ریمیڈیسیور کووڈ کے مریضوں کو بچانے میں زیادہ موثر نہیں، عالمی ادارہ صحت کی تحقیق

17 اکتوبر 2020

ای میل

یہ بات عالمی ادارہ صحت کے زیرتحت ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی — اے پی فوٹو
یہ بات عالمی ادارہ صحت کے زیرتحت ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی — اے پی فوٹو

دنیا بھر میں نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے علاج کو تلاش کرنے کا کام ہورہا ہے اور حوالے سے امریکی کمپنی کی تیار کردہ دوا ریمیڈیسیور کو مختلف تحقیقی رپورٹس میں اس بیماری کے علاج کے لیے موثر قرار دیا گیا۔

مگر اب عالمی ادارہ صحت کے زیرتحت ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا کہ اس دوا کا استعمال کووڈ 19 کے مریضوں کی اموات یا ہسپتال میں قیام کو مختصر کرنے میں کوئی خاص مددگار نہیں۔

عالمی ادارہ صحت کا یہ یکجہتی ٹرائل کووڈ 19 کے علاج کے لیے ادویات کے حوالے سے بہت بڑی تحقیق کا حصہ ہے، جس میں ریمیڈیسیور اور 3 دیگر ادویات کے اثرات کا جائزہ 30 ممالک میں 11 ہزار سے زائد مریضوں پر لیا گیا۔

تحقیق کے نتائج میں دریافت کیا گیا کہ ان میں سے کوئی بھی دوا وینٹی لیٹر پر موجود مریضوں کی اموات کی شرح میں کمی لانے یا ان کا ہسپتال میں قیام مختصر کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہوئی۔

تحقیق کے مطابق ریمیڈیسیور، ہائیڈرو آکسی کلوروکوئن، لوپینویر اور انٹرفیرون کے ہسپتال میں زیرعلاج کووڈ 19 کے مریضوں پر معمولی یا کوئی بھی اثرات مرتب نہیں ہوئے، جبکہ ان کے استعمال سے اموات کی مجموعی شرح، وینٹی لیشن کی ضرورت اور ہسپتال کے قیام کے دورانیہ ان ادویات کو استعمال نہ کرنے والے مریضوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھا۔

اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی موقر طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے مگر اسے ایک پری پرنٹ سرور پر شائع کیا گیاا ہے۔

محققین نے 2750 مریضوں کو ریمیڈیسیور استعمال کرائی اور نتائج سے معلوم ہوا کہ اس کے مریضوں کی اموات کی روک تھام یا ہسپتال میں قیام کے دورانیے پر کوئی خاص اثرات مرتب نہیں ہوئے۔

اس ٹرائل کا مقصد کووڈ 19 کے موثر علاج کی شناخت تھی اور نتائج کے بعد دنیا کو اینٹی وائرلز جیسے ریمیڈیسیور کی جگہ مونوکلونل اینٹی باڈیز طریقہ علاج پر توجہ دینا چاہیے، جس کے بارے میں عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ وہ اسے اپنی تحقیقی رپورٹس کا حصہ بنارہی ہے۔

دوسری جانب ریمیڈیسیور کو تیار کرنے والی امریکی کمپنی گیلاڈ سائنسز نے عالمی ادارہ صحت کے ٹرائل پر کہا ہے کہ اس کے نتائج دیگر تحقیقی رپورٹس کے شواہد کے تسلسل سے ہٹ کر ہیں، جن میں اسے کووڈ 19 کے لیے موثر قرار دیا گیا۔

کمپنی نے کہا 'ہمیں اوپن لیبل گلوبل ٹرائل کے ڈیٹا پر تشویش ہے جس مناسب نظرثانی کے عمل سے نہیں گزرا جو تعمیراتی سائنسی مباحثے کے لیے ضروری ہے'۔

دوسری جانب عالمی ادارے کے ٹرائل کے نتائج کی جانچ پڑتال کرنے والی ٹیم میں شامل رچرڈ پیٹو نے گیلاڈ کی تنقد کو مسترد کردیا۔

انہوں نے کہا 'یہ قابل اعتبار نتائج ہیں، ہر ایک کو اس سے ہٹ کر بتانے سے گریز کریں جس کی وہ کوشش کررہے ہیں، کیونکہ یہ حقیقی دنیا کے شواہد ہیں'۔

انہوں نے مزید کہا کہ ابھی چھوٹے ٹرائلزز میں اس دوا کے فوائد کا ذکر کیا گیا 'مگر جب بڑی تعداد پر اسے آزمایا گیا، تو وہ اتنی کارآمد ثابت نہیں ہوئی'۔