سوشل میڈیا سے مشہور ہونے والے ‘ارشد چائے والا’ اب کیا کرنے جارہے ہیں؟

اپ ڈیٹ 05 اکتوبر 2020

ای میل

4 برس قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویر نے ایک چائے والی کی قسمت بدل تھی— فائل فوٹو: سوشل میڈیا
4 برس قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویر نے ایک چائے والی کی قسمت بدل تھی— فائل فوٹو: سوشل میڈیا

4 برس قبل پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویر نے ایک چائے والے کی قسمت بدل دی تھی۔

ارشد خان المعروف چائے والا کی تصویر اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی فوٹوگرافر جویریہ علی نے اکتوبر 2016 میں شیئر کی تھی جس نے وائرل ہوتے ہی ان کی قسمت بدل دی تھی۔

اس وقت فوٹوگرافر نے ڈان امیجز سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا ' میں نے اتنے وجیہہ نوجوان کا خیال بھی نہیں کیا تھا، یہ واقعی سرپرائز کردینے والا تھا'۔

مزید پڑھیں: مشہور ہونے کے 3 سال بعد 'ارشد چائے والا' اب کیا کررہا ہے؟

ان کا کہنا تھا ' میں نے اتوار بازار میں ایک فوٹو واک کے دوران تصویر لی اور اسے انسٹاگرام میں ایک عام پوسٹ کے طور پر اپ لوڈ کردیا جو اس وقت تو وائرل نہیں ہوئی تاہم چار یا پانچ دن بعد اچانک وائرل ہوگئی'۔

اس وقت ارشد خان کی عمر 18 سال تھی جو اصل میں کوہاٹ سے تعلق رکھتے تھے اور تصویر لیے جانے کے وقت وہ اسلام آباد کے اتوار بازار میں 3 ماہ سے چائے بنانے کا کام کررہے تھے،

اپنی پہلی فوٹو گراف کے حوالے سے ارشد کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتا کہ یہ کس نے لی تھی۔ تاہم جب میڈیا ارشد تک پہنچا تو وہ کافی گھبرا گئے تھے اور ان کے ماموں بھی یہ سب دیکھ کر کافی پریشان ہوگئے تھے کہ آخر میڈیا ان کے پیچھے کیوں پڑ گیا ہے۔

— فوٹو بشکریہ ارشد خان انسٹاگرام
— فوٹو بشکریہ ارشد خان انسٹاگرام

جس کے بعد وہ ماڈل بن گئے اور بھی اداکاری میں بھی قسمت آزمائی کی، پھر 2017 کے شروع میں یہ افواہیں پھیل گئیں کہ ارشد خان اپنے اداکاری کے کیریئر کو چھوڑ کر واپس چائے کے اسٹال پر جارہے ہیں، جس کی وجہ ان کے خاندان کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیاں ہیں، ان قیاس آرائیوں کا آغاز اُس وقت ہوا جب ارشد خان کی گلوکارہ مسکان جے کے ساتھ ایک میوزک ویڈیو ریلیز ہوئی۔

رپورٹس تھیں کہ ارشد خان کے گھر والوں کو گلوکارہ کے ساتھ بنائی گئی ان کی یہ ویڈیو بالکل پسند نہیں آئی اور انہوں نے ارشد کے شوبز کیریئر کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کا 'گڈ لکنگ' چائے والا

تاہم ڈان کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ارشد خان نے بتایاتھا کہ یہ خبریں جھوٹی اور بے بنیاد ہیں۔

— فائل فوٹو: سوشل میڈیا
— فائل فوٹو: سوشل میڈیا

بعدازاں گزشتہ برس انہوں نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں انکشاف کیا تھا وہ ایک بار پھر لوگوں کے لیے چائے بنانے کا کام کرنے لگے ہیں۔

انہوں نے بتایا تھا کہ وہ ماڈلنگ اور اداکاری کے کیرئیر کے باوجود چائے فروخت کرنے واپس آئے ہیں اور وہ اس کام کو کبھی نہیں چھوڑیں گے۔

مزید پڑھیں: شوبز چھوڑنے کی خبریں جھوٹی تھیں، ارشد خان

اب ارشد خان المعروف ‘ چائے والا‘ نے اسلام آباد میں اپنا کیفے بنالیا ہے جس کا نام انہوں نے کیفے چائے والا رکھا ہے۔

ان کا کیفے 10 اکتوبر سے اسلام آباد کے ڈی چوک پر بلند مرکز کی جانب کھل رہا ہے۔

کیفے چائے والا، روف ٹاپ کیفے ہے اور اس کے لانچ کی تیاریاں جاری ہیں۔

اردو نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میں فخر کرتا ہوں کہ میں چائے بناتا تھا، میرے دوست آتے رہتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ اپنے ہاتھ سے چائے بناکر دو تو میں چائے بناتا رہتا ہوں۔

ارشد خان نے کہا کہ میں نے اسلام آباد میں اپنا ایک کیفے بنالیا ہے، اپنے کیفے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نے کہا کہ آپ نے کیفے کا نام چائے والا کیوں رکھا ہے اس کا نام صرف اپنے نام سے ارشد خان کردو۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے انہیں کہا کہ یہ میری پہچان ہے۔

ارشد خان نے بتایا کہ کیفے میں مکمل طور پر ٹرک آرٹ کا استعمال کیا گیا ہے اور یہاںدیسی اسٹائل میز اور کرسیاں بھی موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: 'چائے والا' موٹر سائیکل کے اشتہار میں

چائے والا کے نام سے معروف ارشد خان نے بتایا کہ ان کے کیفے میں چائے کے علاوہ 15 سے 20 قسم کی کھانے کی اشیا بھی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرے کیفے کا نام بھی میرے نام کے سے جڑا ہے اس لیے میں اسے زیادہ وقت دے رہا ہوں۔

اس کے ساتھ ہی ارشد خان نے بتایا کہ وہ آج کل اداکاری بھی کررہے ہیں اور ان کی ٹی وی شو کی کچھ اقساط نشر ہوچکی ہیں۔

انٹرویو میں انہوں نے تعلیم کے حصول سے متعلق بھی گفتگو کی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ کہتے ہیں کہ پڑھائی کرو، میں نے نہیں کی لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس مقام پر پہنچادیا۔

یہ بھی پڑھیں: 'چائے والا' اب میوزک ویڈیو کا بھی حصہ

ارشد خان نے کہا کہ مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ میں نے پڑھائی نہیں کی۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ وہ ایک ایسا ادارہ بنانا چاہ رہا ہوں جہاں ان بچوں کو تعلیم دی جاسکی جن کے والدین تعلیم کے اخراجات برداشت کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ اس ادارے میں بچے ہنر بھی سیکھیں گے کہ انہوں نے بڑے ہو کر کیا کرنا ہے۔

—فائل فوٹو: فٹ ان ڈاٹ پی کے
—فائل فوٹو: فٹ ان ڈاٹ پی کے