سی سی پی او نے لاہور-سیالکوٹ موٹر وے پر پولیس تعینات کرنے سے انکار کردیا

اپ ڈیٹ 02 اکتوبر 2020

ای میل

انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس انعام غنی نے لاہور پولیس کو لاہور-سیالکوٹ موٹر وے پر گشت کرنے کے لیے اہلکار تعینات کرنے کا حکم دیا تھا۔ فائل فوٹو:ڈان نیوز
انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس انعام غنی نے لاہور پولیس کو لاہور-سیالکوٹ موٹر وے پر گشت کرنے کے لیے اہلکار تعینات کرنے کا حکم دیا تھا۔ فائل فوٹو:ڈان نیوز

لاہور کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) عمر شیخ نے اہلکاروں کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے مسافروں کی سیکیورٹی کے لیے پولیس کو لاہور-سیالکوٹ موٹر وے پر تعینات کرنے سے انکار کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 9 ستمبر کو ایک خاتون کو گجرانوالہ سے لاہور جاتے ہوئے پیٹرول ختم ہوجانے کے باعث اس کے تین بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے واقعے کے بعد انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس (آئی جی پی) انعام غنی نے لاہور پولیس کو لاہور-سیالکوٹ موٹر وے پر گشت کرنے کے لیے اہلکار تعینات کرنے کا حکم دیا تھا۔

لاہور پولیس چیف نے آئی جی پی کے احکامات کے جواب میں لکھے گئے خط میں کہا کہ ’عرض ہے کہ لاہور ضلعی پولیس کو پہلے ہی پولیس کے ہر عہدے پر افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے اور کسی بھی افسر کو صوبائی دارالحکومت سے کسی دوسرے ضلع میں منتقل کرنا مشکل ہے‘۔

مزید پڑھیں: موجودہ حکومت میں قصور وار مجرم نہیں بلکہ متاثرہ خاتون کو ٹھہرایا گیا، احسن اقبال

سی سی پی او نے ہر عہدے پر اپنے اختیار میں موجود فورس کی موجودہ تعداد کا بھی تفصیل سے تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت لاہور پولیس کو اصل افرادی قوت کے مقابلے میں 4 ہزار 56 پولیس اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے۔

انہوں نے خط میں بتایا کہ سب انسپکٹر (ایس آئی)، اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی)، ہیڈ کانسٹیبل (ہائی کورٹ) اور کانسٹیبل کی صفوں میں کمی کا سامنا ہے۔

مزید وضاحت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاہور پولیس کی منظور شدہ ایک ہزار 449 ایس آئیز میں سے 226 کم ہیں، 2 ہزار 93 اے ایس آئیز میں سے 175، 3 ہزار 788 ایچ سیز میں 168 اور 25 ہزار 641 کانسٹیبلز میں سے 3 ہزار 487 کی کمی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: موٹر وے ریپ کیس: پولیس کو جائے وقوع سے کیا کچھ ملا؟

واضح رہے کہ لاہور پولیس موٹر وے اجتماعی زیادتی کیس کے دو ملزمان میں سے ایک، عابد ملہی کا سراغ لگانے میں ناکام رہی ہے جو ابھی تک فرار ہے۔

فرار ملزم کے چند رشتہ دار جن کو چھاپوں کے دوران مختلف اضلاع سے تحویل میں لیا گیا تھا، کو اطلاعات کے مطابق رہا کردیا گیا ہے۔

ایک پولیس عہدیدار نے بتایا کہ شیخوپورہ، قصور اور ننکانہ صاحب میں متعدد کاروائیوں کے باوجود پولیس ملزم کا سراغ نہیں لگا سکی ہے۔