قانونی چارہ جوئی کے سبب حکومت کے 18کھرب 56 ارب روپے پھنسے ہونے کا انکشاف

اپ ڈیٹ 14 اکتوبر 2020

ای میل

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ نادہندہ اعلیٰ عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی کے لیے جاتے ہیں اور حکم امتناع حاصل کرتے ہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ نادہندہ اعلیٰ عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی کے لیے جاتے ہیں اور حکم امتناع حاصل کرتے ہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے منگل کے روز انکشاف کیا ہے کہ مختلف عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی کی وجہ سے 18 کھرب 56 ارب روپے سے زائد کی آمدن برسوں سے پھنسی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں ملک کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ایف بی آر چیئرمین محمد جاوید غنی نے پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ اپیلیٹ ٹربیونلز دو سال سے غیر فعال ہیں، نادہندہ اعلیٰ عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی کے لیے جاتے ہیں اور حکم امتناع حاصل کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں ستمبر میں ترسیلات زر میں 31.2 فیصد اضافہ

پھنسے ہوئے محصولات کی مقدار بہت بڑی ہے جہاں گزشتہ سال ملک میں اکٹھا کیا گیا محصول 39 کھرب روپے تھا۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے رکن خواجہ محمد آصف نے کہا کہ اگر یہ رقم بازیافت ہو جاتی ہے تو ملک کا مالیاتی نظام بڑی حد تک ہموار ہوسکتا ہے۔

خواجہ آصف نے عدالتوں کے حکم امتناع کی وجہ سے ایف بی آر کی پھنسی ہوئی رقم کی تفصیلات طلب کی تھیں۔

ایف بی آر حکام کی جانب سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش کردہ اعدادوشمار کے مطابق 117 ارب روپے کی وصولی سے متعلق مقدمات سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ میں 136 ارب روپے، لاہور ہائی کورٹ میں 228 ارب روپے، سندھ ہائی کورٹ میں 134 ارب روپے، پشاور ہائی کورٹ میں 169 ارب روپے، بلوچستان ہائی کورٹ میں 60 کروڑ روپے پھنسے ہوئے ہیں۔

بقیہ رقم سے متعلق قانونی چارہ جوئی ایف بی آر ٹربیونلز اور اپیلیٹ فورمز کے پاس پڑی ہوئی ہے اور ان میں سے اکثر اراکین اور پریذائیڈنگ افسران کی عدم موجودگی کی وجہ سے غیرفعال ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وبا کے باوجود ہماری معیشت کیلئے اچھی خبریں ہیں، وزیراعظم

خواجہ آصف نے یاد دلایا کہ دو ماہ قبل وزارت قانون نے ان ٹریبونلز میں خالی آسامیوں کو پُر کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا۔

جب انہوں نے تحقیقات کی تو وزارت قانون و انصاف کے عہدیدار نے کمیٹی کو بتایا کہ ٹریبونلز کے لیے اراکین اور پریذائڈنگ افسران کے تقرر سے متعلق سمری وزیر اعظم کو ارسال کردی گئی ہے۔

انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ تقرریوں کے حوالے سے مجاز اتھارٹی سے منظوری ملنے کے بعد مطلع کیا جائے گا۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے رکن سردار ایاز صادق نے تجویز پیش کی کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اس معاملے کو ہائی کورٹ کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ میں بھی اٹھائے، انہوں نے یہ مشورہ بھی دیا کہ اٹارنی جنرل کو اس خاص مسئلے پر خصوصی اجلاس میں مدعو کیا جائے۔

اٹارنی جنرل ایف بی آر سے متعلق مقدمات کی جلد سماعت کے لیے درخواستیں منتقل کر سکتا ہے۔

خواجہ آصف نے نشاندہی کی کہ ایف بی آر کی ایک کمزوری اس کی کمزور قانونی ٹیم تھی، نادہندہ عام طور پر معروف اور مہنگے وکلا کی خدمات حاصل کرتے ہیں جبکہ قانونی فیس ادا کرنے کے معاملے میں ایف بی آر ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا، اس کے بعد نجی کمپنیوں کے وکلا اربوں روپے ٹیکسوں کی ادائیگی کے خلاف آسانی سے حکم امتناع حاصل کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایف اے ٹی ایف کے فیصلے سے متعلق غیریقینی، اسٹاک مارکیٹ میں مندی

ایاز صادق کے مطابق حکم امتناع صرف 6 ماہ کے لیے موزوں ہوسکتا ہے تاہم اربوں روپے کی رقم کی وصولی کا حفاظتی حکم 5 سے 7 سال تک برقرار رہتا ہے۔

حنا ربانی کھر نے یاد دلایا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی گزشتہ 12 سالوں سے اس معاملے کو چیف جسٹس آف پاکستان کے سامنے اٹھانے کا منصوبہ بنا رہی تھی لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

ایف بی آر کے چیئرمین محمد جاوید غنی نے کمیٹی کو بتایا کہ رواں مالی سال کے فنانس بل میں ایف بی آر نے ٹیکس سے متعلق تنازع کو عدالت سے باہر حل کرنے کے لیے متبادل تنازع حل (اے ڈی آر) متعارف کرایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ قانونی چارہ جوئی میں فریق اس تنازع کو حل کرنے کے لیے اے ڈی آر کا سہارا لے سکتے ہیں اور انہیں عدالت کے توسط سے اس کا ازالہ کرنے کی آزادی ہے، جاوید غنی نے اُمید ظاہر کی کہ اے ڈی آر عدالتوں سے بوجھ کم کرے گا اور ٹیکس کی وصولی میں تیزی لائے گا۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین رانا تنویر حسین نے تجویز پیش کی کہ ایف بی آر ٹیکس دہندگان سے تنازعات حل کرنے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کرے، ان کے بقول ایف بی آر لچکدار انداز اپناتے ہوئے بازیافت کو تیز کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف: پاکستان میں بیروزگاری بڑھنے، شرح نمو ایک فیصد رہنے کی پیش گوئی

مشاہد حسین سید نے اس بات کی نشاندہی کی کہ حکومت نے ایف بی آر کے ساتھ سنجیدگی سے معاملہ نہیں کیا اور یہ انتہائی اہم تنظیم تجرباتی بنیاد پر چلائی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شبر زیدی کو بہت زیادہ عزم و حوصلے کے ساتھ لایا گیا تھا لیکن وہ مقاصد کی فراہمی میں ناکام رہے، موجودہ چیئرمین ایڈہاک بنیادوں پر کام کر رہے ہیں اور اب حکومت نے سابق سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود کو محصول کی تقسیم کی دیکھ بھال کے لیے مقرر کیا ہے۔

جاوید غنی نے اپنے ذاتی تجربے سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کے عہدیدار تنظیم سے متعلق امور کو حل کرنے کی صلاحیت اور قابلیت رکھتے ہیں، انہوں نے کہا کہ شبر زیدی اپنی بیماری کی وجہ سے اس رفتار کو برقرار نہیں رکھ سکے جس کی وجہ سے حکومت محصول سے متعلق معاملات نمٹ رہی ہے۔

قبل ازیں ڈاکٹر محمد اشفاق نے کمیٹی کو سیلز اور انکم ٹیکس کی واپسی کے بارے میں بریفنگ دی۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے چھ ماہ میں ایف بی آر نے فاسٹ ٹریک سسٹم کے تحت ٹیکس دہندگان کو 118 ارب روپے کی واپسی کی، انہوں نے کہا کہ بورڈ وفاقی حکومت کے بجٹ کی حمایت سے اس بلاک کو ختم کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہا ہے۔