ایران نے 'دہشت گردوں کی ٹریننگ' کا سعودی دعویٰ مسترد کردیا

اپ ڈیٹ 29 ستمبر 2020

ای میل

سعودی سکیورٹی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ چھاپہ مار کارروائی یا گرفتاری کہاں عمل میں آئی—فوٹو: رائٹرز
سعودی سکیورٹی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ چھاپہ مار کارروائی یا گرفتاری کہاں عمل میں آئی—فوٹو: رائٹرز

ایران نے سعودی عرب کے اس الزام کو مسترد کردیا جس میں کہا گیا تھا کہ تہران نے دہشت گردوں کے سیل کی ٹریننگ کی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق سعودی عرب نے گزشتہ روز الزام لگایا تھا کہ ریاض نے رواں ماہ کے شروع میں 10 افراد کو گرفتار کیا اور ایک دہشت گردوں کے سیل سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا جنہیں ایران کے پاسداران انقلاب نے ٹریننگ دی تھی۔

مزید پڑھیں: اسرائیل سے تعلقات، بحرین کے بعد کون؟ نشانہ ایران یا کوئی اور؟

تاہم سعودی سکیورٹی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ چھاپہ مار کارروائی یا گرفتاری کہاں عمل میں آئی۔

ریاستی سیکیورٹی نے کہا کہ ’ایوان صدر میں متعلقہ حکام نے ایک دہشت گرد سیل کو ناکام بنا دیا جس کے دہشت گردوں نے ایران میں پاسداران انقلاب کے محافظوں سے دھماکا خیز مواد بنانے کے بارے میں فوجی اور فیلڈ ٹریننگ حاصل کی تھی‘۔

سرکاری میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ’تفتیش سے دہشت گردوں کی شناخت، اسلحہ اور دھماکا خیز مواد ذخیرہ کرنے کے لیے 2 سائٹس (مقامات) کا انکشاف ہوا ہے‘۔

بیان میں کہا گیا کہ پکڑی گئی اشیا میں سے دیسی ساختہ دھماکا خیز ڈیوائس (آئی ای ڈی)، درجنوں اسٹن گن، بارود اور مختلف قسم کی رائفلیں اور پستول شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی فرمانروا کا اقوام متحدہ میں خطاب، ایران کے خلاف اتحاد کا مطالبہ

علاوہ ازیں حراست میں لیے گئے 10 افراد میں سے تین نے ایران میں تربیت حاصل کی تھی۔

بیان میں کہا گیا کہ ’متعلقہ حکام نےان کی سرگرمیوں اور ریاست اور بیرون ملک ان سے وابستہ افراد کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے گرفتار تمام افراد سے تفتیش شروع کردی ہے‘۔

ایران کی وزارت خارجہ نے سعودی عرب کے الزام کو ’مکمل طور پر من گھڑت‘ قرار دیا۔

ترجمان سعید خطیب زادہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’سعودی حکمرانوں نے سیاسی سمجھ بوجھ کو پس پشت ڈال دیا ہے اور اب عالمی رائے عامہ کی توجہ ہٹانے اور اپنی ناکام کوششوں کو چھپانے کے لیے ایران کے خلاف جھوٹ بولنے کا انتخاب کیا‘۔

واضح رہے کہ ریاض اور تہران کے درمیان تعلقات کئی برس سے کشیدہ ہیں۔

سعودی عرب نے 2016 میں ایران میں سفارتخانے پر مظاہرین کے حملوں کے بعد تہران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کردیے تھے جب ریاض میں شیعہ عالم کو پھانسی دی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب کے بعد بحرین کی بھی 'اسرائیلی پروازوں کو' فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت

گزشتہ برس خلیج میں آئل ٹینکروں پر حملوں کے سلسلے میں بھی کشیدگی بڑھ گئی تھی جس کا واشنگٹن نے تہران پر الزام لگایا تھا جبکہ ایران نے کسی بھی حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا تھا۔