گوگل کا سیکیورٹی مسائل کے لیے نیا الرٹ سسٹم متعارف کرانے کا اعلان

08 اکتوبر 2020

ای میل

— فوٹو بشکریہ گوگل
— فوٹو بشکریہ گوگل

اگر آپ کا اکاؤنٹ ہیک ہوجائے تو اس حوالے سے ای میل کو پڑھنے میں ہوسکتا ہے کہ کافی تاخیر ہوجائے۔

یہی وجہ ہے کہ گوگل نے اب گوگل اکاؤنٹس کے تحفظ کے لیے ایک نئے ان ایپ سیکیورٹی الرٹس کا فیچر متعارف کرایا ہے۔

اس فیچر کے تحت جب گوگل کو اکاؤنٹ کے حوالے سے کسی سیکیورٹی مسئلے کا علم ہوگا، جیسے کوئی کسی نامعلوم ڈیوائس سے لاگ ان ہوتا ہے، تو ایپ میں ایک الرٹ ڈسپلے ہوگا، جس میں پروفائل پکچر پر ایک سرخ رنگ کا ! بنا ہوگا۔

جب اس پر کلک کریں گے تو سیکیورٹی مسئلے کی وارننگ دیکھ سکیں گے اور اسے حل کرنے کا کہا جائے گا۔

گوگل کے مطابق اس نئے سسٹم کا فائدہ یہ ہے کہ صارف کو یقین ہوگا کہ یہ گوگل کی جانب سے ہی آیا ہے کسی اور کی جانب سے نہیں، جیسا ای میلز میں ہوتا ہے۔

فوٹو بشکریہ گوگل
فوٹو بشکریہ گوگل

گوگل کے مطابق یہ نیا فیچر آنے والے ہفتوں میں محدود تعداد میں صارفین کو دستیاب ہوگا اور اگلے سال کے شروع میں کسی وقت تمام صارفین کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔

گوگل کی جانب سے گوگل اسسٹنٹ کے لیے ایک گیسٹ موڈ کو بھی متعارف کرایا جارہا ہے جس کو وائس کمانڈ سے آن کرنے پر جو ہدایات دی جائیں گی وہ اکاؤنٹ میں محفوظ نہیں ہوں گی۔

ایک طرح سے یہ گوگل اسسٹنٹ کا انکوگنیٹو موڈ ہے جو آنے والے ہفتوں میں دستیاب ہوگا۔

گوگل نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ صارفین بہت جلد ٹائم لائن میں لوکیشن ہسٹری ڈیٹا کو خود ایڈٹ بھی کرسکیں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز گوگل کی جانب سے اسمارٹ فون صارفین کے لیے ایک نیا پاس ورڈ ٹول کروم صارفین کے لیے متعارف کرایا تھا۔

یہ فیچر پہلے کمپیوٹر میں دستیاب تھا مگر اب اسے اسمارٹ فونز کے لیے بھی متعارف کرادیا گیااس فیچر میں یوزر نیم اور پاس ورڈز گوگل سرورز پر بھیج کر چیک کیا جائے گا کہ وہ کسی ڈیٹا ہیکنگ میں ہیکرز کے ہاتھ تو نہیں لگ گیا۔

اس فیچر میں یوزر نیم اور پاس ورڈز گوگل سرورز پر بھیج کر چیک کیا جائے گا کہ وہ کسی ڈیٹا ہیکنگ میں ہیکرز کے ہاتھ تو نہیں لگ گیا۔

گوگل خود صارف کے یوزر نیم یا پاس ورڈ کو نہیں دیکھ سکے گا بلکہ وہ صرف یہ چیک کرسکے گا کہ یہ ہیکرز کے ہاتھ لگنے والی تفصیلات سے مطابقت تو نہیں رکھتا۔

گوگل پاس ورڈ چیک کو اسمارٹ فونز کے لیے 6 اکتوبر کو کروم 86 کے ساتھ متعارف کرایا گیا اور یہ اسی وقت کام کرے گا جب صارف نے اپنے پاس ورڈز کروم میں اسٹور کیے ہوئے ہوں۔