نواز شریف سے کبھی استعفیٰ نہیں مانگا، سابق ڈی جی آئی ایس آئی ظہیر الاسلام

اپ ڈیٹ 15 اکتوبر 2020

ای میل

سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور سابق وزیراعظم نواز شریف—فائل فوٹو: رائٹرز
سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور سابق وزیراعظم نواز شریف—فائل فوٹو: رائٹرز

اسلام آباد: انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے کہا ہے کہ انہوں نے 2014 میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف سے کبھی استعفیٰ نہیں مانگا۔

انگریزی اخبار دی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے واضح طور پر اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے کسی شخص کے ذریعے نواز شریف کو پیغام بھیجا تھا۔

انہوں نے اخبار سے گفتگو میں کہا کہ ’میں نے کبھی بھی کسی کو اس طرح کا پیغام وزیراعظم تک پہنچانے کے لیے نہیں بھیجا‘، مزید یہ کہ ’یہ مکمل غلط بات ہے‘۔

مزید پڑھیں: مجھے بتایا گیا کہ پارلیمنٹ کوئی اور چلا رہا ہے، نواز شریف

سابق ڈی جی آئی ایس آئی کا کہنا تھا کہ اس کے برعکس انہوں نے 2014 کے دھرنے کے دوران ہر موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو یہ تجویز دی تھی کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک سے سیاسی طور پر رابطے کرکے دھرنے کو ختم کروائیں، تاہم ظہیر الاسلام نے اس معاملے پر مزید بات کرنے سے اجتناب کیا۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف حالیہ دنوں میں عوامی سطح پر یہ دعویٰ کیا تھا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی ظہیر الاسلام نے 2014 میں حکومت مخالف دھرنے کے دوران ’آدھی رات کو انہیں مستعفیٰ ہونے کا پیغام بھیجا تھا‘۔

سابق وزیراعظم نے رواں ماہ کے اوائل میں اپنی پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں لیگی رہنماؤں سے کہا تھا کہ ’مجھے آدھی رات کو یہ پیغام موصول ہوا تھا‘، جس میں نواز شریف کے مطابق کہا گیا تھا کہ ’اگر آپ یہ نہیں کرتے تو آپ کو اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا اور مارشل لا بھی نافذ کیا جاسکتا ہے‘۔

تاہم نواز شریف کے مطابق انہوں نے کہا تھا کہ ’جو آپ کرنا چاہتے ہیں کریں لیکن میں مستعفی نہیں ہوں گا‘۔

اپنے خطاب میں نواز شریف کی جانب سے ڈی جی آئی ایس آئی کا پیغام لے کر آنے والے شخص کا نام نہیں بتایا گیا تھا۔

تاہم اب اس معاملے پر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے ردعمل دیتے ہوئے اس بات کی تردید کی اور کہا کہ انہوں نے کبھی بھی کسی شخص کو پیغام کے ساتھ نواز شریف کے پاس نہیں بھیجا۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم اس وقت علاج کی غرض سے لندن میں موجود ہیں تاہم گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے کی خاموشی کے بعد سے انہوں نے 20 ستمبر کو اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں خطاب کے ذریعے چپ توڑتے ہوئے وزیراعظم عمران خان اور اداروں پر بھی تنقید کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور: نواز شریف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ

اس کے بعد یکم اکتوبر کو انہوں نے اپنی پارٹی کے اجلاس سے خطاب میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ پر اسعتفیٰ مانگنے کا الزام لگایا تھا جبکہ اس میں بھی اداروں پر تنقید کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔

جس کے بعد ان کے اور اس اجلاس میں شریف مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنماؤں کے خلاف ایک شہری کی مدعیت میں بغاوت و دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا تھا۔

بعد ازاں پولیس نے بغاوت کے مقدمے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے سوا تمام مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو بے قصور قرار دے دیا اور فرسٹ انفارمیشن رپورٹ سے تعزیرات پاکستان کی 4 دفعات کو بھی ختم کردیا تھا۔