آئین کے خلاف آرڈیننس کو رد کیا جاسکتا ہے، رضا ربانی

اپ ڈیٹ 25 اکتوبر 2020

ای میل

چیف جسٹس اطہر من اللہ کی ہدایت کے جواب میں رضا ربانی نے 61 صفحات پر مشتمل رپورٹ جمع کروائی — فائل فوٹو: اے ایف پی
چیف جسٹس اطہر من اللہ کی ہدایت کے جواب میں رضا ربانی نے 61 صفحات پر مشتمل رپورٹ جمع کروائی — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: سابق چیئرمین سینیٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما میاں رضا ربانی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ آئین کی دفعہ 89 کی شرائط پوری کیے بغیر جاری کردہ آرڈیننس کو ردکیا جاسکتا ہے۔

عدالت میں 'حد سے زیادہ' آرڈیننس نافذ کرنے کے خلاف دائر درخواست میں عدالتی معاون سینیٹر رضا ربانی نے عدالت کو بتایا کہ جب کسی آرڈیننس کو اس کے نفاذ کے لیے آئین کی دفعہ 89 میں موجود شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نافذ کیا جاتا ہے تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہوئی جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور اسے ختم کیا جاسکتا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے قانون ساز بیرسٹر محسن شاہنواز رانجھا کی دائر کردہ درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی ہدایت کے جواب میں رضا ربانی نے 61 صفحات پر مشتمل رپورٹ جمع کروائی۔

یہ بھی پڑھیں: دوسرے پارلیمانی سال میں حکومت کے آرڈیننس کی تعداد قانون سازی سے زیادہ

پٹیشن میں کہا گیا تھا کہ صدر کو آئین کی دفعہ 89 کے تحت آرڈیننس نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہے جو 2 خصوصی صورتحال میں کی جانے والی عارضی قانون سازی ہوتی ہے اس میں ایک صورت یہ ہے کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس نہ ہورہا ہو یا دوسری صورت میں حالات اس بات کے متقاضی ہوں کہ فوری طور پر ایکشن لیا جائے۔

رپورٹ میں رضا ربانی نے کہا کہ آرڈیننس ایک عارضی قانون سازی ہے جو صدر اس وقت کرسکتے ہیں جب پارلیمان کے اجلاس نہ ہورہے ہوں۔

ان کے مطابق آئین کی دفعہ 89 کے تحت صدر کو دیا گیا اختیار پارلیمان کو قانون سازی کے لیے حاصل اختیار سے منسلک ہے، آئین کی دفعہ 89 کی شق 2 کہتی ہے کہ ایک آرڈیننس وہی اثر رکھتا ہے جو پارلیمان کے ایکٹ کا ہوتا ہے اور انہی پابندیوں کے تابع ہوگا جو پارلیمان کی قانون سازی پر عائد ہوتی ہیں۔

سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ '1973 کے آئین کی دفعہ 89 میں دیا گیا اطمینان صدر کیا اطمینان ہے کہ وہ کابینہ کے مشورے پر عمل کریں گے'۔

مزید پڑھیں: آرڈیننس کے نفاذ کا صدارتی اختیار محدود کرنے کا بل سینیٹ میں جمع

انہوں نے مزید کہا کہ دفعہ 70 سے 80 تک سے آئین کا غیر واضح ارادہ سامنے آتا ہے کہ قانون سازی لازمی طور پر پارلیمان کا دائرہ اختیار ہے اس لیے صدر کو غیر معمولی صورتحال میں قانون سازی کا محدود اختیار دیا گیا ہے تاکہ پارلیمان کی چھٹیوں کے دوران ناگزیر اور سنگین حالات سے نمٹا جاسکے۔

قبل ازیں درخواست گزار نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ 1947 سے ملک کے قیام کے بعد سے اب تک ڈھائی ہزار سے زائد آرڈیننس نافذ کیے جاچکے ہیں۔

درخواست گزار کے مطابق آرڈیننس اس قسم کی قانون سازی کے لیے استعمال ہوسکتا ہے جو جنگ، قحط، عالمی وبا یا بغاوت کی صورتحال میں پاکستان کے عوام کی زندگی، آزادی یا املاک داؤ پر لگی ہونے کی صورت میں وفاقی حکومت کو رد عمل دینے کے لیے ضروری ہو۔

دوسرا یہ کہ پارلیمان کے آخری اجلاس کے بعد پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کا جواب دینا ہو یا ایسی صورت میں کہ جہاں پارلیمان کا آئندہ اجلاس بلانے تک کے انتظار میں پاکستان کے عوام کی جانوں، املاک یا آزادی کو ناقابل تلافی تقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