کورونا وائرس کا لوگوں کے خوابوں پر مرتب ہونے والا عجیب اثر

02 اکتوبر 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے نتیجے میں 2020 دنیا بھر کے کروڑوں افراد کے لیے بھیانک خواب بن چکا ہے، کیونکہ طبی مسائل، معاشی مسائل اور دیگر چیلنجز کا سامنا ہے۔

مگر اب ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متعدد افراد کے لیے یہ بیماری حقیقی معنوں میں بھیانک خواب بن چکی ہے۔

درحقیقت لاتعداد افراد اس وقت رات کو نیند کے دوران ڈراؤنے خواب دیکھ رہے ہیں۔

یہ دعویٰ فن لینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

طبی جریدے فرنٹیئرز ان سائیکولوجی میں شائع تحقیق میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس کی مدد سے ہزاروں افراد کے خوابوں کے مواد کا تجزیہ کیا گیا۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کورونا وائرس کے نتیجے میں 50 فیصد سے زیادہ افراد ڈراؤنے خواب دیکھنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

اس تحقیق میں فن لینڈ میں لاک ڈاؤن کے چھٹے ہفتے کے دوران 4 ہزار سے زائد افراد کے نیند اور تناؤ کا ڈیٹا جمع کیا گیا، جبکہ 800 نے اپنے خوابوں کے بارے میں بتایا، اکثر نے وبا کے دوران ذہنی بے چینی کی شکایت بھی کی۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان افراد میں کووڈ 19 کے لاک ڈاؤن کا بہت اثر ہوا، نتائج سے ہمیں یہ اندازہ لگانے میں مدد ملی کہ مشکل حالات میں دیکھے جانے والے خوابوں سے یادداشت پر مرتب اثرات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

تحقیق کے دوران لوگوں کے خوابوں کو تحریر کرکے اس ڈیٹا کو اے آئی الگورتھم میں فیڈ کیا گیا جو خوابوں کے مرکزی خیالات کے مطابق انہیں مخلتف مجموعوں کی شکل دے دیتا۔

اس کے نتیجے میں 33 مجموعے بنے جن میں سے 20 مجموعوں کو ڈراؤنے خواب قرار دیا گیا، جبکہ 55 فیصد مواد وبا سے متعلق تھا۔

جیسے سماجی دوری میں ناکامی، کورونا وائرس سے متاثر ہونے، حفاظتی آلات، قیامت جیسی تباہی اور دیگر۔

محققین نے بتایا کہ اے آئی پر مبنی تجزیاتی ڈیٹا کا استعمال خوابوں کی تحقیق کے لیے ایک بالکل نیا طریقہ ہے، ہمیں توقع ہے کہ مستقبل میں اس طرح کا مزید کام کیا جائے گا۔

تحقیق میں کورونا وائرس کی وبا کے دوران لوگوں کی نیند کی عادات اور تناؤ کی سطح پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

مثال کے طور پر 50 فیصد سے زیادہ افراد نے بتایا کہ وہ لاک ڈاؤن سے پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ سونے لگے ہیں جبکہ 10 فیصد کے لیے نیند کا حصول مشکل ہوگیا جبکہ 25 فیصد سے زیادہ نے مسلسل بھیانک خواب دیکھنے کو رپورٹ کیا۔

50 فیصد سے زیادہ افراد میں تناؤ بڑھ گیا اور جو سب سے زیادہ تناؤ کا شکار تھے ان مین وبا سے متعلق خوابوں کی شرح بھی دیگر سے زیادہ تھی۔