سندھ: ہیلتھ رسک الاؤنس کیلئے ڈاکٹروں، طبی عملے کا ہسپتالوں کی او پی ڈیز کا بائیکاٹ

اپ ڈیٹ 14 اکتوبر 2020

ای میل

فورم گرینڈ ہیلتھ الائنس سندھ کی جانب سے ہڑتال کی کال پر طبی عملہ احتجاج کررہا تھا—فائل فوٹو: ٹوئٹر
فورم گرینڈ ہیلتھ الائنس سندھ کی جانب سے ہڑتال کی کال پر طبی عملہ احتجاج کررہا تھا—فائل فوٹو: ٹوئٹر

کراچی: کووِڈ 19 ہیلتھ رسک الاؤنس کی بحالی کا مطالبہ کرنے والے ڈاکٹروں اور طبی عملے کی جانب سے احتجاجاً طبی خدمات کے بائیکاٹ کی وجہ سے سندھ کے مختلف سرکاری ہسپتالوں کے آؤٹ پیشنٹ ڈپارٹمنٹ (او پی ڈیز) میں پہنچنے والے مریضوں کو بغیر علاج کے گھر واپس جانا پڑا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں اور نرسوں کی تنظیموں کے مشترکہ فورم گرینڈ ہیلتھ الائنس سندھ کی جانب سے ہڑتال کی کال پر طبی عملہ احتجاج کررہا تھا۔

گرینڈ ہیلتھ الائنس کی جانب سے کیے گئے مطالبات میں ہیلتھ رسک الاؤنس کی مستقل بنیادوں پر بحالی، رہائشی الاؤنس میں اضافے، کانٹریکٹس پربھرتی کیے گئے ڈاکٹروں کو مستقل کرنے، تمام ڈاکٹروں کے لیے ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس کا نوٹیفکیشن جاری کرنے اور تربیتی ہسپتالوں کی خالی اسامیوں پر نرسنگ اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو تعینات کرنے کا مطابل بھی شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت سندھ کی جانب سے کورونا سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات

کراچی میں احتجاج میں شریک ایک ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ صرف کورونا وائرس ہی طبی عملے کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ہیپاٹائٹس اور ایچ آئی وی جیسی بیماریاں بھی خطرہ ہیں اس لیے رسک الاؤنس کو مستقل بنیادوں پر بحال ہونا چاہیے۔

ہیلتھ الاؤئنس نے حکومت کی جانب سے ان کے مطالبات پورے کیے جانے تک احتجاج جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ محکمہ صحت نے حال ہی میں ’صوبے میں کووِڈ 19 کی شدت میں کمی‘ آنے کی بنیاد پر ہیلتھ رسک الاؤنس روکنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

گزشتہ اعلامیے کے تحت محکمہ صحت ڈاکٹروں کو ان کے گریڈز کے حساب سے رسک الاؤنس کی مد میں 17 سے 35 ہزار روپے دے رہا تھا۔

مزید پڑھیں: حکومت نے شہریوں، ڈاکٹروں کو لاوارث چھوڑ کر ان کی زندگی خطرے میں ڈال دی، بلاول بھٹو

ادھر حیدرآباد کے لیاقت یونیورسٹی ہسپتال (ایل یو ایچ) کی او پی ڈیز بھی گزشتہ روز بند رہیں اور طبی عملے بشمول ڈاکٹرز اور نرسز نے سندھ حکومت کی جانب سے رسک الاؤنس ختم کرنے کے خلاف احتجاج کیا۔

طبی ورکرز نے بھٹائی، قاسم آباد، پریت آباد، کوثر ہسپتال اور محکمہ صحت سندھ کے دیگر مراکز میں بھی او پی ڈیز کا بائیکاٹ کیا۔

ان کا مطالبہ تھا کہ رسک الاؤنس جاری رہنا چاہیے اور محکمہ صحت کے ملازمین کو بھی ٹائم اسکیل کی اجازت ہونی چاہیے۔

ڈاکٹر پیر منظور نے کہا کہ جب حکومت نے رسک الاؤنس کا اعلان کیا تھا اس وقت اس نے سروس اسٹرکچر، کورونا کے باعث مرنے والے ماہرین صحت کے لیے شہدا پیکج وغیرہ سے متعلق 23 نکات پر اتفاق کیا تھا لیکن صرف الاؤنس دیا گیا وہ بھی صرف 3 ماہ تک جبکہ دیگر مطالبات اب بھی زیر التوا ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس پر جلد فتح کا اعلان معاملہ خراب نہ کردے، وزیراعلیٰ سندھ

انہوں نے کہ بائیکاٹ جمعرات تک جاری رہے گا جس کے بعد مستقبل کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سندھ کے دوسرے دھڑے کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر رفیق کھوکھر نے ایک بیان میں محکمہ خزانہ کی جانب سے وبا کے خلاف لڑنے والے فرنٹ لائن ورکرز کو دیا جانے والا رسک الاؤنس یکم اکتوبر سے روکنے کے نوٹیفکیشن پر ناراضی کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر آگئی ہے اور سندھ میں کووِڈ19 کے کیسز میں روزانہ اضافہ ہورہا ہے اس وقت یہ نوٹیفکیشن وبا کے خلاف لڑائی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گا۔

احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت ان سے اب بھی کورونا کی ڈیوٹی کرنے کو کہہ رہی ہے لیکن رسک الاؤنس روک دیا گیا ہے جو طبی عملے کے ساتھ نا انصافی ہے اور انہیں اپنے حقیقی مطالبات کے لیے احتجاج کرنا پڑ رہا ہے۔