہ اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے خلاف نیب گردی کی نئی لہر برپا کردی گئی ہے۔

شہباز شریف کی گرفتاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے بعد نیب کی جانب سے انہیں گرفتار کرنے کی کوشش نیب گردی ہی نہیں بلکہ سیاسی دہشت گردی بھی ہے جس کا مقصد اپوزیشن کا گلا گھونٹنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں جو مسلم لیگ (ن) نے مثالی گورننس کی ہے، حکومت چاہتی ہے کہ اپوزیشن کے ہاتھ پیر باندھ کر آئندہ انتخابات میں اپنا راستہ صاف کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کو گرفتار کرنے کا مقصد گلگت بلتستان میں انتخابات کے لیے دھاندلی کا آغاز کرنا ہے اور اگر حکومت نے 'پری پول دھاندلی' کے ہتھکنڈے بند نہیں کیے تو ہم بھرپور احتجاج کریں گے، سیاسی دہشت گردی اور دھاندلی کے ہتھکنڈے قبول نہیں کریں گے۔

لیگی رہنما نے دعویٰ کیا کہ نواز شریف نے گلگت بلتستان کو وہ ترقی دی جو 70 برسوں میں انہوں نے نہیں دیکھی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: 16 ستمبر کو اپوزیشن استعفے دے دیتی تو عام انتخابات ہو سکتے تھے، شیخ رشید

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں 51 ہزار بلدیاتی نمائندوں کو برطرف کرکے بلدیاتی اداروں میں اپنے لوگوں کو دھاندلی سے جتوانے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔

احسن اقبال کے مطابق پاکستان کا قانون عمران خان کی ذاتی جاگیر نہیں، عدلیہ آئین و قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی، سپریم کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور پنجاب ہائی کورٹ واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ کسی کو بھی ٹرائل سے پہلے گرفتار کرنا اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت سارا کام کردار کشی پر کر رہی ہے، جھوٹے الزامات لگاتی ہے، پنجاب کے ساتھ انتقام لیا جارہا ہے اور 10 سال کی جو محنت شہباز شریف نے کی اسے الٹ کیا جارہا ہے، آج تعلیم، صحت، انفرا اسٹرکچر کا ڈھانچہ گر رہا ہے، شہری پریشان ہیں کہ ان سے کس بات کا انتقام لیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'اگر نیب سمجھتا ہے کہ وہ جھوٹے مقدمے قائم کرکے پاکستان کے عوام کی جدوجہد سے ہمیں پیچھے ہٹادیں گا تو یہ اس کی بھول ہے'۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 'عمران خان نے جو اقتدار کے مزے دیکھنے شروع کیے ہیں وہ ہم بہت مرتبہ دیکھ چکے ہیں، مگر ہم اپنے بچوں کو لٹا ہوا اور نیب کے چیچک کے دعوؤں والا پاکستان نہیں دینا چاہتے بلکہ قائد اعظم کا پاکستان دینا چاہتے ہیں جہاں آئین کی بالادستی ہو'۔

ان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم کے پاکستان کا تصور اس لیے اب تک پورا نہیں ہوسکا کیونکہ 72 برسوں سے جب بھی پاکستان کے عوام کے ہاتھ میں اس کی باگ دوڑ آتی ہے اس حکومت کی ٹانگیں کھینچ دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہائیبرڈ جنگ سے آرمی چیف عوام کو متنبہ کر رہے ہیں اس جنگ کو فوج اکیلے نہیں جیت سکتی اس کا سامنا پورے معاشرے نے ملکر کرنا ہوتا ہے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 'عمران خان کی حکومت ہائیبرڈ جنگ کا سب سے بڑا آلہ کار بنی ہوئی ہے اور اپنی پالیسیوں سے معیشت تباہ کرکے، سیاسی انتشار پیدا کرکے، غربت پھیلا کر ان مقاصد کو حاصل کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں: 'اے پی سی ہوئی تو 30 دسمبر سے قبل ن لیگ سے ش لیگ الگ ہوجائے گی'

انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ پاکستان کی عدلیہ نیب کے غیر آئینی اقدامات کا نوٹس لے گی، ریفرنس دائر ہونے کے بعد فیصلہ ٹرائل کورٹ نے کرنا ہے لہٰذا اس موقع پر شہباز شریف کو گرفتار کرنا خالصتاً بدنیتی ہے۔

احسن اقبال نے مزید کہا کہ 'حکومت صحافیوں پر جھوٹے مقدمے بنارہی ہے ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں'۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 'میر شکیل الرحمٰن عمران خان کی ضد پر گرفتار ہیں، یہ وہی میر شکیل الرحمٰن ہے جس نے عمران خان کی پکار مہم چلائی تھی لیکن یہ شخص انتقام اور حسد پر سیاست کرتا ہے'۔

آخر میں انہوں نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ بجلی کے نرخوں، ادویات کی قیمتوں میں اضافے کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ہم اس پر بھرپور احتجاج کریں گے'۔