25 سالوں سے زراعت کے شعبے کو نظرانداز کیا گیا، فخر امام

اپ ڈیٹ 17 اکتوبر 2020

ای میل

ہمیں اپنی غلطیوں پر توجہ دینی ہوگی اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا، وفاقی وزیربرائے قومی غذائی تحفظ — فائل فوٹو:رائٹرز
ہمیں اپنی غلطیوں پر توجہ دینی ہوگی اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا، وفاقی وزیربرائے قومی غذائی تحفظ — فائل فوٹو:رائٹرز

اسلام آباد: جہاں زراعت کا شعبہ بڑی فصلوں بالخصوص گندم اور کپاس کی کم پیداوار کے ساتھ ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے وہیں وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے کہا ہے کہ ملک میں زراعت کی ترقی کے لیے اچھے سائنسدانوں کی کمی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق عالمی یوم خوراک کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فخر امام نے زور دیا کہ ’ہمیں اپنی غلطیوں پر توجہ دینی ہوگی اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا کیونکہ ہم اپنے لوگوں کو غذائیت فراہم کرنے سے قاصر ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 25 سالوں سے ملک میں زراعت کے شعبے کو نظرانداز کیا گیا ہے اور عوام کی بہتری کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں زراعت پسماندہ کیوں؟

فخر امام نے کہا کہ موجودہ حکومت زراعت کے شعبے کی ترقی کے لیے پالیسیوں پر کام کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو غذائی تحفظ یقینی بنانے میں زراعت کی اہمیت کا بخوبی ادراک تھا اور کھاد، بیجوں اور کیڑے مار دواؤں کی مستقل فراہمی کی مناسب قیمتوں پر توجہ دی جارہی ہے تاکہ ایسا ماحول پیدا کیا جاسکے جس سے کسانوں کو اپنی پیداوار پر مناسب فائدہ حاصل ہوسکے۔

اس موقع پرپاکستان زرعی تحقیقاتی مرکز (پی اے آر سی) کے چیئرمین ڈاکٹر محمد عظیم خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم نے ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زراعت کے شعبے کی کارکردگی پر سمجھوتہ کیا ہے اور خوراک کا عدم تحفظ ماحولیاتی تبدیلی کے بدترین اثرات میں سے ایک ہے‘۔

پی اے آر سی نے کامیابی کے ساتھ تحقیق کی ہے اور اب وہ ان کھانوں کو فروغ دے رہی ہے جن میں اعلیٰ معیار کی پروٹین موجود ہے اور جو معدنیات اور وٹامنز کا بھرپور ذریعہ ہیں مثلاً مچھلی، سویا بین اور اس کی مصنوعات اور دودھ کی مصنوعات وغیرہ۔

گندم کی درآمد

دریں اثنا وزارت قومی فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے کہا ہے کہ پاکستان میں اب اگلی فصل تک گندم محفوظ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی زراعت میں پہلی بار موبائل ٹیکنالوجی کا استعمال

اس کا کہنا ہے کہ قلت کے دعوے غلط ہیں اور عوامی شعبے میں 48 لاکھ 83 ہزار ٹن گندم دستیاب ہے۔

صوبائی کراپ رپورٹنگ سروسز نے وزارت کو بتایا کہ 16 لاکھ ٹن کی قلت ہے۔

فیصلہ کیا گیا ہے کہ گندم کی درآمد کو 3 طرفہ حکمت عملی کے ساتھ پورا کیا جائے گا جس میں سرکاری، نجی اور حکومت سے حکومت (جی ٹی جی) کی بنیاد پر درآمد شامل ہے۔