'نیگورنو۔کاراباخ میں پاکستانی فورسز کی موجودگی سےمتعلق آرمینیا کے وزیراعظم کا بیان بےبنیاد ہے'

اپ ڈیٹ 18 اکتوبر 2020

ای میل

زاہد حفیظ نے کہا کہ آذربائیجان کے صدر نے بھی اس معاملے پر بھی اپنا موقف واضح کیا ہے — فائل فوٹو: ڈان نیوز
زاہد حفیظ نے کہا کہ آذربائیجان کے صدر نے بھی اس معاملے پر بھی اپنا موقف واضح کیا ہے — فائل فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان نے آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پشنیان کے مبینہ طور پر متنازع خطے نیگورنو۔کاراباخ میں آذربائیجان کی فوج کے ساتھ پاکستانی اسپیشل فورس کےلڑنے سے متعلق دعوے کو 'بے بنیاد اور غیر جانبدار' قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

دفتر خارجہ نے ایک بیان میں آرمینیا کی قیادت سے اپنے غیر ذمہ دارانہ پروپیگنڈے کو روکنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ آذربائیجان کی افواج اپنے وطن کے دفاع کے لیے کافی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک فوج کے آرمینیا کے خلاف لڑنے کی رپورٹس بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ

خیال رہے کہ روسی نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے آرمینیا کے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ نیگورنو۔کاراباخ میں ترک افواج کے ساتھ پاکستانی افواج بھی حصہ لے رہی ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے پاس اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت ہے؟ تو نکول پشنیان نے کہا کہ 'کچھ اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے خصوصی دستے بھی ان کے خلاف دشمنی میں ملوث ہیں'۔

اس حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ پاکستان، آرمینیا کے وزیراعظم نکول پشنیان کے 'بے بنیاد اور غیر منظور شدہ تبصروں‘ کو صریحاً مسترد کرتا ہے جس میں 'کچھ غیر مستند اطلاعات' کا حوالہ دیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ آذربائیجان کے صدر الہام علی عوف نے اس معاملے پر بھی اپنا موقف واضح کیا ہے کہ انہیں غیر ملکی افواج کی مدد درکار نہیں۔

زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ آرمینیا کی قیادت آذربائیجان کے خلاف اپنے غیر قانونی اقدامات پر پردہ ڈالنے کے لیے غیر ذمہ دارانہ پروپیگنڈا کر رہی ہے جسے روکنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی آذربائیجان کے ضلع توزو پر آرمینیا کے حملے کی مذمت

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل المعیاد امن اور معمول کے تعلقات کی بحالی کا انحصار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مکمل عملدرآمد اور آذربائیجان کی علاقائی حدود سے آرمینیا کی فوج کے انخلا پر ہے۔

اس سے قبل پاکستان نے نیگورنو۔کارا باخ میں پاک فوج کے آرمینیا کی فوج کے خلاف لڑنے سے متعلق میڈیا رپورٹس بھی مسترد کردی تھیں۔

خیال رہے کہ بھارتی نشریاتی ادارے 'ٹائمز ناؤ انڈیا' اور کچھ دیگر میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا وزیراعظم عمران خان نے متنازع علاقے میں آذربائیجان اور ترکی کی فوج کے ساتھ مل کر لڑنے کے لیے پاکستانی فوج کے دستے روانہ کیے ہیں۔

ان رپورٹس میں اس علاقے سے تعلق رکھنے والے 2 افراد کے مابین ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیا گیا تھا جس میں پاکستانی فوج کی موجودگی کا ذکر تھا۔

تاہم ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے بیان جاری کرتے ہوئے ان رپورٹس کو بے بنیاد اور قیاس آرائی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی رپورٹس اور اطلاعات انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہیں۔

مزید پڑھیں: آذربائیجان، آرمینیا کے درمیان ثالثی کی پہلی کوشش، لڑائی بدستور جاری

خیال رہے کہ نیگورنو۔کاراباخ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹر آرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے۔

آرمینیا کے حامی علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں ہوئی لڑائی میں نیگورنو-کاراباخ خطے کا قبضہ باکو سے حاصل کرلیا تھا اور اس لڑائی میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سوویت یونین سے 1991 میں آزادی حاصل کرنے والے دونوں ممالک کے درمیان شروع سے ہی کشیدگی رہی جو 1994 میں جنگ بندی معاہدے پر ختم ہوئی تھی۔

بعد ازاں فرانس، روس اور امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا لیکن 2010 میں امن معاہدہ ایک مرتبہ پھر ختم ہوگیا تھا۔

متنازع خطے نیگورنو-کاراباخ میں تازہ جھڑپیں 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اور پہلے روز کم ازکم 23 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فوری طور پر روس اور ترکی کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: آذر بائیجان، آرمینیا کے درمیان متنازع علاقے میں جھڑپیں، 23 افراد ہلاک

مسلمان اکثریتی ملک آذربائیجان اور عیسائی اکثریتی ملک آرمینیا کے درمیان حالیہ کشیدگی سے خطے کی دو بڑی طاقتوں روس اور ترکی کے درمیان تلخی کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

آرمینیا کے وزیر اعظم نِکول پشینیان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ترکی کو تنازع سے دور رکھیں۔

روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے آرمینیا کے وزیراعظم سے فوجی کشیدگی پر بات کی اور تنازع کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

دوسری جانب آذربائیجان کے اتحادی ترکی نے کشیدگی شروع کرنے کا الزام آرمینیا پر عائد کیا اور باکو کی حمایت کا اعادہ کیا تھا۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے اپنے بیان میں آرمینیا کو خطے کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آذر بائیجان سے مکمل تعاون کیا جائے گا۔