مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو رہا کردیا گیا

13 اکتوبر 2020

ای میل

پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی کو حراست سے رہا کردیا گیا ہے، ترجمان انتظامیہ — فائل فوٹو / اے ایف پی
پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی کو حراست سے رہا کردیا گیا ہے، ترجمان انتظامیہ — فائل فوٹو / اے ایف پی

مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو حراست سے رہا کردیا گیا۔

والدہ کی حراست کے دوران ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے لوگوں کو باخبر رکھنے والی سابق وزیر اعلیٰ کی بیٹی التجا مفتی نے ٹوئٹ میں کہا کہ ’محبوبہ مفتی کی غیر قانونی حراست بالآخر ختم ہوگئی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میں ان تمام لوگوں کی بے حد شکر گزار ہوں جنہوں نے مشکل وقت میں میری مدد کی۔‘

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ میں کہا گیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی انتظامیہ نے جولائی میں وادی کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی کی حراست کی مدت میں کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت تین ماہ کی توسیع کردی تھی۔

مقبوضہ وادی کی انتظامیہ کے ترجمان روہت کَنسال نے کہا کہ ’پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی کو حراست سے رہا کردیا گیا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں: ’بھارت، محبوبہ مفتی کو گرفتار کرکے ان کا حوصلہ توڑنا چاہتا ہے'

واضح رہے کہ محبوبہ مفتی سمیت وادی کے کئی سیاسی رہنماؤں کو گزشتہ سال 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوسی حیثیت ختم کرنے سے چند گھنٹے قبل نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت نے حراست میں لے لیا تھا۔

محبوبہ مفتی ان 4 معروف سیاستدانوں میں سے ایک تھیں جنہیں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔

گرفتاری کے بعد محبوبہ مفتی نے کہا تھا کہ بھارتی حکومت، مقبوضہ جموں و کشمیر کو غزہ کی پٹی کی طرح بنانا چاہتی ہے اور یہاں وہی سلوک کرنا چاہتی ہے جو فلسطین کے ساتھ اسرائیل کر رہا ہے۔

محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ 'ہماری سیاسی قیادت نے دو قومی نظریے کو مسترد کرتے ہوئے ایک امید لیے 1947 میں بھارت کے ساتھ الحاق کیا تھا، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ ہم پاکستان پر بھارت کو ترجیح دینے میں غلط تھے'۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں محبوبہ مفتی کی بیٹی نظر بند، 3 نوجوان شہید

رواں سال مارچ میں بھارت نے 8 ماہ بعد مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ کی نظر بندی ختم کردی تھی۔

نظر بندی ختم ہونے کے بعد فاروق عبداللہ نے کہا تھا کہ 'میری آزادی کے لیے آواز اٹھانے والوں کا شکریہ لیکن یہ آزادی ابھی مکمل نہیں ہے جب تک دیگر تمام زیر حراست بھی آزاد نہ کردیے جائیں اور اس وقت تک ان کی رہائی کے لیے سیاسی جدوجہد کرتا رہوں گا۔‘