ٹک ٹاک پر مستقل پابندی عائد نہیں ہونی چاہیے، جنت مرزا

اپ ڈیٹ 10 اکتوبر 2020

ای میل

پاکستان میں نامناسب اور متنازع مواد کو ہٹانے میں ناکامی ٹک ٹاک پر 9 اکتوبر سے پابندی لگادی گئی ہے— فوٹو: انسٹاگرام
پاکستان میں نامناسب اور متنازع مواد کو ہٹانے میں ناکامی ٹک ٹاک پر 9 اکتوبر سے پابندی لگادی گئی ہے— فوٹو: انسٹاگرام

پاکستان میں نامناسب اور غیراخلاقی مواد کو ہٹانے میں ناکامی پر سوشل میڈیا ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر 9 اکتوبر سے پابندی لگادی گئی ہے۔

ملک میں ٹک ٹاک کی بندش پر عوام کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا جبکہ پاکستان میں سب سے زیادہ ایک کروڑ فالوورز رکھنے والی ٹک ٹاکر جنت مرزا نے ایپ پر عارضی پابندی سے اتفاق کیا ہے لیکن مستقل پابندی کی مخالفت کی۔

پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے پابندی لگانے کے بعد جنت مرزا نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ میں اس وقت جاپان میں ہوں اور مجھے پاکستان سے کال آئی تھی کہ وہاں ٹک ٹاک پر پابندی لگادی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد

پاکستانی ٹک ٹاکر نے کہا کہ میری نظر میں یہ ایک بہت اچھا قدم ہے کیونکہ گزشتہ کچھ دنوں سے ٹک ٹاک پر کافی زیادہ بدتمیزی ہورہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ عارضی طور پر بند کی گئی ہے تو میرے خیال سے اب قواعد و ضوابط کے ساتھ ہی ٹک ٹاک پر سے پابندی ہٹائی جانی چاہیے۔

جنت مرزا کا کہنا تھا کہ اگر ٹک ٹاک پر مستقل پابندی عائد کی گئی تو یہ مناسب نہیں ہے کیونکہ ٹک ٹاک پر کافی لوگ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کررہے تھے، انہیں مختلف آفرز مل رہی تھیں اور وہ اپنا کیریئر بنارہے تھے۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ ٹک ٹاک پر مستقبل پابندی نہیں ہونی چاہیے بلکہ یہ عارضی پابندی کے بعد معیاری قواعد کے ساتھ واپس آئے تاکہ وہ لوگ جو اپنے ٹیلنٹ کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں ان کے پاس ایک پلیٹ فارم موجود ہو۔

واضح رہے کہ حال ہی میں پاکستانی ٹک ٹاکر جنت مرزا اس ویڈیو ایپلی کیشن پر ایک کروڑ فالوورز کے ساتھ پہلی پاکستانی ٹک ٹاکر بن گئی تھیں۔

جنت مرزا اپنی منفرد ویڈیوز کی وجہ سے کافی مقبولیت رکھتی ہیں اور ان سے قبل کسی پاکستانی کو ٹک ٹاک پر ایک کروڑ فالوورز کا اعزاز حاصل نہیں ہوا۔

ٹک ٹاک پر پابندی کے کچھ دیر بعد ہی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر tiktok# بھی ٹرینڈ کررتا رہا جس میں کچھ لوگوں نے پابندی کی حمایت کی تو دیگر نے مخالفت کی۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

خیال رہے کہ 9 اکتوبر کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ٹک ٹاک، دی گئی مدت کے دوران ایپلی کیشن سے نامناسب اور غیراخلاقی مواد کو ہٹانے میں ناکام رہا، جس کی وجہ سے ہی ٹک ٹاک کو ملک میں بند کیا جا رہا ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق چینی ایپلی کیشن کی انتظامیہ کو بار بار متنازع اور نامناسب مواد ہٹانے کے لیے ہدایات جاری کی گئیں، تاہم ایپ انتظامیہ ایسا کرنے میں ناکام رہی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں لائیو اسٹریمنگ ایپ 'بیگو' پر پابندی، ٹک ٹاک کو آخری نوٹس

یہ بھی مدنظر رہے کہ پی ٹی اے گزشتہ چند ماہ سے ٹک ٹاک انتظامیہ کو متنازع اور نامناسب مواد کو ہٹانے سے متعلق احکامات جاری کرتی آ رہی تھی اور ایک موقع پر پی ٹی اے نے چند ایپس کو بند بھی کردیا تھا۔

رواں برس جولائی میں ٹک ٹاک انتظامیہ کو نامناسب مواد پر 'حتمی وارننگ' جاری کی گئی تھی، علاوہ ازیں گزشتہ چند ماہ میں پی ٹی اے نے متعدد بار ایپ انتظامیہ کو غیر اخلاقی ویڈیوز ہٹانے کے نوٹسز بھی جاری کیے تھے۔

پی ٹی اے کی جانب سے نوٹسز جاری ہونے کے بعد ٹک ٹاک نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے پاکستان سے درجنوں متنازع ویڈیوز کو ہٹادیا ہے جب کہ وہ اخلاقی اور اچھا مواد تیار کرنے کے لیے حکومت اور مواد تیار کرنے والے افراد کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔

علاوہ ازیں ٹک ٹاک کو بند کرنے کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ میں عام شہری کی جانب سے درخواست بھی دائر کی گئی تھی۔

رواں برس جولائی میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ ملک میں اس اپیلی کیشن کے استعمال کرنے والے 10 سے زائد افراد کی موت بھی واقع ہوچکی ہے۔

مزید پڑھیں: ٹک ٹاک پر پابندی کیلئے عدالت میں درخواست دائر

درخواست میں جولائی میں ہی پیش آئے اس واقعے کا بھی ذکر کیا گیا تھا جس میں ایک لڑکی کو ٹک ٹاک پر بنے دوستوں کے ایک گروپ کی جانب سے گینگ ریپ کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

پاکستان میں ٹک ٹاک پر ایک ایسے وقت میں پابندی عائد کی گئی جب چند ہفتے قبل ہی پڑوسی ملک بھارت میں بھی اس پر پابندی عائد کی گئی تھی اور امریکا میں بھی اسے سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔

امریکا نے بھی ٹک ٹاک کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رکھا ہے اور ٹک ٹاک کو دھمکی دی ہے کہ وہ اپنے امریکی اثاثے کسی امریکی کمپنی کو فروخت کرے یا کسی امریکی کمپنی کے ساتھ مل کر امریکا میں کام کرے، دوسری صورت میں اسے بند کردیا جائے گا۔