تحقیقات مکمل ہونے کے بعد پائلٹس کے لائسنس کا معاملہ ختم

اپ ڈیٹ 27 ستمبر 2020

ای میل

3 ماہ میں مکمل ہونے والی  رپورٹ کے مطابق 42 پائلٹس کو انتباہ جاری کیا گیا — فائل فوٹوؔ: سی اے اے فیس بک
3 ماہ میں مکمل ہونے والی رپورٹ کے مطابق 42 پائلٹس کو انتباہ جاری کیا گیا — فائل فوٹوؔ: سی اے اے فیس بک

اسلام آباد: سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے کہا ہے کہ انکوائری اور تصدیق کے عمل کی تکمیل اور 82 پائلٹس کے خلاف کارروائی کے بعد مشتبہ پائلٹس کے لائسنسز کا معاملہ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ترجمان سی اے اے کے مطابق اس ضمن میں ڈائریکٹر جنرل نے پچھلے دنوں میں متعدد احکامات جاری کیے ہیں جو یا تو لائسنس کی منسوخی یا معطل کرنے سے متعلق تھے۔

مزیدپڑھیں: کراچی طیارہ حادثہ: پائلٹ اور معاون کے ذہنوں پر کورونا سوار تھا، وزیر ہوا بازی

پائلٹس کے لائسنسز سے متعلق شکوک و شبہات کو دور کرتے ہوئے سی اے اے نے مختلف ائیرلائنز میں خدمات انجام دینے والے 180 پاکستانی پائلٹس کے لائسنس کی تصدیق / جانچ پڑتال کے بعد کلیئرنس دے دی۔

جون میں تھرڈ پارٹی انکوائری رپورٹ کے مطابق 250 سے زائد پائلٹس کے کمپیوٹر پر مبنی امتحانات میں عدم تضادات کی وجہ سے مشتبہ لائسنس رکھنے کی نشاندہی کی گئی تھی۔

قومی اور بین الاقوامی میڈیا میں ان لائسنسز کے بارے میں خبر آنے کے بعد انہیں فوری طور پر معطل کردیا گیا تھا۔

سی اے اے کے تحت کی جانے والی حتمی تحقیقات کے نتائج وفاقی کابینہ کو بھیج دیے گئے ہیں۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ انکوائری مسافروں اور ہوائی سفر کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے عدم رواداری اور شفافیت سے تیار کی ہے۔

اعداد و شمار سے انکشاف ہوا کہ 82 پائلٹس نے تکنیکی امتحانات لینے کے دوران دھوکا دہی اور غلط بیانی کی جبکہ 50 لائسنس منسوخ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے اور چھوٹے رینک کے 32 پائلٹس کے لائسنس 6 سے 9 ماہ کی مدت کے لیے معطل کردیے گئے۔

مزید پڑھیں: 28 پائلٹس کے لائسنس جعلی ثابت، کیس کابینہ میں لے جانے کا فیصلہ

ذرائع نے انکشاف کیا کہ ان 180 پائلٹس کے لائسنس کلیئر کردیے گئے جنہوں نے اصولوں کے مطابق امتحانات دیے تھے لیکن انہوں نے یا تو فلائٹ ڈیوٹی ٹائم کی حدود کی خلاف ورزی کی یا ایئر لائنز آپریٹرز کے فراہم کردہ ڈیٹا میں غلطیاں کی تھیں۔

3 ماہ میں مکمل ہونے والی اور کابینہ کو پیش کی جانے والی اس رپورٹ کے مطابق 42 پائلٹس کو انتباہ جاری کیا گیا۔

سی اے اے کے ترجمان نے توقع ظاہر کی کہ اس سارے معاملے کے منطقی انجام سے پاکستانی ہوا بازی کے شعبے میں عالمی برادری کا اعتماد بحال ہوگا۔

دوسری جانب بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے پہلے ہی سی اے اے کو نئے لائسنس جاری کرنے سے پہلے اپنے 'پائلٹ لائسنسنگ سسٹم' کو فوری طور پر ازسر نو جائزہ لینے کی تجویز دی ہے اور 2 اکتوبر تک رپورٹ طلب کی ہے۔

