کراچی: ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 6 شادی ہال اور 103 ریسٹورنٹ بند

اپ ڈیٹ 02 اکتوبر 2020

ای میل

کراچی میں گزشتہ کچھ دنوں کے دوران کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے— فوٹو: اے پی
کراچی میں گزشتہ کچھ دنوں کے دوران کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے— فوٹو: اے پی

حکومت نے کورونا وائرس کے پروٹوکولز اور صحت کے حوالے سے ہدایات پر عمل نہ کرنے پر کراچی میں کم از کم 6 شادی ہال اور 103 ریسٹورنٹ بند کر دیے ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) سے جاری بیان میں کہا گیا کہ گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد کی حدود سمیت تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صحت اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے ہدایات پر عملدرآمد کریں۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کا لوگوں کے خوابوں پر مرتب ہونے والا عجیب اثر

بیان میں کہا گیا کہ حکام کو کہا گیا ہے کہ وہ خلاف ورزی کی صورت میں خصوصاً ریسٹورنٹ اور شادی ہال کے خلاف کارروائی کریں کیونکہ یہ دونوں مقامات وائرس میں پھیلاؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔

منصوبہ بندی اور ترقی کے وزیر اسد عمر نے عوام سے درخواست کی کہ وہ ذمے داری کا مظاہرہ کریں تاکہ لوگوں کی جانوں کو خطرے میں نہ ڈالا جا سکے۔

انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ان ڈور ریسٹورنٹ اور شادی ہالوں کی وجہ سے وائرس زیادہ پھیل رہا ہے، این سی او سی نے تمام صوبوں اور اکائیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان مقامات پر ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کارروائی عمل میں لائیں۔

انہوں نے کہا کہ چند افراد کو غیرذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسروں کی جانوں کو خطروں میں ڈالنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز صوبائی انتظامیہ کی جانب سے انتباہ جاری کے جانے کے بعد قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر 60 ریسٹورنٹس اور 4 شادی ہال سیل کر دیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کے شکار چند افراد متعدد کیسز کا باعث بن سکتے ہیں، تحقیق

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کمشنر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حکام نے شرقی، غربی، جنوبی، وسطی، ملیر اور کورنگی سمیت متعدد اضلاع میں 177 ریسٹورنٹ اور 50 شادی ہال کا دورہ کیا۔

سب سے زیادہ 29 ریسٹورنٹس ضلع وسطی میں سیل کیے گئے جبکہ ضلع وسطی اور کورنگی میں دو دو شادی ہال بھی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر بند کر دیے گئے۔

حکام نے ضلع وسطی میں تین شادی ہال اور ضلع شرقی میں 15 ریسٹورنٹس کو وارننگ جاری کردی ہے۔

کراچی میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا ہے اور 30 ستمبر کو این سی او سی کے اجلاس میں بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: کورونا کے بغیر علامات والے مریض وائرس کو آگے پھیلا سکتے ہیں، تحقیق

ایک دن قبل حکومت سندھ نے شہر کے چند اضلاع اور علاقوں سے رپورٹ ہونے والے کیسز کے نتیجے میں منی اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کردیا تھا۔

ضلع جنوبی کے دو علاقوں کو تازہ ہاٹ اسپاٹ قرار دے کر وہاں منی اسمارٹ لاک ڈاؤن کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا جبکہ اس کے علاوہ ڈی ایچ اور صدر کے بھی کچھ علاقوں میں یہی حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔

اس سے قبل بدھ کو صوبائی حکومت نے ضلع غربی میں منگھوپیر کے علاقے میں دو رہائشی علاقوں میں منی اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کردیا تھا۔