ابوظہبی کے ولی عہد سے جلد ملاقات ہوگی، اسرائیلی وزیر اعظم

اپ ڈیٹ 13 اکتوبر 2020

ای میل

—فائل فوٹو: اے ایف پی
—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہونے کہا ہے کہ انہوں نے ابوظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید النہیان سے بات کی ہے اور ہماری جلد ملاقات متوقع ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نے ملاقات کی تاریخ سے متعلق کچھ بھی بتانے سے گریز کیا۔

مزید پڑھیں: متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کا بائیکاٹ ختم کردیا، فرمان جاری

بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ 'میری ابوظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید النہیان سے فون پر بات چیت ہوئی اور دونوں نے جلد ملاقات پر آمادگی کا اظہار کیا'۔

اسرائیلی حکومت نے پارلیمنٹ کے توثیقی ووٹ سے قبل متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدے کو متفقہ طور پر منظور کرلیا ہے۔

بینجمن نیتن یاہو نے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے ہفتے کے آخر میں ابوظہبی کے ولی عہد کے ساتھ گفتگو کی۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ 'ہم نے ان تعاون کے بارے میں بات کی جو سرمایہ کاری، سیاحت، توانائی، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں ترقی کا باعث بن سکتا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم بھی تعاون کریں گے اور پہلے ہی کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں تعاون کر رہے ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل سے معاہدہ: یو اے ای کیلئے امریکی ہتھیاروں کی خریداری کی راہ ہموار ہوگی، ماہرین

متحدہ عرب امارات کے حکمران شیخ محمد بن زاید النہیان نے بھی علی الصبح مذکورہ ٹیلی فونک گفتگو کی تصدیق کرتے ہوئے ٹوئٹ میں کہا کہ انہوں نے خطے میں امن کے امکانات اور استحکام، تعاون اور ترقی کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔

واضح رہے کہ 13 اگست کو امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے مابین امن معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ممالک باہمی تعلقات استوار کرنے پر متفق ہوگئے ہیں۔

امریکا کے صدر نے کہا تھا کہ اسرائیلی اور متحدہ عرب امارات کے وفود آئندہ ہفتوں میں سرمایہ کاری، سیاحت، براہ راست پروازوں، سلامتی اور باہمی سفارتخانوں کے قیام سے متعلق دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کریں گے۔

ترکی اور ایران نے اس اقدام پر متحدہ عرب امارات پر شدید تنقید کی تھی جبکہ مصر، اردن اور بحرین نے اسے خوش آئند قرار دیا تھا۔

مزید پڑھیں: تاریخ متحدہ عرب امارات کے 'منافقانہ رویے' کو کبھی فراموش نہیں کرے گی، ترکی

دوسری جانب سعودی عرب نے کہا تھا کہ وہ اس وقت تک متحدہ عرب امارات کی تقلید میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں کرسکتا جب تک یہودی ریاست فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط نہ کردے۔

علاوہ ازیں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین امن معاہدے پر کہا تھا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ فلسطینیوں کو ان کا حق ملنے تک ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کرسکتے۔