ملک کے 10 فیصد شکست خوردہ لوگ پاک فوج اور اداروں پر تنقیدکرتے ہیں، شیخ رشید

اپ ڈیٹ 24 اکتوبر 2020

ای میل

وزیر ریلوے شیخ رشید نے پریس کانفرنس کی— فائل فوٹو: ڈان نیوز
وزیر ریلوے شیخ رشید نے پریس کانفرنس کی— فائل فوٹو: ڈان نیوز

وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ملک کے 90 فیصد عوام پاک فوج سے پیار کرتے ہیں جبکہ 10 فیصد شکست خودرہ اور مایوس لوگ پاکستانی فوج اور اس کے اداروں پر تنقید کرتے ہیں۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 12 تاریخ کو مزید 8 ٹرینوں کی نجکاری کرنے جارہے ہیں جبکہ 30 نومبر سے ساڑھے 4 بجے والی ریل کار کو دوبارہ بحال کرنے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی 90 فیصد قوم پاک فوج اور اس کے اداروں سے پیار کرتے ہیں، 90 فیصد لوگ پاک فوج کو پاکستان کی عظمت اور جمہوریت کے استحکام کا نشان سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 90 فیصد لوگ مصبیت کے وقت پاک فوج کی مدد اور سرحدوں پر جان دینے پر سلام پیش کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: شیخ رشید نے نواز شریف سے 10 سوالوں کا جواب مانگ لیا

تاہم شیخ رشید نے کہا کہ 10 فیصد شکست خوردہ، مایوس اور ناکام لوگ، جن کے بچوں کی شہریت تو غیر ملکی ہے اور خود اقاموں پر ہے وہ پاکستانی فوج اور اداروں پر تنقید کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج پر تنقید کرنے والے ملک دشمن ایجنڈے پر کام کرتے ہیں جبکہ ملک کی ترقی کے نشان سی پیک میں روڑے اٹکانے والی قوتیں موجود ہیں۔

دوران گفتگو وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس پاکستان نے جو ملک میں 120 نیب عدالتوں کے قیام کا حکم دیا ہے، اس سے بھی ملک میں جمہوریت کامیاب ہوگی۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی آرگنائز ہوگئی ہے، اس کے پاس بھارتی پیسہ اور سرمایہ کاری ہے جبکہ میں کوئٹہ اور پشاور کے جلسے کے لیے دعا گو ہوں لیکن ملک میں بہت بڑا سانحہ رونما ہوسکتا ہے اور ملکی سیاست میں اکھاڑ پچھاڑ ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کے لیے عملی طور پر لوگ پاکستان میں داخل ہوگئے ہیں اور اس دہشت گردی کو روکنا بھی ہمارے فرائض میں شامل ہے۔

اس موقع پر شیخ رشید نے اپنی کی گئی باتوں کو سیاسی تجزیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ میری باتوں کو یہ نہ سمجھا جائے کہ میرے پاس معلومات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض لوگ کہہ رہے کہ عمران خان دسمبر یا جنوری میں جارہا ہے لیکن عمران خان کہیں نہیں جارہا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر جلسے، جلوسوں سے جاتے تو ہم نے جو 126 دن کا دھرنا دیا تھا تو حکومت چلی جاتی۔

شیخ رشید نے کہا کہ اصل مسئلہ مہنگائی ہے لیکن مجھے امید ہے کہ عمران خان 4 ہفتوں میں اس پر قابو پائیں گے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے عمران خان نے خود کہا ہے کہ میں مشاورت کے لیے تیار ہوں لیکن این آر او یا کرپشن کے کیس پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔

انہوں نے کہا کہ سیاست دان پچھتائیں گے کیونکہ سیاست میں مذاکرات یا مشاورت ختم نہیں کی جاسکتی، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ جلسوں سے یہ حکومت جارہی ہے تو یہ کہیں نہیں جارہی۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ میں نے بھی ایک تاریخ دی ہے کہ 31 دسمبر سے لےکر 20 فروری تک جھاڑو پھر جائیں گا اور جو لوگ خود کو پہلوان سمجھ رہے وہ ٹارزن کی پکڑ میں ہوں گے۔

اس موقع پر سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاست دان ہر وقت الیکشن کے لیے تیار ہوتا ہے اور چھوتے سال تک انتخاب لڑنے والے میدان میں ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج اور جمہوری حکومت ایک پیج پر ہے، یہ پیج جمہوریت کی کامیابی کی نشاندہی کا پیج ہے جبکہ فوج نے بھی کہا ہے کہ جو بھی منتخب حکومت ہوگی ہم اس کے ساتھ ہیں۔

وزیراعظم سے متعلق شیخ رشید نے کہا کہ عمران خان کی پوری کوشش ہے کہ نواز شریف کو واپس لایا جائے، اس میں وہ کتنے کامیاب ہوتے ہیں یہ دیکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے پاکستان آکر غلطی کی، ان کا کیس سنگین ہے، جو انہوں نے تجزیہ کیا ہو درست نہیں تھا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس سے متعلق فیصلے پر انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کا ہر فیصلہ درست ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عسکری قیادت سے مسلم لیگ (ن) کی ایک نہیں 2 ملاقاتیں ہوئیں، شیخ رشید

سیاست پر مزید بات کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا کہ پیپلزپارٹی بہتر سوچ پر کھیل رہی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) فرنٹ فٹ پر آگئی ہے لیکن میری رائے ہے کہ پی پی وقت آنے پر پی ڈی ایم کے وہ فیصلے قبول نہیں کرے گی جس سے جمہوریت کو خطرہ ہو۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے 10 مہینے اور نواز شریف نے ایک سال انتظار کیا لیکن جب بات نہیں بنی تو ان کے پاس میدان میں آنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں تھا۔

آرمی چیف اور بلاول بھٹو کے درمیان ٹیلی فونک رابطے پر انہوں نے کہا کہ ادارے سب کے ہیں اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے فون کرکے اچھا کیا۔

علاوہ ازیں شیخ رشید نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران سید کے لاپتا ہونے کی مذمت کی اور کہا کہ انہیں بازیاب کرایا جائے۔

انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اداروں سے تصادم کی سیاست ان کی سیاست کو ختم کردے گی۔