موٹروے زیادتی کیس کے ملزم کو 'سخت ترین اور مثالی' سزا ملنی چاہیے، صدر مملکت

اپ ڈیٹ 13 اکتوبر 2020

ای میل

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں سب کو، بالخصوص ہماری خواتین اور بچوں کو محفوظ ہونا چاہیے —فائل فوٹو: رائٹرز
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں سب کو، بالخصوص ہماری خواتین اور بچوں کو محفوظ ہونا چاہیے —فائل فوٹو: رائٹرز

لاہور۔ سیالکوٹ موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کی گرفتاری کے بعد اب اسے سخت ترین سزا دیے جانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملزم عابد ملہی کی گرفتاری کو قوم کے لیے باعث اطمینان قرار دیا۔

انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ 'موٹر وے زیادتی کیس کے دوسرے ملزم کی گرفتاری قوم کے لیے باعث اطمینان ہے'۔

مزیدپڑھیں: موٹروے زیادتی کیس کا مرکزی ملزم عابد ملہی گرفتار

ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کے موثر ٹرائل اور قانون کے تحت قصوروار پائے جانے والوں کو 'سخت ترین اور مثالی' سزا ملنی چاہیے۔

صدر مملکت نے کہا کہ 'پاکستان میں سب کو، بالخصوص ہماری خواتین اور بچوں کو محفوظ ہونا چاہیے'۔

تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے ملزم کو 'سرعام پھانسی' دینے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے ٹوئٹ میں کہا کہ 'اللہ کا شکر ہے یہ درندہ گرفتار ہو گیا'۔

سینیٹر فیصل جاوید نے مزید کہا کہ 'ایسے درندوں کو سرعام پھانسی دے کر عبرت کا نشان بنانا چاہیے'۔

انہوں نے کہا کہ 'سخت سے سخت سزائیں اور ایک جامع قانون تیار کرلیا گیا ہے اور جلد وہ پارلیمنٹ میں پیش کردیا جائے گا'۔

وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے لاہور۔ سیالکوٹ موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کی گرفتاری پر متعلقہ حکام کو مبارکباد پیش کی۔

انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ 'سیالکوٹ زیادتی کیس کے مرکزی ملزم کی گرفتاری پر پنجاب پولیس خصوصاً سی سی پی او لاہور اور چارسدہ زینب زیادتی و قتل کیس پر خیبر پختونخواہ پولیس بالخصوص آر پی او مردان شیر اکبر خان اور ڈی پی او چارسدہ محمد شعیب اور ان کی ٹیموں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں'۔

انہوں نے بھی ملزمان کو سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کیا۔

قبل ازیں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں عابد ملہی کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی اور کہا کہ اسے قانون کے مطابق سزا ملے گی۔

واضح رہے کہ موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کو فیصل آباد سے حراست میں لیا گیا۔

کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کی گرفتاری کئی ہفتوں کی کوششوں کے بعد عمل میں آئی ہے۔

گینگ ریپ کے واقعے کے ملزمان کی نشاندہی کے چند روز بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران آئی جی پنجاب انعام غنی نے کیس کی تحقیقات میں پیشرفت سے متعلق بتاتے ہوئے کہا تھا کہ 'سائنسی تحقیقات میں وقت لگتا ہے، گزشتہ رات 12 بجے کے قریب کنفرم ہوا کہ عابد علی نامی ملزم واقعے میں ملوث ہے، ملزم کا پہلے ڈی این اے ٹیسٹ ہوا تھا جس سے نمونے میچ کر گئے'۔

مزیدپڑھیں: موٹروے ریپ کیس: مرکزی ملزم عابد کی اہلیہ زیر حراست، ابتدائی بیان ریکارڈ

انہوں نے کہا تھا کہ 'عابد علی بہاولنگر کے علاقے فورٹ عباس کا رہائشی ہے، ملزم کے گھر پر چھاپے کے دوران عابد اور اس کی بیوی کھیتوں میں فرار ہوگئے، اس کی بچی ہمیں ملی ہے'۔

چار رکنی گینگ کا سربراہ عابد پنجاب کے مختلف تھانوں میں درج 10 دیگر مقدمات میں بھی پولیس کو مطلوب تھا۔

اجتماعی زیادتی کا واقعہ

خیال رہے کہ 9 ستمبر کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب لاہور کے مضافات میں ملزمان فرانسیسی شہریت رکھنے والی خاتون کو گینگ ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد ان کا اے ٹی ایم کارڈ لے گئے تھے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب ایک خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ گاڑی کا فیول ختم ہونے پر موٹروے پر کھڑی تھیں کہ 2 مسلح افراد وہاں آئے اور مبینہ طور پر خاتون اور ان کے بچوں کو مارا، جس کے بعد وہ انہیں قریبی کھیتوں میں لے گئے جہاں خاتون کا ریپ کیا گیا۔

اس واقعے کے بعد جائے وقوع پر پہنچنے والے خاتون کے رشتے دار نے اپنی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ بھی تھانہ گجرپورہ میں درج کروایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: موٹروے ریپ کیس: ملزم شفقت 14 روزہ ریمانڈ پر جیل منتقل

بعد ازاں جمعرات کو سامنے آنے والے شدید عوامی غم و غصے کے بعد حکومت جمعہ کو ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے کوششیں کرتی نظر آئی۔

تفتیش کاروں نے ان 2 مشتبہ افراد کے تعاقب میں اپنی مہارت کا استعمال کیا جو شاید اپنی انگلیوں کے نشان اور ڈی این اے اس وقت پیچھے چھوڑ گئے جب انہوں نے متاثرہ خاتون اور بچوں کو زبردستی کار سے نکالنے کے لیے کار کی کھڑکی توڑی۔