پائلٹس کے 'مشکوک' لائسنسز کا معاملہ

خیال رہے کہ پائلٹس کے مشکوک یا جعلی لائسنسز کے معاملے کا آغاز 24 جون کو اس وقت ہوا جب قومی اسمبلی میں کراچی مسافر طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ 860 پائلٹس میں سے 262 ایسے پائے گئے جن کی جگہ کسی اور نے امتحان دیا تھا۔

جس کے بعد پاکستان نے 26 جون کو امتحان میں مبینہ طور پر جعل سازی پر پائلٹس کے لائسنسز کو 'مشکوک' قرار دیتے ہوئے انہیں گراؤنڈ کردیا تھا۔

غلام سرورخان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 'جن پائلٹس پر سوالات اٹھائے گئے ہیں وہ 262 ہیں، پی آئی اے میں 141، ایئربلیو کے 9، 10 سرین، سابق شاہین کے 17 اور دیگر 85 ہیں'۔

جس کے بعد پی آئی اے کی انتظامیہ نے اپنے 150 پائلٹس کو گراؤنڈ کرنے (کام کرنے سے روکنے) کا فیصلہ کیا تھا۔

29 جون کو ویتنام کی ایوی ایشن اتھارٹی نے عالمی ریگولیٹرز کی جانب سے پائلٹس کے ’مشکوک لائسنس‘ رکھنے کی تشویش پر مقامی ایئرلائنز کے لیے تمام پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کردیا تھا۔

اگلے روزیورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے یورپی ممالک کے فضائی آپریشن کا اجازت نامہ 6 ماہ کے لیے عارضی طور پر معطل کردیا تھا جس پر 3 جولائی سے اطلاق ہوا۔

اسی روز اقوام متحدہ کے ڈپارٹمنٹ آف سیفٹی اینڈ سیکیورٹی (یو این ڈی ایس ایس) نے پاکستانی ایئرلائن کو اپنی 'تجویز کردہ فہرست' سے ہٹا دیا تھا۔

جس کے بعد یکم جولائی کو برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنے 3 ایئرپورٹس سے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا جبکہ متحدہ عرب امارت نے بھی سول ایوی ایشن اتھارٹی سے مختلف فضائی کمپنیوں میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس اور انجینئرز کے کوائف کی تصدیق کی درخواست کی تھی۔

اس کے بعد 3 جولائی کو ملائشیا کے ایوی ایشن ریگولیٹر نے پاکستانی لائسنس رکھنے والے اور مقامی ایئر لائنز میں ملازمت کرنے والے پائلٹس کو عارضی طور پر معطل کردیا تھا۔

جس کے بعد 4 جولائی کو وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد مزید 30 ’مشتبہ لائسنس' کے حامل پائلٹس کو اظہار وجوہ کے نوٹسز بھیجے جاچکے ہیں۔

7 جولائی کو یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے 32 رکن ممالک کو 'پاکستان میں جاری کردہ پائلٹ لائسنسز سے متعلق مبینہ فراڈ' کے حوالے سے خط لکھا اور ان پائلٹس کو فلائٹ آپریشن سے روکنے کی سفارش کی تھی۔

اسی روز سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 'مشکوک' لائسنسز سے متعلق انکوائریاں مکمل ہونے کے بعد پی آئی اے کے 34 پائلٹس کے کمرشل فلائنگ لائسنسز معطل کردیے تھے۔

بعدازاں 9 جولائی کو امریکا نے بھی پاکستانیوں کی واپسی کے لیے قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کی خصوصی پروازوں کے اجازت نامے کو منسوخ کردیا تھا۔

10 جولائی کو ایوی ایشن ڈویژن نے مختلف ممالک کی ایئرلائنز میں کام کرنے والے 95 فیصد پائلٹس کے لائسنز کلیئر کردیے تھے جبکہ باقی کی تصدیق کا عمل آئندہ ہفتے مکمل کرنے سے متعلق آگاہ کیا تھا۔