پی ڈی ایم کے کوئٹہ جلسے سے قبل بلاول بھٹو سے اختر مینگل کی ملاقات

اپ ڈیٹ 01 اکتوبر 2020

ای میل

دونوں رہنماؤں نے ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور سیاسی جماعتوں کے درمیان تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ فوٹو:پی پی پی ٹوئٹر
دونوں رہنماؤں نے ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور سیاسی جماعتوں کے درمیان تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ فوٹو:پی پی پی ٹوئٹر

اسلام آباد: بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل (بی این پی-ایم) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے دبئی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

ان کی یہ ملاقات ایسے وقت میں سامنے آئی جب نئی بننے والی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے ایک روز قبل ہی کوئٹہ میں 11 اکتوبر کو پہلا عوامی جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پیپلز پارٹی کے میڈیا آفس سے جاری ایک مختصر بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ’ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور جمہوریت کو مستحکم کرنے اور آئین کی بالادستی کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان تعاون‘ پر تبادلہ خیال کیا۔

مزید پڑھیں: اپوزیشن اتحاد 'پی ڈی ایم' کا 11 اکتوبر کو کوئٹہ میں جلسے کا اعلان

پیپلز پارٹی کے چیئرمین کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے ڈان کو بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے اپوزیشن جماعتوں کی 20 ستمبر کی ملٹی پارٹی کانفرنس (ایم پی سی) کے فیصلوں کے مطابق حکومت مخالف مہم چلانے کے لیے آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے وزیر ثقافت، یوتھ اینڈ سوشل ڈیولپمنٹ شیخ نہیان بن مبارک النہیان نے بھی پیپلز پارٹی کے چیئرمین سے ملاقات کی اور مستقبل میں تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔

واضح رہے کہ بی این پی کے سربراہ اختر مینگل نے جون میں قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران تحریک انصاف پر بی این پی-ایم کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے وفاق میں حکمران جماعت سے اتحاد ختم کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن کی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ تشکیل، وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ

اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے اختر مینگل نے کہا تھا کہ ان کی پارٹی نے اپوزیشن کے بینچز پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن وہ اپنی آزاد حیثیت برقرار رکھے گی۔

تاہم بعدازاں جماعت نے اسلام آباد میں اپوزیشن کی ایم پی سی میں حصہ لیا تھا جس میں 11 جماعتوں کے رہنماؤں نے اعلان کیا تھا کہ وہ اکتوبر سے ملک گیر عوامی جلسوں، احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کے ساتھ ’ایکشن پلان‘ کا آغاز کریں گے اور حکومت مخالف تحریک چلائیں گے جس کے تحت دسمبر اور جنوری 2021 میں اسلام آباد کی طرف ایک ’فیصلہ کن لانگ مارچ‘ بھی منعقد کیا جائے گا۔