یکطرفہ کہانیاں پیش کرنا، میڈیا کو قابو کرنا درست نہیں، جسٹس قاضی فائز عیسٰی

اپ ڈیٹ 28 ستمبر 2020

ای میل

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن کی حلف برداری تقریب سےخطاب کیا—فائل/فوٹو:ڈان
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن کی حلف برداری تقریب سےخطاب کیا—فائل/فوٹو:ڈان

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے معاشرے میں میڈیا کی آزادی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آزاد اور توانا میڈیا جمہوریت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔

سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن کی حلف برداری تقریب سےخطاب میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 'آگاہی رکھنے والے شہری اور صحافی حکومت کی غلطیوں کی بہتر نشان دہی اور احتساب کا مطالبہ کرتے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'اختیار رکھنے والے افراد کو معلوم ہوجائے کہ انہیں عوام کی اسکروٹنی کا سامنا ہے تو وہ اپنے اختیار بے جا استعمال کم کرتے ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں:جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کون ہیں؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ صحافی ججوں، مسلح افواج کے عہدیداروں اور قانون سازوں سمیت سرکاری ملازمین کے برعکس قانونی طور پر حلف اٹھانے کے پابند نہیں ہیں اور ایسا کرنا صحافیوں کی ساکھ کا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'میری دعا ہے کہ آپ حلف کی پاسداری مضبوطی سے کریں اور دباؤ سے ہٹ کر کھڑے رہیں، اگر حلف کی پاسداری کی جاتی تو اس ملک کی حالت مختلف ہوتی'۔

عدالت عظمیٰ کے جج نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 19 نے تمام شہریوں کو آزادی اظہار کا حق دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 18 ویں ترمیم نے وفاقی اور صوبائی حکومت کے عوامی مفاد سے متعلق تمام معاملات پر معلومات تک رسائی کا حق دے کر آزادی اظہار کو مزید مؤثرکردیا ہے۔

اپنے خطاب کے دوران انہوں نے غیر جانب دار میڈیا کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 1991 میں 'سوچ کی آزادی جس سے ہم نفرت کرتے ہیں' کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا، جس میں پی ٹی وی کے نیوز بلیٹن کا حوالہ دیا گیا تھا جہاں اس وقت کے وزیرداخلہ نے اپوزیشن لیڈر پر نکتہ چینی کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹی وی چینل نے اپوزیشن لیڈر کی تقریر نشر نہیں کی تھی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 'یک طرفہ کہانی پیش کرنا، مخصوص پیغام نشر کرنا اور میڈیا کو قابو کرنا درست نہیں ہے'۔

سندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اجمل میاں کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ 'یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ براڈ کاسٹنگ کارپوریشن اور ٹیلی ویژن کارپوریشن اپنی ساکھ اور آزادانہ حیثیت ثابت نہیں کرپائیں'۔

مزید پڑھیں:جسٹس فائز عیسیٰ کیس کا تفصیلی فیصلہ جلد آنے کا امکان

انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے جب برصغیر میں برطانوی راج تھا تو پریس ایکٹ کے خلاف بات کی تھی اور اپنے فرائض انجام دینے والے صحافیوں کے تحفظ کے لیے کھڑے ہوئے تھے۔

سپریم کورٹ کے جج نے کہا کہ آزادی کے بعد پاکستان یونیورسل ڈیکلیریشن آف ہیومن رائٹس پر دستخط کرنے والا 48 واں ملک تھا، جس میں آرٹیکل 19 کے تحت آزادی اظہار کو تسلیم کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے دور میں پاکستان کے لیے شان دار آغاز کیا گیا تھا۔

انہوں نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ 'کیا یہ آزاد پریس کا عزم ہوتا ہے کہ یا روشن ہو یا پھر گل ہوجائے'۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ اگر شہریوں نے آزادی اظہار کے حق پر ہار مان لی تو ان کے دیگر حقوق بھی چھین لیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب لوگ پریس کی آزادی کے لیے جنگ لڑتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے وہ اپنے حقوق کے لیے جنگ لڑتے ہیں، یہ ضروری ہے کہ ناانصافی، کرپشن کو سامنے لایا جائے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ پاکستان فریڈم انڈیکس میں 180 ممالک میں سے 2017اور2018 میں 139نمبر تھا جو 2019میں 142نمبر پر پہنچ گیا۔