کراچی کے صارفین کیلئے بجلی 2 روپے 89 پیسے تک مہنگی

اپ ڈیٹ 12 اکتوبر 2020

ای میل

قیمتوں میں اضافے کا اطلاق یکم ستمبر سے ہوگا—فائل/فوٹو:ڈان نیوز
قیمتوں میں اضافے کا اطلاق یکم ستمبر سے ہوگا—فائل/فوٹو:ڈان نیوز

نیشنل پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی تجاویز کے مطابق کراچی کے صارفین کے لیے بجلی 2 روپے 89 پیسے تک مہنگی کردی گئی۔

پاور ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق کے-الیکٹرک صارفین کے لیے بجلی ایک روپے 9 پیسے سے لے کر 2 روپے 89 پیسے فی یونٹ تک مہنگی کر دی گئی ہے۔

کراچی کے صارفین کے لیے نئے ٹیرف کا اطلاق یکم ستمبر 2020 سے ہوگا۔

مزید پڑھیں: ای سی سی نے کراچی کیلئے بجلی کے نرخوں میں اضافے کی منظوری دے دی

نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ کے-الیکٹرک صارفین کے لیے بجلی جولائی 2016 سے مارچ 2019 تک کے گیارہ سہ ماہی ٹیرف ایڈجسمنٹ کی مد میں مہنگی کی گئی ہے۔

نیپرا نے کے-الیکٹرک صارفین کے لیے بجلی 4 روپے 87 پیسے فی یونٹ تک مہنگی کرنے کی منظوری دی تھی تاہم ای سی سی نے بجلی 2 روپے 89 پیسے فی یونٹ تک مہنگی کرنے کی منظوری دی۔

خیال رہے کہ وفاقی کابینہ نے گزشتہ ماہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے فیصلے کی توثیق کردی تھی، اسی کے تحت اب پاور ڈویژن نے بجلی مہنگی کرنے کا باضابطہ نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق اس اضافے کے بعد کے-الیکٹرک کا ٹیرف بجلی کی دیگر تقسیم کار کمپنیوں کے برابر ہو گیا ہے اور کے-الیکٹرک کا اوسط ٹیرف 12 روپے 81 پیسے سے بڑھ کر 15 روپے 70 پیسے فی یونٹ تک ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کے الیکٹرک صارفین کیلئے بجلی 2.89 روپے مہنگی کرنے کی منظوری

قبل ازیں ای سی سی نے کراچی کے صارفین کے لیے یکم ستمبر سے بجلی کی قیمتوں میں ایک روپے 9 پیسے اور 2 روپے 89 پیسے فی یونٹ کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کے-الیکٹرک کو ٹیرف کے فرق سے سبسڈی کی مد میں 4 ارب 70 کروڑ روپے کی فوری ادائیگی کا بھی حکم دیا گیا تھا۔

ایک سرکاری دستاویز میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ای سی سی نے 'پاور ڈویژن کی جانب سے کے-الیکٹرک لمیٹڈ کے لیے جولائی 2016 سے مارچ 2019 کی گیارہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کو معقول بنانے کے لیے بھیجی کی گئی سمری منظور کرلی اور ان سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس کا اطلاق یکم ستمبر سے ہوگا تاکہ کے-الیکٹرک کے ٹیرف کو بجلی کی دیگر ترسیلی کمپنیوں کے مروجہ ٹیرف کی سطح پر لایا جاسکے۔

خیال رہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کے تعین پر رواں برس مارچ میں بھی ای سی سی نے کے الیکٹرک کے ٹیرف میں اوسطاً 2 روپے 39 پیسے اضافہ کیا تھا تاکہ اسے یکساں قومی بجلی کے نرخ پر لایا جاسکے۔

مزید پڑھیں:نیپرا نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کا فیصلہ محفوظ کرلیا

یہ ٹیرف تقریباً 3 سالوں (11 سہ ماہیوں) سے زیر التوا تھا، گرمیوں میں یہ تقریباً 3 ارب روپے ماہانہ پر کام کرتا ہے جو 2 ارب روپے یا اوسطاً ڈھائی ارب روپے تک کم ہوجاتا ہے، اس کی درخواستیں کووِڈ 19 کے باعث روک دی گئی تھیں۔

ای سی سی نے یکم جولائی سے اس کے اطلاق کی منظوری دی تھی لیکن وفاقی کابینہ اور وزیراعظم عمران خان نے کابینہ میں کراچی سے تعلق رکھنے والے اراکین کی خواہش پر لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اسے روک دیا تھا۔