جزائر سے متعلق آرڈیننس پارلیمان میں نہ پیش کرنے پر پیپلزپارٹی کی حکومت پر تنقید

اپ ڈیٹ 18 اکتوبر 2020

ای میل

رہنما پی پی پی نے کہا کہ آرڈیننس پارلیمنٹ میں نہ پیش کرنے کے پیچھے بدنیتی پر مبنی ارادے واضح ہیں—فائل فوٹو: ڈان
رہنما پی پی پی نے کہا کہ آرڈیننس پارلیمنٹ میں نہ پیش کرنے کے پیچھے بدنیتی پر مبنی ارادے واضح ہیں—فائل فوٹو: ڈان

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اجلاس کے موقع پر پاکستان آئی لینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی آئی ڈی اے) آرڈیننس 2020 قومی اسمبلی یا سینیٹ میں پیش نہ کرنے پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

سینیٹ میں پی پی پی کی پارلیمانی رہنما شیری رحمٰن نے ایک بیان میں کہا کہ 'دونوں ایوانوں کا اجلاس ہوا لیکن اس وقت بھی آرڈیننس نہیں پیش کیا گیا، آرڈیننس پارلیمنٹ میں نہ پیش کرنے کے پیچھے بدنیتی پر مبنی ارادے واضح ہیں'۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ پوری اپوزیشن صوبائی اختیارات اور مقامی افراد کے حقوق غضب کرنے کے خلاف ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا کراچی کے ساحل سے متصل جزائر ترقی کے لیے قابلِ عمل ہیں؟

شیری رحمٰن نے کہا کہ آئین کی دفعہ 172 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ 'ایسی کوئی جائیداد جس کا کوئی جائز مالک نہ ہو، اگر کسی صوبے میں واقع ہو تو اس صوبے کی حکومت کی ملکیت ہوگی'۔

ان کا کہنا تھا کہ جزیرے سندھ کے ہیں اور یہ آرڈیننس صوبائی حکومت کے خدشات سے متعلق وفاقی حکومت کی مذموم کوشش ہے۔

رہنما پی پی پی کا کہنا تھا کہ 'یہ ایک سے زائد طریقوں سے آئین کی خلاف ورزی ہے، جس کی وجہ سے یہ اسے پارلیمان میں لانے سے خوفزدہ ہیں لیکن انہیں پیش کرنا پڑے گا'۔

خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے وفاق کی جانب سے دونوں جزیروں پر ترقیاتی کاموں اور انہیں سرمایہ کاری اور سیاحت کا گڑھ بنانے کے لیے ان کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کو روکنے کے لیے پی آئی ڈی آرڈیننس کو مسترد کردینے سے متعلق ایک قرار داد گزشتہ ہفتے سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کروائی تھی۔

مزید پڑھیں: جزائر سے متعلق آرڈیننس کے خلاف درخواست پر وفاقی، صوبائی حکام کو نوٹسز جاری

مذکورہ قرار داد پر 5 اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 10 اراکین کے دستخط ہیں۔

یاد رہے کہ اپوزیشن کو 104 اراکین کے ساتھ سینیٹ میں اکثریت حاصل ہے اور حال ہی میں وہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی پر حکومت کو شکست دے چکی ہے جس کے بعد حکومت کو وہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے منظور کروانے پڑے تھے۔

اس کے علاوہ بھی اپوزیشن اسی طرح کی قرار داد کے ذریعے چند آرڈیننس نا منظور کرچکی ہے، اگر اپوزیشن قرار داد پر ووٹ والے روز اپنے تمام اراکین کی موجودگی یقینی بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو وہ با آسانی حکومت کو شکست دے کر آرڈینس نا منظور کرواسکتی ہے۔

خیال رہے کہ صدر مملکت عارف علوی نے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر ایک آرڈیننس نافذ کیا جس کا مقصد وفاق کو سندھ کے دو جزائر بنڈل اور بڈو کا کنٹرول سنبھالنے کی اجازت دینا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: وفاق کے سندھ کے جزائر کا انتظام سنبھالنے کے اقدام پر تنقید

مذکورہ آرڈیننس کے نفاذ پر سندھ کی حکمراں جماعت پی پی پی کی جانب سے شدید تنقید دیکھنے میں آئی اور چیئرمین پی پی پی نے اس اقدام کو مقبوضہ کشمیر کے غیر قانونی الحاق کے بھارتی اقدام سے تشبیہ دی تھی۔

حکومت سندھ جزائر کو عوام اور صوبائی حکومت کی ملکیت قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت سے فوری طور پر آرڈیننس واپس لینے کا مطالبہ کررہی ہے۔

اپنے بیان میں شیری رحمٰن نے کہا کہ سندھ کی ساحلی پٹی پر 300 چھوٹے بڑے جزائر ہیں جنہیں وفاقی حکومت اپنے کنٹرول میں لینا چاہتی ہے لیکن وہ یہ بھول رہی ہے کہ یہ وہاں رہنے والے قدیم افراد کی ملکیت ہے اور ان کی مرضی کے بغیر ان کی زمین نہیں لی جاسکتی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ کے عوام وفاقی حکومت کو ان کی اراضی چرانے اور اس کا غلط استعمال نہیں کرنے دیں گے۔