کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کیلئے سندھ پولیس پر دباؤ ڈالا گیا، محمد زبیر

اپ ڈیٹ 19 اکتوبر 2020

ای میل

مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر نے میڈیا سے بات کی—فوٹو: ڈان نیوز
مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر نے میڈیا سے بات کی—فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پارٹی قائد نواز شریف اور مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر نے کہا ہے کہ کیپٹن (ر) محمد صفدر کی گرفتاری کے لیے سندھ پولیس پر دباؤ ڈالا گیا اور ریاست نے ایک اسٹنگ آپریشن کیا۔

کراچی میں کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ یہ ریاستی دہشت گردی ہے اور اگر ہم آج اس کی مذمت نہیں کریں گے تو کل ہم سب کو اس سے گزرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں لیکن ہم ڈرنے والے نہیں یہ جو مرضی کرلیں، ہم بہت عرصے سے سوچ رہے تھے کہ یہ کیسے ردعمل دیں گے اور ہم نے کل رات کو یہ دیکھ لیا۔

سابق گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ وہ ہوٹل میں تھے اور اس کمرے میں مریم نواز بھی تھیں، آپ کو کیا ڈر و خوف تھا جو دروازہ توڑ کر آپ اندر گھسے، کیپٹن (ر) صفدر نے کونسا وہاں سے بھاگ جانا تھا، اگر آپ نے انہیں گرفتار کرنا ہی تھا تو ہوٹل کے خارجی راستوں کو بند کرکے یا کمرے سے نیچے آنے پر گرفتار کرسکتے تھے۔

مزید پڑھیں: کراچی: مزار قائد کے تقدس کی پامالی کا الزام، کیپٹن (ر) صفدر گرفتار

انہوں نے کہا کہ آپ ایک نہتی عورت سے اتنا ڈرتے ہیں کہ ہوٹل کے کمرے میں دروازہ توڑ کر گھس جاتے ہیں، اس میں بہت سی اسٹوریز ہیں جس کی تصدیق کر رہے ہیں، میری وزیراعلیٰ سندھ اور سعید غنی سے بات ہوئی ہے۔

محمد زبیر کا کہنا تھا کہ سندھ پولیس پر دباؤ ڈالا گیا، جس طریقے سے یہ دباؤ ڈالا گیا اس کے حقائق کچھ دیر بعد جاری کریں گے تو پوری قوم کو پتا چل جائے گا اس ملک میں کیا ہورہا ہے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی ایک تو سیاسی وجہ ہے کہ پی ڈی ایم کا گوجرانوالہ اور کراچی میں اتنا بڑا جلسہ ہوا، تاہم عمران خان اور ان کے حواریوں کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ انہیں سیاسی طور پر دور کیا جائے اور جب کیپٹن (ر) صفدر اور مریم نواز سندھ میں آئے ہیں تو انہیں یہاں گرفتار کریں گے تو سارا الزام سندھ پولیس اور حکومت پر لگ جائے گا لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ریاست کی جانب سے ایک اسٹنگ آپریشن کیا گیا اور سندھ پولیس پر دباؤ ڈالا اور جس حالات میں دباؤ ڈالا گیا اس کی تفصیل بھی ہم کچھ دیر میں دے دیں گے۔

اس موقع پر صحافی کی جانب سے ان سے سوال کیا گیا کہ دباؤ کس کی جانب سے ڈالا گیا تو اس پر محمد زبیر نے جواب دیا کہ ’آپ کیا سوئٹزرلینڈ میں رہتے ہیں‘، اس کی تفصیل ہم جلد ہی دے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے وکلا اس وقت عدالت میں موجود ہیں جبکہ اگر آپ کو کوئی ڈر خوف نہیں تو مجھے سابق گورنر ہوتے ہوئے بھی تھانے کے اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔

محمد زبیر کا کہنا تھا کہ کیپٹن (ر) صفدر کو کن حالات میں رکھا ہے یہ ہمارا حق بنتا ہے لیکن نہ مجھے اور نہ وکلا کو اندر جانے نہیں دے رہے۔

محمد زبیر کا حامد میر کی ٹوئٹ کی تصدیق و تردید سے انکار

دوسری جانب معروف صحافی حامد میر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ کی جس میں لکھا کہ ’بدقسمت واقعہ، حکومت سندھ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر کو بتایا کہ آئی جی سندھ کو صبح 4 بجے اغوا کیا گیا اور انہیں سیکٹر کمانڈرز کے دفتر میں لایا گیا جہاں ایڈیشنل آئی جی پہلے سے موجود تھے اور انہیں کیپٹن (ر) صفدر کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے پر مجبور کیا گیا‘۔

