’ارطغرل جیسے ڈرامے نہ بننے میں اگر انڈسٹری قصوروار ہے تو عوام بھی ہیں’

15 اکتوبر 2020

ای میل

ترک ڈرامے کو نشر کرنے کے بعد سے پاکستانی  انڈسٹری کو تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے — فوٹو: انسٹاگرام
ترک ڈرامے کو نشر کرنے کے بعد سے پاکستانی انڈسٹری کو تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے — فوٹو: انسٹاگرام

پاکستان کے معروف اداکار منیب بٹ نے کہا کہ ارطغرل دیکھنے کے بعد آج کل ہر شخص ہماری انڈسٹری کے خلاف ہوگیا ہے کہ ہم ایسے ڈرامے کیوں نہیں بناتے جبکہ ایسے ڈرامے نہ بننے میں اگر انڈسٹری قصوروار ہے تو عوام بھی ہیں۔

ترکی کے ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل‘ کو پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) پر اردو ترجمہ کرکے ’ارطغرل غازی’ کے نام سے نشر کیا جارہا ہے۔

اس ڈرامے نے پاکستانی عوام میں مقبولیت کے نئے ریکارڈز بنائے اور شوبز شخصیات نے بھی اس ڈرامے کو پسند کیا لیکن کچھ نے پی ٹی وی پر نشر کرنے کی مخالفت کی۔

مزید پڑھیں: ترک ڈراموں کے خلاف نہیں، انہیں پی ٹی وی پر چلانے کا مخالف ہوں، شان شاہد

لیکن اس کے ساتھ ہی پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کہ پاکستانی ڈراما صرف چند موضوعات تک محدود ہوکر رہ گیا ہے اور یہاں تاریخی اور اسلامی فتوحات پر مبنی ڈرامے نہیں بنائے جاتے۔

ترک ڈرامے کو پی ٹی وی پر نشر کیا جا رہا ہے—اسکرین شاٹ
ترک ڈرامے کو پی ٹی وی پر نشر کیا جا رہا ہے—اسکرین شاٹ

اداکار منیب بٹ نے یوٹیوب پر ڈائریکٹر رافع راشدی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو درپیش چیلنجز پر بات کی۔

منیب بٹ نے کہا کہ ہم انڈسٹری کے حوالے سے بہت سی باتیں کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے پاس کوئی ایسا پلیٹ فارم نہیں ہوتا جہاں جا کر ہم لوگوں کی وہ شکایات دور کریں جو انہیں ہم سے ہیں اور ہم ان کی شکایات کا ازالہ کرکے انہیں سمجھا سکیں۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے منیب بٹ نے کہا کہ ارطغرل دیکھنے کے بعد آج کل ہر شخص ہماری انڈسٹری کے خلاف ہوگیا ہے کہ ہم ایسے ڈرامے کیوں نہیں بناتے۔

منیب بٹ کا کہنا تھا کہ میری ذاتی رائے ہے کہ ارطغرل جیسے ڈرامے بہت کم بنتے ہیں، میں خود اس ڈرامے کا بہت بڑا مداح ہوں اور میرے گھر میں بھی یہ ڈراما دیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ارطغرل کے پروڈیوسر پاکستانی فنکاروں کے ساتھ کام کرنے کے خواہشمند

اداکار نے کہا کہ میرے گھر والوں نے میرا کوئی ڈرامہ اس طرح نہیں دیکھا ہوگا جس طرح وہ ارطغرل دیکھتے ہیں۔

پاکستان میں ترک ڈرامہ سیریل ’ارطغرل‘ کے نشر ہوتے ہی مقبولیت کی بلندیوں کو پہنچ گیا جس کے بعد عوام ملک میں بھی تاریخی واسلامی واقعات پر مبنی ڈرامے بنائے جانے کے حق میں بولتے دکھائی دیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ارطغرل’ ڈرامے کے بعد اب جیسے ایک معیار طے ہوگیا ہے، جیسے کچھ عرصہ پہلے ’میرے پاس تم ہو’ ڈراما آیا اور اس کا ایک لیول سیٹ ہوگیا تھا کہ ہر شخص نے وہ ڈراما دیکھا ہوا تھا اور اب ارطغرل کے آنے کے بعد بھی ایسا ہی ہورہا ہے۔

ارطغرل سے قبل میرے پاس تم ہو بھی بہت مقبول ہوا تھا—فائل فوٹو: پرومو
ارطغرل سے قبل میرے پاس تم ہو بھی بہت مقبول ہوا تھا—فائل فوٹو: پرومو

منیب بٹ نے مزید کہا کہ اب مسئلہ یہ ہے کہ ہماری پوری انڈسٹری پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں کہ ایسے ڈرامے کیوں نہیں بناتے؟ تاریخ پر مبنی پروجیکٹس کیوں نہیں کیے جاتے؟

انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں یہ بات سمجھانا اور اس کا جواب دینا بہت ضروری ہے کیونکہ ایک منٹ کی ویڈیو میں یہ بات نہیں بتائی جاسکتی، میں لوگوں کو بتارہا ہوں سوشل میڈیا پر پاکستانی انڈسٹری کے خلاف جو تنقید ہورہی ہے اس میں اگر انڈسٹری قصوروار ہے عوام بھی برابر کے شریک ہیں کیونکہ عوام نہیں دیکھتے۔

مزید پڑھیں: شان کے بعد ریما بھی ’ارطغرل غازی‘ کے پاکستان میں دکھائے جانے پر ناخوش

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے منیب بٹ کا کہنا تھا کہ عوام جو دیکھیں گے چینل مالکان اسی چیز کو دکھائیں گے، عوام جو خریدنا چاہیں گے چینل مالکان وہی بیچیں گے۔

منیب بٹ نے الف ڈرامے پر بھی بات کی — فوٹو:اسکرین شاٹ
منیب بٹ نے الف ڈرامے پر بھی بات کی — فوٹو:اسکرین شاٹ

انہوں نے کہا کہ اس کی حالیہ مثال ’الف’ ڈراما ہے، جو ایک بہت حیرت انگیز ڈراما تھا، میں نے جب اس ڈرامے کے شروع کی اقساط دیکھیں تو کہا کہ کیا ماسٹر پیس بنایا ہے لیکن ریٹنگ چارٹس پر’ میرے پاس تم ہو مسلسل ’الف ’ ڈرامے کو پیچھے چھوڑ رہا تھا۔

منیب بٹ نے کہا کہ میرے پاس تم ہو بھی ایک بہت زبردست کہانی تھی لیکن وہ ایک ایسا مسئلہ تھا جسے ہم بیوی کا شوہر کو دھوکا دینا کہیں گے یہ ایک مختلف چیز تھی لیکن لوگوں نے اسے پسند کیا۔

اداکار نے کہا کہ میں لوگوں کو یہی بتانا چاہتا ہوں کہ جو آپ دیکھیں گے، پسند کریں گے، جس پر ریٹنگز آئیں گی، چینل مالکان وہی بنوائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 2020 کا واحد بجٹ ہے جس میں میڈیا اور اس سے وابستہ افراد کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، اب وہ ملیں نہ ملیں وہ بعد کی بات ہے، پہلی دفعہ کوئی وزیراعظم کسی لکھاری سے ملا ہے۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

منیب بٹ نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ پہلی دفعہ ہمارے ملک میں کوئی ایسا وزیراعظم آیا ہے جو واقعی میڈیا کو اہمیت دیتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ میڈیا لوگوں کی ذہنیت، سوچ بدلنے اور اصلاح میں کردار ادا کرسکتا ہے تو ہمیں اس چیز کو سراہنا چاہیے کہ وہ کہہ رہے کہ لکھاری ڈراموں میں خاندانی اقدار کو دکھائیں۔

اداکار نے کہا کہ ’ یہ جو چکروں والے ڈرامے ہوتے ہیں دیکھنے میں اچھا نہیں لگتا کہ بہو کا کسی اور کے بہنوئی کے ساتھ چکر یہ چکروں والے چکر دیکھنے میں بہت عجیب لگتے ہیں‘۔

منیب بٹ کا کہنا تھا کہ معاشرے میں بہت سی چیزیں ہورہی ہوتی ہیں لیکن ہر چیز دکھانا ضروری نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: ’میرے پاس تم ہو‘ نے جو ریکارڈ 9 ماہ میں بنایا، ’ارطغرل‘ نے 3 ہفتوں میں توڑ دیا

انہوں نے کہا کہ میں ایسے پروجیکٹ منتخب کرتا ہوں کہ جو عوام دیکھیں لیکن بطور اداکار مواد کو بہتر کرنےکی کوشش کرتا ہوں، ہمیں پتہ ہے لوگ کس قسم کا مواد دیکھنا چاہتے ہیں اس لیے ہمیں بھی وہی ڈرامے کرنے پڑتے ہیں، کاروباری نقطہ نظر کے مطابق اگر لوگ دیکھنا بند کردیں گے تو ایسے ڈرامے بننا بھی بند ہوجائیں گے۔

منیب بٹ نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ دکھارہے ہیں تو لوگ دیکھ رہے ہیں ایسا نہیں ہے، عوام کے ہاتھ میں ریموٹ ہوتا ہے انہوں نے نہیں دیکھنا وہ چینل بدل دیں اگر وہ نہیں بدل رہے تو اس کا مطلب ہے ان کی دلچسپی ہے اور جوعوام دیکھیں گے ہم وہی بنائیں گے۔