انجینئرنگ کونسل، اربن فلڈنگ سے نمٹنے میں حکومت کی مدد کو تیار

اپ ڈیٹ 30 ستمبر 2020

ای میل

بارش کے پانی کی فوری نکاسی کو یقینی بنانے کے لیے کراچی کی تمام بڑی سڑکوں کے ماسٹر پلان پر نظر ثانی کی جائے گی، پی ای سی۔ فائل فوٹو:اے ایف پی
بارش کے پانی کی فوری نکاسی کو یقینی بنانے کے لیے کراچی کی تمام بڑی سڑکوں کے ماسٹر پلان پر نظر ثانی کی جائے گی، پی ای سی۔ فائل فوٹو:اے ایف پی

اسلام آباد: پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) کے تھنک ٹینک برائے پانی نے اپنے 11 ویں اجلاس میں کراچی میں نکاسی آب اور کچرے کو ٹھکانے لگانے سے متعلق مسائل کے پائیدار حل کے لیے 30 دن میں ٹھوس اقدامات تجویز کرکے حکومت سے اپنی مہارت شیئر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اجلاس کی صدارت پی ای سی کی گورننگ باڈی کے انجینئر محمد وسیم اصغر نے کی جس میں آگاہ کیا گیا کہ اس سال پورٹ سٹی میں 468 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جس نے 50 سالہ ریکارڈ توڑ دیا۔

پی ای سی باڈی نے تجویز پیش کی کہ بارش کے پانی کی فوری نکاسی کو یقینی بنانے کے لیے کراچی کی تمام بڑی سڑکوں کے ماسٹر پلان پر نظر ثانی کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: سندھ بھر میں موسلادھار بارش، کراچی میں مختلف حادثات میں 7 افراد جاں بحق

اجلاس کو پہلے بتایا گیا تھا کہ شدید بارشوں کی وجہ سے اربن فلڈنگ سے بچنے کے لیے کراچی کے 68 گٹر لائینوں کو نالے میں تبدیل کرنا پڑے گا۔

ڈاکٹر لاکھانی نے اجلاس میں اربن فلڈنگ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی جس کے بعد حکومت کی جانب سے ملک کے مالی مرکز کے بلدیات اور انفرا اسٹرکچر کے امور کو حل کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے 11 کھرب روپے مالیت کے کراچی ٹرانسفارمیشن پیکج کا اعلان کیا گیا تھا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے شہروں میں سے ایک ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر 20 ہزار ٹن ٹھوس کچرا پیدا ہوتا ہے جبکہ متعلقہ حکام کی صلاحیت یہ ہے کہ وہ صرف ایک دن میں 3 سے 4 ٹن اٹھاسکتے ہیں۔

انہوں نے مشاہدہ کیا کہ کہ باقی کچرا گراؤنڈز، خالی پلاٹوں، سڑک کے کنارے، عوامی پارکوں اور نالوں کے ساتھ پھینک دیا جاتا ہے، انہوں نے کراچی میں ٹھوس کچرے کو مناسب طریقے سے ضائع کرنے کے لیے ایک جدید اور سائنسی لینڈ فل سائٹ کی تجویز پیش کی۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ بھر میں موسلادھار بارش، کراچی میں مختلف حادثات میں 7 افراد جاں بحق

یہ مشاہدہ کیا گیا کہ اس طرح کی جدید لینڈ فل سائٹ پاکستان کے کسی بھی شہر میں قائم نہیں کی گئی جس میں منصوبہ بند وفاقی دارالحکومت بھی شامل ہے۔

اجلاس میں اس پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ گھر کے کچرے کو مناسب طریقے سے ضائع کرنے کے بارے میں عوامی بیداری بھی ضروری ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ لوگ براہ راست برساتی نالوں میں کچرا نہ پھینکیں۔

اس کے علاوہ پانی کو کم کرنے کے لیے ایک ماحولیاتی مطالعہ بھی تجویز کیا گیا۔

پی ای سی کے اجلاس میں یہ بھی تجویز دی گئی کہ حکومت بارشوں کے پانی کی نکاسی کے انتظام کے لیے ایک الگ اتھارٹی قائم کرے۔

اس نے شہر میں بارشوں کے پانی کی نکاسی کے لیے علیحدہ اتھارٹی بنانے کی بھی تجویز دی اور مشاہدہ کیا کہ کراچی میں کثیر المنزلہ عمارتوں نے 50 سالہ قدیم سیوریج اور نکاسی آب کے نظام کو تباہ کردیا ہے۔

تھنک ٹینک کا کہنا تھا کہ حکام نے بارش کے پانی کے نکاسی کے نظام پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی کیونکہ 1985 سے 2005 تک کم از کم 20 سال تک کراچی میں زیادہ سے زیادہ سالانہ بارش 100 ملی میٹر سے کم رہی۔

تاہم اس سال مون سون کی بارشوں نے 24 گھنٹوں میں 233 ملی میٹر بارش کے ساتھ 50 سالہ ریکارڈ توڑ دیا جس سے شہر کے بیشتر حصے تالاب بن گئے۔