ادھر مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر سے جب حامد میر کی اس ٹوئٹ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس کی تصدیق و تردید نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ ایک، آدھ گھنٹے میں تفصیلات کے بارے میں بتائیں گے۔

محمد زبیر کا کہنا تھا کہ حامد میر کی ٹوئٹ سے متعلق ان سے پوچھیں، ساتھ ہی انہوں نے پولیس افسران سے رابطہ ہونے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پولیس افسران سے بات ہوئی ہے۔

کیپٹن (ر) صفدر سے ملنے نہ دینے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ’ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے‘۔

وہیں صحافی مرتضیٰ علی شاہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں ممکنہ طور پر محمد زبیر کی ایک آڈیو شیئر کی۔

صحافی کی جانب سے شیئر کردہ آڈیو میں محمد زبیر کا کہنا تھا کہ ’مراد علی شاہ نے انہیں ابھی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے پہلے آئی جی سندھ پولیس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی کہ وہ گرفتاری کے لیے بھیجیں‘۔

ممکنہ طور پر محمد زبیر کی آڈیو میں کہا گیا کہ ’جب انہوں نے اس سے انکار کیا تو رینجرز نے 4 بجے اغوا کیا ہے اور مجھے وزیراعلیٰ نے یہی بات کہی، میں نے ان سے اغوا کے لفظ پر دوبارہ پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ جی انہیں اٹھایا گیا اور سیکٹرز کمانڈر کے آفس لے گئے جہاں ایڈیشنل آئی جی موجود تھے جبکہ انہیں آرڈر جاری کرنے پر مجبور کیا‘۔

آڈیو کے مطابق ’رینجرز والے پولیس والوں کے ساتھ گئے ہیں اور انہوں نے کہا کہ آپ اندر جائیں’۔

کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بتایا تھا کہ ’پولیس نے کراچی کے اس ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑا جہاں میں ٹھہری ہوئی تھی اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کو گرفتار کرلیا‘۔

پولیس کی جانب سے یہ گرفتاری بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے تقدس کو پامال کرنے کے الزام میں مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر 200 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد سامنے آئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سندھ حکومت کی ہدایت پر نہیں ہوئی، سعید غنی

کراچی کے ضلع شرقی کے پولیس تھانہ بریگیڈ میں وقاص احمد نامی شخص کی مدعیت میں مزار قائد کے تقدس کی پامالی اور قبر کی بے حرمتی کا مقدمہ درج کروایا گیا تھا۔

مذکورہ مقدمہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر 200 نامعلوم افراد کے خلاف قائداعظم مزار پروٹیکشن اینڈ مینٹیننس آرڈیننس 1971 کی دفعات 6، 8 اور 10 اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 506-بی کے تحت درج کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر میں مدعی نے دعویٰ کیا تھا کہ کیپٹن (ر) صفدر اور ان کے 200 ساتھیوں نے مزار قائد کا تقدس پامال، قبر کی بے حرمتی، جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں اور سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ کی۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور دیگر رہنما 18 اکتوبر کو اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے میں شرکت کے لیے کراچی پہنچے تھے۔

باغ جناح میں ہونے والے جلسے میں شرکت سے قبل رہنماؤں اور کارکنان نے مزار قائد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی تھی، جیسے ہی فاتحہ ختم ہوئی تو قبر کے اطراف میں نصب لوہے کے جنگلے کے باہر کھڑے مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے مریم نواز کے حق میں نعرے لگانے شروع کیے تھے، جس پر کیپٹن (ر) صفڈر نے بظاہر مزار قائد پر اس طرح کے نعرے لگانے سے روکنے کا اشارہ کر کے ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ لگایا جبکہ یہ بھی مزار قائد کے پروٹوکول کے خلاف تھا۔

اس دوران مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنما خاموش کھڑے رہے لیکن کیپٹن (ر) نے ایک اور نعرہ لگانا شروع کردیا ’مادر ملت زندہ باد‘ اور ہجوم نے بھی اس پر جذباتی رد عمل دیا۔

یہ صورتحال چند لمحوں تک جاری رہی تھی جس کے بعد مریم نواز اور دیگر افراد احاطے سے نکل گئے تھے۔